• صارفین کی تعداد :
  • 2918
  • 5/27/2010
  • تاريخ :

حدیث  ثقلین کی افادیت (حصّہ سوّم)

بسم الله الرحمن الرحیم

حقیقت یہ ھے کہ قرآن و عترت سے متمسک رھنا ھر مسلمان پر واجب ھے ایک کو چھوڑ کر دوسرے سے متمسک رھنا غلطی ھے۔ کیونکہ ان دونوں سے متمسک رھنے کے لئے حدیث ثقلین میں حکم آیا ھے۔

جس طرح لوگوں کو اس بات کا حکم دیا گیا کہ قرآن سے متمسک رھیں اسی طرح سے حکم دیا گیا کہ عترت سے جڑے رھیں۔

بعض روایات میں آیا ھے کہ تمھارے درمیان تمام حقیقتوں کو چھوڑ کر جارھا ھوں اگر ان سے متمسک رھے اور وابستہ رھے تو میرے بعد ھر گز گمراہ نھیں نہ ہوگے۔

کتاب خدا شب و روز تمھارے پاس ھے جس میں وہ سب کچھ ھے جس سے تم محبت کرتے ہو اور جو کچھ تم چاھتے ہو۔ (1)

اب قرآن کی طرف رجوع کرنے اور اس سے متمسک رھنے کا حکم اس بات کا غمازھے کہ قرآن ایک واضح اور روشن بیان کرنے والا اور قطعی جواب دھندہ ھے۔ امت مسلمہ کا قرآن سے تمسک صحیح نھیں ھے مگر صرف اس حد تک کہ ظورھر قرآن دلیل و حجت ھیں۔ اور ظواھر و محکمات قرآن ھر حال میں ھدایت و نور ھیں۔ اگر چہ آیات کی تفصیل اور تفسیر پیغمبر اور عترت پیغمبر کے ذمہ ھے، لھٰذا ظاھر قرآن و ضاحت اور تفصیل کی منزلوں میں نھیں ھے جیسے خصوصیات و کیفیت نماز، زکات، حج وغیرہ۔

اسی طرح سے مراتب معارف کی تعیین، اخلاقی۔ اجتماعی مسائل، قرآن کی (تفسیر بھی ) عترت آل عليهم السلام کے ذمہ ھے۔

بھر حال آل محمد عليهم السلام سے متمسک رھنے سے قرآن کو چھوڑ دینے کا قطعی جواز نھیں بنتا۔ کیونکہ عترت آل محمد عليهم السلام نے احادیث میں اختلاف کی صورت میں قرآن ھی کو معیار بنایا ھے اور روایات و احادیث کی صحت و صواب کے لئے قرآن کی جانب رجوع کیا ھے۔ اس رو سے قرآن کی جانب رجوع کرنے اور اس سے روشنی طلب کرنے کی تاکید کی گئی ھے، اوراس طرح کی تاکید قرآن کی تلاوت اور اس کے بارے غوروفکر کرنے کی ان کی روشوں سے جدا ھے۔

اس سلسلے میں حضرت امیر المو منین عليه السلام کا بیان کافی ہوگا۔

آگاہ ہو جاوٴ کہ قرآن ایسا نصیحت کرنے والا ھے جو کبھی فریب نھیں دیتا ایسا ھدایت کرنے والا ھے جو گمراہ نھیں کرتا۔ اور ایسا سخنور ھے جو جھوٹ نھیں بولتا جو کوئی اس کاھم نشین ہوگا وہ زیادتی اور نقصان کے ساتھ اس کے پھلو سے الٹے گا۔ ھدایت میں زیادتی ہوگی جھل اور کور دلی میں کمی۔

اس بات کو جان لو کہ جو کوئی قرآن رکھتا ہوگا وہ فقر بیچارگی سے محفوظ ہوگا، کوئی بھی اس سے قبل غنی اور بے نیاز نھیں ہو سکتا۔ لھٰذا قرآن سے اپنے لئے شفا اور بھبود ی طلب کرو۔

مصائب کی برترفی اور مشکلات میں کامیابی کے لئے قرآن کی مدد حاصل کرو کیونکہ قرآن میں کفر ونفاق وگمراھی وضلالت جیسی بڑی سے بڑی بیماری کا علاج موجود ھے۔ لھٰذا جو کچھ بھی چاھتے ہو قرآن کے وسیلہ سے طلب کرو۔

اور قرآن سے دوستی کر کے خدا کی جانب متوجہ ہو۔ کتاب خدا کے توسل کے علاوہ مخلوقات سے کچھ بھی نہ مانگو۔(قرآن کو اپنی مادی آرزووٴں کے توسل کا وسیلہ نہ بناوٴ)۔ کیونکہ بندے اس کے توسل سے جو تقرب خدا حاصل کریں گے وہ اس سے زیادہ لائق احترام ہوگا۔

یہ بات جان لو کہ قرآن ایسا شفاعت کرنے والا ھے کہ جس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور ایسا متکلم ھے جس کی باتوں کی تصدیق ہوگی۔

قرآن جس کی شفاعت کرے اس کی شفاعت ہو جائے گی اور جس کے خلاف شکایت کرے گا اس کی شکایت سنی جائے گی۔(2)

ھمارے امام اور پیشوا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ھیں کہ: تین افراد کی شکایت خدا کے نزدیک سنی جائے گی، ۱۔وہ ویران مسجد جس میں نماز نہ ادا کی جاتی ہو، ۲۔ایسا علم جو کہ جاھلوں کے درمیان زندگی بسر کر رھا ہو، ۳۔اور وہ قرآن جو غبار آلود ہو اور اس کی تلاوت نہ کی جاتی ہو۔ (3)

نیز آپ نے فرمایا:درحقیقت قرآن رھنمائے ھدایت اور تاریکی میں روشن چراغ ھے لھٰذا تیز بین شخص کو چاہئے کہ وہ اس میں دقت سے کام لے اور اس کی روشنی سے مستفید ہونے کے لئے اپنی آنکھیں کھولے۔ کیونکہ اس میں تفکر اور تعقل ایک اھل دل کے لئے زندگی وحیات ھے۔ اس لئے کہ اندھیرے میں چلنے والا انسان روشنی ھی کے ذریعہ منزل مقصود تک پھنچتا ھے،

اب اس بات کی طرف آپ کی تو جہ ضروری ھے کہ اگر کوئی شخص صرف ذکر آل محمد عليهم السلام پر اکتفا کرتا ھے اور قرآن کے اوامر ونواھی پر کان نھیں دھر تا تو گویا ایسے شخص نے اھل بیت عليهم السلام سے صحیح تمسک نھیں کیا ھے کیونکہ۔ اھل بیت عليهم السلام قرآن کوھمیشہ ھمیشہ چھور دینے پر کبھی اور قطعی راضی نھیں ھیں۔

اور یہ بات بھی ذھن نشن رھنی چاھیٴے کہ اھل بیت عليهم السلام نبی کو چھوڑ کر قرآن پر اکتفا کرنا بھی کسی حال میں صحیح نھیں ھوگا۔

اس لئے کہ تاویل و تفسیر قرآن کریم آل محمد عليهم السلام کے پاس ھے اس کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ قیام عدل، تربیت وتزکیہ نفس اختلافات کی برطرفی اور ان کے مانند دوسرے امور میں عترت رسول اکرم (ص) کی قطعی محتاج ھے۔

اس سے بڑھ کر یہ کہ آل محمد عليهم السلام کو چھور کر تنھا قرآن سے تمسک کافی نھیں ھے اس لئے کہ خود قرآن میں آیا ت ولایت ان کی اطاعت ومودت کو واجب قرار دیتی ھیں۔ اور ( قرآن واھل بیت عليهم السلام ) ان دونوں میں سے ھر ایک، جیسا کہ بعض احادیث میں اس کی وضاحت کی گئی ھے، ایک دوسرے کے لئے خبر دینے والے اور ایک دوسرے کو موافق و شانہ بشانہ ھیں۔ (4)

بھر کیف ان دونوں سے تمسک واجب ھے اور اس پر حدیث ثقلین میں تاکید بھی کی گئی ھے اور یہ بیان کہ (اگر ان دونوں سے متمسک رھے تو ھر گز گمراہ نھیں ہوگے)

اور اس کے مانند دوسری روایات میں کئی مقامات پر اس کا تذکرہ کیا گیا ھے۔

حوالہ جات:

1- ارجح المطالب صفحہ ۳۴۱ ہور نقل از کتاب احقاق الحق جلد ۹ صفحہ ۱۳۷

2-  نھج البلاغہ ترجمہ فیض الاسلام خطبہ ۱۷۶۔

3-  اصول کافی جلد ۲ صفحہ ۴۴۹۔

4-  غایة المرام صفحہ۲۲۶ روایت ۳۶۔


متعلقہ تحریریں:

سلسلہٴ سند حدیث ثقلین (حصہ اوّل)

سلسلہٴ سند حدیث ثقلین (حصّہ دوّم)

حدیث ثقلین سے استدلال