• صارفین کی تعداد :
  • 2346
  • 5/16/2010
  • تاريخ :

رسالت کا گُلِ معطر (حصّہ پنجم)

حضرت فاطمہ(س)

رسول اللہ (ص) کے نزديک بي بي فاطمہ (س) کا درجہ:

پيغمبر اکرم (ص) کے نزديک بي بي فاطمہ (س) انسان کي شکل ميں حور، فرشتوں کے ساتھہم سخن ہونے والي ذات (محدثہ)، باغِ رسالت کا گُلِ معطر، رسول اللہ (ص) کا پارہ وجود، قلبِ نبي (ص)، محبوبِ حبيب خدا، آپ (ص) کے نزديک عزيز ترين شخصيت ہيں اور آپ (ص) کي ذات رسالت کے شجرِ مقدس اور وجودِ رسول (ص) سے ہے۔ آپ (س) ايمان کے عظيم ارکان ميں سے ايک رُکن، کشتيِ نجات، رازِ خلقت، حق کو باطل سے جداکرنے کا معيار، اور فکر و گفتار و کردار و صورت و سيرت ميں پيغمبر اکرم(ص)سے سب سے زيادہ شباہت رکھنے والي شخصيت تھيں۔ ان سے محبت، اللہ کے رسول (ص) سے محبت اور ان کي زيارت کا اجر اللہ کے نبي (ص) کي زيارت کے اجر کي طرح ہے۔ آپ (س) کے آسماني راستے پر چلنے والوں کو نجات اور کاميابي کي نويد سنائي گئي ہے۔ سخنِ رسول (ص) کے مطابق يہ ايسي خاتون ہيں جو امير المومنين علي(ع) کے برابر قرار دي گئي ہيں اور ايک ايسا نوراني چشمہ کوثر ہيں جس کے دل کو خدا نے يقين سے سرشار کر ديا ہے۔

(يہ جملات احاديث سے لئے گئے ہيں۔ ان کے لئے رجوع کيجئے: بحار الانوار، اصولِ کافي، رياحين الشريعہ، مناقب الزہرا،فاطمہ الزہرا (س) شادماني دل پيامبر (ص)، پاسدارِ اسلام، فاطمہ الزہرا (س)، سفينہ البحار، فضل فاطميہ وغيرہ)

رسول اللہ (ص) کا بي بي فاطمہ (س) کو پيار کرنا:

بي بي فاطمہ (س) نے اپني عقلِ کامل کے سائے ميں دوستي و دشمني، پسند و ناپسنداور احساسات کے ہر جلوے ميں الہي معيار مقرر کئے تھے۔ اسي لئے آنحضور (ص) اپني بيٹي کو بہت زيادہ پيار کيا کرتے تھے۔ آپ (ص) بي بي کي پيشاني پر بوسہ ديتے جو کہ سيدہ (س) کي فکر کي تائيد ہے اور ہاتھوں کو چومتے تاکہ يہ بتا ديں کہ ميري بيٹي کا ہر عمل اور ہر کام مجھے قبول ہے۔ جس نے اس کي فکر کي مخالفت کي اس نے مجھ سے دشمني کي۔

نبي اکرم (ص) سے فاطمہ (س) کي محبت:

حضرت سيدہ (س) کو آنحضور (ص) سے دو قسم کي محبت تھي: آپ (س) رسول اللہ (ص) کو سب سے پيارا اور مکمل ترين باپ سمجھتي تھيں اور بيٹي کي حيثيت سے محبت کے پھول نچھاور کرتي تھيں۔ اس کے ساتھ بي بي سيدہ (س) رسول اللہ (ص) کي امت کا حصہ بھي تھيں اور نبي اکرم (ص) کو عظيم ترين مخلوق اور سردارِ انبياء سمجھتي تھيں۔  عائشہ کہتي ہيں: جب کبھي رسول اللہ (ص) فاطمہ (س) کے پاس تشريف لاتے تو آپ (س) بابا کے احترام ميں اٹھ کھڑي ہو جاتيں اور ہاتھوں پر بوسہ دے کر اپني جگہپر بٹھاتيں۔ رسولِ خدا (ص) اور بي بي فاطمہ سلام اللہ عليہا کے درميان محبتکے جذبات کو بخوبي بيان کرنے والي احاديث ميں سے ايک روايت ميں آيا ہے کہ: جنگ اُحد کے دوران جب بي بي فاطمہ اور آپ (ص) کي پھوپھي بي بي صفيہ رسول اللہ کے نزديک آئيں تو آپ (ص) نے علي (ع) سے فرمايا: ميري پھوپھي کو مجھ سے دور رکھو ليکن فاطمہ (س) کو نہ روکنا۔ حضرت سيدہ (س) نے جب آنحضرت (ص) کے زخمي بدن اور خون آلود چہرے کو ديکھا تو چلا اٹھيں اور خون صاف کرنے لگيں اور فرمايا: جس نے رسول اللہ کے چہرے کو خون آلود کيا ہے اس پر اللہ کا سخت غضب ہو۔

آدابِ فاطمہ(س):

حضرت فاطمہ زہرا (س) اپني حساس روح اور زود فہمي کي وجہ سے قوانين و آداب ِاجتماعي کا لحاظ کرنے ميں سر فہرست تھيں۔ مفسروں نے لکھا ہے کہ اس آيت کے نازل ہونے کے بعد کہ جس ميں حکم ہوا تھا کہ رسول اللہ کو اس طرح نہ پکارو جس طرح سے ايک دوسرے کو پکارا کرتے ہو، جس کا مطلب يہ تھا کہ نبي اکرم (ص) کو عام نام کے بجائے، خدا کے پسنديدہ عنوان اور ان کي رسالت کي شان کو مدنظر رکھتے ہوئے پکارا جائے، ريحانہ رسول (ص)، حضرت بتول (س) نے جو کہ آداب و تہذيب کے باغ کا معطر ترين پھول اور قرآن پر عمل کرنے ميں سب سے برتر تھيں، آپ (ص) کو کبھي بابا کہہ کر نہ پکارا بلکہ يا رسول اللہ کہتي رہيں يہاں تک کہ خود نبي اکرم (ص) نے فرمايا: يہ آيت تمہارے اور تمہارے بچوں کے لئے نازل نہيں ہوئي ہے۔ تم مجھ سے ہو اور ميں تم سے ہوں۔ تم مجھے بابا کہو کہ يہ لفظ ميرے دل کو بہتر طور پر زندہ کرتا ہے اور تمہارے پروردگار کے لئے خوشنودي کا باعث ہے۔

حضرت زہرا (س) سے رسول اللہ (ص) کي محبت:

رسول اللہ (ص) اورحضرت زہرا (س) کے درميان باہمي محبت، باپ بيٹي کي محبت سے بڑھ کر تھي۔ آپ (ص) دونوں کا باہمي رشتہ ايک روحاني تعلق تھا جس کي بنياد ان دونوں عظيم اور تعجب انگيز شخصيتوں کا ايک دوسرے کي معرفت رکھنا اور ايک دوسرے کے ساتھ ہمآہنگ ہونا تھا۔ نبي اکرم (ص) ہر روز صبح و شام دونوں گھروں کے درميان موجود کھڑکي سے، آپ (س) پر سلام کرتے اور درود بھيجتے تھے۔ اللہ کے رسول (ص) منبر و محراب ميں، کوچہ و بازار ميں، آشنا اور اجنبيوں کے سامنے اور ہر محفل و مجلس ميں بي بي فاطمہ(س) کي عظمت بيان کيا کرتے تھے۔ آپ (ص) کو بي بي فاطمہ (س) سے جدائي کي تاب نہ تھي لہذا جب کبھي سفر کے لئے تشريف لے جاتے تو سب سے آخرميں اپني بيٹي سے رخصت ہوتے اور واپسي پر سب سے پہلے آپ (س) ہي کے گھر تشريف لے جاتے۔

نبي کے سچے پيروکار:

ايک عورت اپنے شوہر کے کہنے پر بي بي فاطمہ (س) کے حضور آئي اور پوچھا کہ ميں کس طرح نبي اکرم (ص) کے پيروکاروں ميں شامل ہو سکتي ہوں؟ آپ (س) نے انفرادي جواب دينے کي بجائے آنے والي نسلوں تک کے لئے ايک معيار بيان فرما ديا او رکہا: حکمِ خدا کے مطابق جو کچھ ہم امر کرتے ہيں، اس پر سچے دل سے عمل کرو اور جن چيزوں سے ہم تمہيں خبردار کرتے ہيں ان سے پرہيز کرو تو تم ہمارے پيروکار ہو اور صحيح معني ميں ہمارے محب ہو۔ بصورتِ ديگر تم ہمارے راستے، ہماري تہذيب و ثقافت اور ہمارے دين و اخلاق سے بيگانہ ہو۔

تحرير: ليليٰ تفقُّدي

ترجمہ و تلخيص: سجاد مہدوي


متعلقہ تحریریں:

رسالت کا گُلِ معطر (حصّہ چهارم)

ہمیں خود کو پیغمبر اعظم کے خاندان سے منسوب ہونے کے لائق بنانا چاہئے