• صارفین کی تعداد :
  • 2887
  • 5/2/2010
  • تاريخ :

حدیث  ثقلین کی افادیت (حصّہ اوّل)

بسم الله الرحمن الرحیم

حدیث ثقلین سے حسب ذیل مطالب کا استفادہ ہوتا ھے۔

۱۔ پیغمبر اکرم کا اپنی موت کے بارے میں اطلاع دینا کہ جس پر بھت ساری رویات دلالت کرتی ھیں مثلاً آپ نے فرمایا: (میری موت نزدیک ھے اور میں اس کے لئے آمادہ ھوں ) (1)

نیز آپ نے فرمایا: (خدائے عزوجل نے مجھے بذریعہ وحی اس بات کی اطلاع دی ھے کہ میری موت کا وقت آچکا ھے۔)     (2)

اپنی موت کے بارے میں پیغمبر کا خبر دینا اس بات کا غماز ھے کہ رسول اپنی رحلت کے بعد اپنی امت کے وظیفوں اورذمہ داریوں کو بیان فرمانا چاھیتے تھے تاکہ امت مسلمہ کو ان کے حال پر نہ چھوڑیں اور ایسی باتیں قرین عقل ھیں۔

اور حقیقت حال یہ ھے کہ نبی اکرم جیسی عظیم شخصیت کی حامل بابرکت ذات اس بات پر کیسے راضی ہوجاتی کہ ان کی وفات کے بعد امت مسلمہ کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ جبکہ آپ کو اسلام پھیلانے اور پھنچانے میںبے شمار مصائب وآلام سے دوچار ہونا پڑا ھے۔ لھٰذا حکمت خدا اور درایت رسول خدا(ص) کا ان باتوں کے لئے راضی ہونا بعید از عقل ھے۔

حوالہ جات:

1- اِنی اوشک ان ادعیٰ فاجیب۔

2- اِن اللہ عزوجل اوحیٰ انی مقبوض۔

تصنیف: سید محسن خرازی


متعلقہ تحریریں:

حدیث ثقلین سے استدلال

سلسلہٴ سند حدیث ثقلین (حصہ اوّل)