• صارفین کی تعداد :
  • 2214
  • 5/5/2010
  • تاريخ :

اور اب سورۂ یوسف (ع) کی ( 62 تا 65 ) وین آيات سے جو سبق ملتے ہیں ان کا ایک خلاصہ

بسم الله الرحمن الرحیم

صلہ رحمی اور عزیز و اقارب کے ساتھ حسن سلوک کی بنیاد اس بات پر ہے کہ انسان اپنے بھائیوں اور عزیزوں کی برائیوں کے جواب میں بھی ان کی مدد و خدمت کرے ، انتقام اور کینہ و  دشمنی سے حتی الامکان پرہیز کرے ۔ اگر چہ اس راہ میں بعض اوقات خون جگر پینا پڑتا ہے ۔

جواں مردی حضرت یوسف (ع) سے سیکھنی چاہئے، اپنے بھائیوں کی بدسلوکی کو جانتے اور پہچانتے ہوئے نہ صرف یہ کہ برے وقت میں ان کو اناج دینے سے منع نہیں کیا بلکہ ان کو دئے گئے اناج کی قیمت بھی اپنے جیب خاص سے ادا کرکے ان کی پونجی، وہ بھی ان کے علم میں لائے بغیر، انہیں واپس کردی کہ انہیں احساس ندامت و حقارت نہ ہو ۔

انسان کو برے اور ناگوار حالات میں خدا پر توکل اور اعتماد کرنا چاہئے اسی سے مدد مانگنا اور اسی پر بھروسہ کرنا انسان کو سکون عطا کرتا ہے ۔

تلخ و ناگوار حادثوں کو مثال بنا کر خود پر راہ تنگ کرلینا تعلیمات انبیاء (ع) کے خلاف ہے دوسروں کو اپنی کوتاہی اور جرم و گناہ کی تلافی کا موقع دنیا خاص طور پر اولاد کو اپنی غلطی کی طرف متوجہ کرکے اپنی بھول سدھارنے کی راہ دکھانا ایک باپ کا فریضہ ہے اس سلسلے میں حضرت یعقوب (ع) اور حضرت یوسف (ع) دونوں کا کردار مثالی ہے ۔

قحط و زلزلے کی مانند بحرانی حالات میں راشن کی منصفانہ تقسیم، ولو معمولی قیمت کے ساتھ حکومت اور انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے ۔

اردو ریڈیو تہران


متعلقہ تحریریں:

سورہ یوسف ۔ع ۔ ( 61-56) ویں آیات کی تفسیر

 سورۂ یوسف (ع) کی  55 ویں آیت کی تفسیر