• صارفین کی تعداد :
  • 2189
  • 5/8/2010
  • تاريخ :

آیۃ اللّہ العظمی سید ابوالحسن اصفھانی

آیۃ اللّہ العظمی سید ابوالحسن اصفھانی

سید ابوالحسن سنہ ۱۲۸۴ق میں اصفھان كے ایك دیھات لنجان میں پیدا ہوئے ۔ 1 دراصل آپ بہبہان شہر كے موسوی خاندان سے تعلق ركھتے تھے ۔ انكی پیدائش سے كئی سال پہلے انكے دادا سید عبدالحمید بہبہان سے اصفھان منتقل ہوئے تھے ۔ سید عبد الحمید نجف كے بزرگ علماء اور آیت اللہ شیخ حسن نجفی معروف بہ صاحب جواھركے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے ۔ نجف سے واپس پلٹنے كے بعد اپنے آبائی وطن لنجان میں ساكن ہوئے اور آخری عمر تك وہیں تدریس اور تبلیغ كرتے رہے ۔

سید ابوالحسن كے والد سید محمد جن ایام میں جب سید عبدالحمید تحصیل علم كی غرض سے عراق میں تھے كربلا میں پیدا ہوئے ۔ اگر چہ انہیں علماء كے دائرہ میں شمار نہیں كیا جاتا لیكن وہ ایك باتقویٰ اور روشن ضمیر آدمی تھے ۔ مرنے كے بعد انہیں خوانسار شہر میں دفن كیا گیا ۔

تعلیم

سید ابوالحسن نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں لنجان میں وہاں كے مقامی عالم دین كے پاس شروع كی ۔ ابتدائی تعلیم مكمل كرنے كے بعد حوزہ علمیہ اصفھان میں داخلہ لینا چاہا ۔ اس ھدف تك پہنچنے كے لیے اپنے والد سید محمد سے مشورہ كیا لیكن باپ نے طالب علمی كے زمانے كی مشكلات كو مد نظر ركھتے ہوئے بیٹے كو حوزے میں جانے سے منع كردیا ۔ اس ركاوٹ نے دھیرے دھیرے بیٹے كے اندر تحصیل علم كے شوق كو اور بڑھا دیا اور اسے اپنے ھدف میں مستحكم تر بنا دیا ۔ یہاں تك كہ اپنے والد گرامی كو اس نورانی سفر كے لیے راضی كر لیا ۔

اصفھان میں

سید ابوالحسن چودہ سال كی عمر میں اصفھان چلے گئے اور مدرسہ صدر میں داخلہ لیا اور درس و بحث میں مشغول ہوگئے ۔ سردیوں كے زمانے میں ایك رات جب ان كے والد ان سے ملنے كے لیے آئے تو اپنے بیٹے كی غیر معمولی حالت دیكھ كر منقلب ہو گئے ان كے كمرے میں ابتدائی ضروریات كی چیزیں بھی فراھم نہیں تھیں نہ بچھانے كے لیے فرش نہ اوڑھنے كے لیے كمبل اور نہ ہی كمرے كو روشن كرنے لیے چراغ ۔ باپ كی بیٹے كی نسبت دلسوزی نے ایك بار پھر ناامید كرنے والے كلمات كے ذریعے آزردہ خاطر اور رنجیدہ دل كیا ۔ بیٹے نے اسی كیفیت كے عالم میں رو بہ قبلہ كھڑے ہو كر امام زمانہ (عج) كو مخاطب كیا اور اپنی اشكبار آنكھوں سے اپنے مولا كی خدمت میں التجا كی ۔ یہی انداز توسل كافی تھا جس نے امید كی دنیا كو اس دل بیتاب میں بسا دیا اور توفیقات الٰہی كا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ حوزہ اصفھان سے فارغ التحصیل ہونے كے بعد پر مسرت دل كے ساتھ لنجان لوٹ گئے ۔ 2

 انہوں نے حوزہ اصفھان میں درج ذیل اساتید سے كسب فیض كیا :

1۔ آیت اللہ كلباسی

2۔ آیت اللہ چھار سوقی

3۔ آیت اللہ درچہ ای ۔

اور انہیں ایام میں ادبیات عرب اور اصول و فقہ كا درس دینا بھی شروع كردیا ۔ 3

 

حوالہ جات:

1. اعيان الشيعة ، سيد محسن امين عاملى ، ج 2، ص 231.

2. مجله «نور علم»، دوره سوم ، شماره چهارم ، ص 97.

3. سابق مدرك، ص 95؛ اعيان الشيعه ، ج 2، ص 332.

 

مصنف : محمد اصغری نژاد  ( شیعہ اسٹیڈیذ  ڈاٹ نیٹ )


متعلقہ تحریریں:

آیت اللہ العظمی گلپائگانی

آیت اللہ العظمی مرعشی نجفی