• صارفین کی تعداد :
  • 1955
  • 5/12/2010
  • تاريخ :

ترویج اذان؛ اھل سنت كی نظر میں (حصّہ چهارم)

مینار

ہمارے نزدیك یہ تمام روایات كئی وجھوں سے اپنے مدعا پر دلیل بننے كی صلاحیت نہیں ركھتی۔

پھلی وجہ: ان روایات كا منصب رسالت سے سازگار نہ ھونا۔

خداوند عالم نے اپنے رسول كو مبعوث كیا تاكہ وہ لوگوں كے ساتھ نماز كو اس كے وقت میں قائم كریں اور اس كا لازمہ یہ ہے كہ خداوند عالم اس كو انجام دینے كی كیفیت سے بھی آگاہ كرے۔

لھٰذا نبی اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم كا اس سلسلہ میں بھت دنوں (یا ایك روایت كے مطابق بیس دن) تك حیران و پریشان رھنا كیا معنیٰ ركھتا ہے، كہ وہ اس ذمہ داری كو ادا كرنے كے طریقے سے نا واقف ھوں جو ان كے كاندھوں پر آ چكی ہے؟؟ اور اپنے مقصود كو حاصل كرنے كے لئے ھر كس و ناكس سے مدد مانگتے پھریں۔ جب كہ نص قرآنی (كان فضل اللہ علیك عظیماً) 1 كے مطابق سب پر آپ كی فوقیت مسلم ہے۔ یھاں پر فضل سے مراد علمی برتری ہے جو سیاق آیت (و علّمك ما لم تكن تعلم) 2 سے واضح ہے۔ اور پھر نماز و روزہ عبادتی امور ہیں، جنگ و جدال كی طرح نہیں كہ جن كے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے بعض اصحاب سے مشورہ فرمایا كرتے تهے۔ اور یہ مشورہ بھی اس لئے نہیں ھوتا تھا كہ آپ بھتر طریقہ نہیں جانتے تهے، بلكہ یہ لوگوں كو متوجہ كرنے اور ان كی تشویق كے لئے ھوتا تھا۔ جیسا كہ خداوند عالم كا ارشاد ہے (ولو كنت فظّاً غلیظ القلب لا نفضوا من حولك فاعف عنہم و استغفرلہم وشاورہم فی الامر فاذا عزمت فتوكل علی اللہ) 3 "اے رسول! اگر تم بد مزاج اور سخت دل ھوتے تو یہ لوگ تمھارے پاس سے بھاگ كھڑے ھوتے۔ لھذا اب انہیں معاف كردو، اور ان كے لئے استغفار كرو اور جنگی امور میں ان سے مشورہ كرو اور جب ارادہ كرلو تو اللہ پر بھروسہ كرو۔"

كیا یہ شرم كی بات نہیں كہ دینی امور میں عوام كے خواب و خیالات كو مصدر قرار دیا جائے؟ اور وہ بھی اذان و اقامت جیسی اہم عبادتوں كے لئے!! كیا یہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كی شان میں گستاخی اور ان پر بھتان نہیں ہے؟

معلوم ھوتا ہے كہ یہ روایت عبداللہ بن زید كے قبیلہ والوں نے گڑھی ہے، اور اس خواب كو خوب مشھور كیا، تاكہ فضیلت ان كے قبیلہ كے نام ھوجائے۔ لھذا ہم بعض مسندات میں دیكھتے ہیں كہ اس حدیث كے راوی وھی ہیں۔ اور اس سلسلہ میں جس نے بھی ان پر اعتماد كیا، وہ ان سے حسن ظن كی بنیاد پر كیا ہے۔

حوالہ جات:

1. آپ پر خدا كا بھت بڑا فضل ہے۔ (سورۂ نساء: ۱۱۳)

2. اور آپ كو ان تمام باتوں كا علم دے دیا ہے جن كا علم نہ تھا۔ (سورۂ نساء: ۱۱۳)

3. سورۂ آل عمران: 159

 

مؤلف: شیخ عبد الامیر سلطانی

مترجم: علی قمر