• صارفین کی تعداد :
  • 3424
  • 4/14/2010
  • تاريخ :

سورۂ یوسف ( ع ) کی 63، 64 ویں آیات کی تفسیر

بسم الله الرحمن الرحیم

اور اب سورۂ یوسف (ع) کی آیات ترسٹھ اور چوسٹھ

 " فلمّا رجعوا الی ابیہم قالوا یا ابانا منع منّ الکیل فارسل معنا اخانا نکتل و انّا لہ لحفظون ، قال ھل امنکم علیہ الّا کما امنتکم علی اخیہ من قبل فاللہ خیر حافظا وّ ھو ارحم الرّاحمین "

پس جس وقت وہ لوگ اپنے باپ کے پاس واپس پلٹے کہنے لگے : بابا ! ہمیں آئندہ کے لئے غلہ کی پیمائش سے منع کردیا گیا ہے لہذا ہمارے ساتھ ہمارے بھائی ( بنیامین ) کو بھی بھیجنا ہوگا کہ ہم لوگ وہاں غلہ حاصل کر سکیں اور ہم ان کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں [یعقوب (ع) نے ] کہا آیا میں تم کو ان کے سلسلے میں امین سمجھ لوں ویسے ہی کہ جیسے پہلے اس کے بھائی [ یوسف ( ع) کے ] سلسلے میں امین خیال کرلیاتھا ؟ ( اور تم نے دیکھا کہ کیا ہوا ) بہرحال اللہ بہترین محافظ اور رحم کرنے والوں میں سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے ۔

حضرات ! جیسا کہ ہم نے عرض کیا جناب یوسف (ع) کی طرف سے اپنے بھائی بنیامین کو ساتھ لانے کی تاکید کے بعد برادران یوسف (ع) جب گھر لوٹے تو کسی بھی تمہید کے بغیر انہوں نے اپنے باپ یعقوب علیہم السلام کی خدمت میں اعلان کردیا کہ اب ہم کو مصر میں بھی ہمارے حصے کا غلہ نہیں ملے گا کیونکہ انہوں نے کہ دیا ہے اگر اپنے بھائی کو ساتھ لئے بغیر آئے تو ہم تم کو غلہ نہیں دیں گے ۔گویا غلہ ملنے کی ایک ہی صورت ہے کہ آپ ہم پر اعتماد کریں اور بنیامین کو بھی ہمارے ساتھ مصر روانہ کردیں ، ہم بھی ان کی حفاظت کا وعدہ کرتے ہیں ۔جواب میں حضرت یعقوب (ع) نے یوسف (ع) کے سلسلے میں اپنے اعتماد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک دفعہ تم لوگوں کو امین سمجھ کر ایک بیٹا کھوچکا ہوں اب میں کیسے دوسرے بیٹے کے سلسلے میں تم لوگوں پر اعتماد کرلوں ؟! تم پر تو اعتماد نہیں ہے ہاں اللہ پر بھروسہ کرسکتا ہوں کیونکہ سب سے بڑا محافظ و پاسبان اور سب سے بڑا رحیم و مہربان میرا اللہ ہے وہی بنیامین کی بھی حفاظت کرے گا

اردو ریڈیو تہران


متعلقہ تحریریں:

 سورۂ یوسف ( ع ) کی  54 ویں آیت کی تفسیر

سورہ یوس (ع ) 53  ویں آیت کی تفسیر