• صارفین کی تعداد :
  • 3544
  • 6/6/2010
  • تاريخ :

فٹبال ورلڈ کپ:پاکستان کی بنی گیندوں کو ”ریڈ کارڈ “ دکھا دیا گیا

گیند

افریفی ٹیمیں فٹ بال ورلڈکپ 2010ء جیتنے کی خواہشمند

فٹبال ورلڈکپ2010 ء کے لیۓ  برازیل ٹیم کی مشکلات میں اضافہ

سیالکوٹ: عالمی سطح پر پاکستانی فٹبالرز توکوئی کمال نہ دکھا سکے لیکن کھیلوں کے سامان کی تیاری کے لیے دنیا بھر میں مشہور سیالکوٹ میں بنائی جانے والی فٹ بالزایک دہائی قبل تک دنیا بھرکے میدانوں میں راج کرتی تھیں۔ 1982میں اسپین میں منعقدہ ورلڈکپ میں سیالکوٹ کی تیارکردہ فٹبال جسے”ٹینگو“کا نام دیا گیا تھا، نے دنیا بھر میں تہلکا مچادیا اور سیالکوٹ کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی۔جس کے بعد سیالکوٹ کی ہاتھ سے بنی گیندوں کی مانگ میں اضافہ ہوا۔ لیکن چند برس قبل سیالکوٹ کو چائلڈ لیبر کا ریڈ کارڈ دکھا کر اس کی بنائی جانے والی فٹبالز کا بائیکاٹ کر دیا گیا۔ 1996 میں انگلینڈ میں جاری چیمپیئنز لیگ کے دوران سماجی کارکنوں نے میچز کے دوران چائلڈ لیبر کے خلاف مظاہرے کیے اور موقف اختیار کیا کہ سیالکوٹ میں فٹبال کی صنعت میں بچوں سے مزدوری کرائی جاتی ہے لہٰذا ان کی بنائی ہوئی فٹبالز کا بائیکاٹ کیا جائے۔ جس کے بعد 1997 میں ایٹلانٹا معاہدے کے تحت سیالکوٹ سے فٹبالزکی درآمدات کو بند کر دیا گیا۔ ورلڈکپ 2010 ء کیلئے استعمال کی جانے والی گیند کو معروف کمپنی نے چین میں تیار کروایا ہے اور اسے جابولانی کا نام دیا گیا ہے کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ اب تک کی بہترین گیند ہے واضح رہے کہ فٹبالز کی ضروریات کا 70 فیصد سیالکوٹ پورا کرتا تھا جو اب کم ہوکر 20 فیصد رہ گیا ہے۔ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق سالانہ 40ملین گیندیں برآمدکی جاتی تھیں جن کی مالیت 210 ملین ڈالرز کے برابر ہے۔ پابندی کے باعث صنعت میں کام کرنے والے 60 ہزار مزدوروں کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور فٹبال کی صنعت زبوں حالی کا شکار ہوگئی ہے۔ سیالکوٹ میں فٹبالز ہاتھ کی سلائی سے تیار ہوتی تھیں، پابندی کے بعد اب چین میں ایک غیر ملکی کمپنی مشین پر فٹبالز تیار کرتی ہے۔سیالکوٹ میں اس صنعت سے وابسطہ افراد کا کہنا ہے کہ اپنی بنائی ہوئی فٹبال سے دنیا کے بہترین فٹبالرز کو کھیلتا دیکھ انہیں فخر محسوس ہوتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ہماری معاونت کرے تو ہم عالمی سطح پر ایک بار پھر اپنا سکہ جما سکتے ہیں۔

ورلڈکپ 2010 ء میں حصّہ لینے والے فٹ بال کھلاڑیوں نے میگا ایونٹ کے لیۓ متعارف کرائی جانے والی نئی گیند کی مخالفت کر دی ہے ۔ عالمی نمبر دو اسپین فٹ بال ٹیم کے کپتان اور گول کیپر آئیکر کا سیلاس کا کہنا ہے کہ ورلڈکپ 2010 ء کی آفیشل گیند " جابولانی " غیر معیاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میگاایونٹ کے لیۓ اس قدر خراب گیند استعمال کرنا افسوس ناک  ہے ۔ اس گیند کی رفتار بہت تیز ہے جس کے باعث کھلاڑیوں کا بال پر گرفت بنانا بہت مشکل ہو گا ۔ اس بال کو چین میں تیّار کیا گیا ہے ۔ " جابولانی "  یعنی خوشی منانا  مگر افسوس کہ کوئی بھی اس سے خوش نہیں ہے ۔ برازیلی اسٹرائیکر فابیانو کا کہنا ہے کہ گیند عجیب و غریب ہے ، اچانک سے اپنا مدار تبدیل کر لیتی ہے ۔ کچھ ہی دنوں میں ورلڈکپ 2010 ء کا میلہ لگنے والا ہے ۔ اب دیکھنا یہ  ہے کہ یہ قیاس آرائیاں کہاں تک سچ ہیں اور کہاں تک جھوٹ ۔