• صارفین کی تعداد :
  • 4144
  • 4/13/2010
  • تاريخ :

ماں بچوں کی تربیت کیسے کرے (حصّہ دوّم)

بچہ

بات متوسط طبقے اور نچلے گھرانوں کی کی جائے تو یہاں بھی حالات خاصے قابل رحم ہو چکے ہیں۔ خصوصاً نچلے طبقات میں تو والدین کی تعلیم و تربیت کا کوئی تصور ہی موجود نہیں ہے۔ ماں باپ بچوں کو پیدا کرکے ان کی تعلیم و تربیت سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ یہاں بچوں کی بہتات تو ہوتی ہے مگر ان کے پیٹ بھرنے کے علاوہ ماﺅں کو کسی شے سے سر و کار نہیں ہوتا۔ ان کے بچے یونہی گلیوں، سڑکوں اور جھونپڑیوں میں رل کر پل بڑھ جاتے ہیں اور یہی وہ معاشرتی ناسور بنتے ہیں جو شر پسند اور تشدد پسند کہلاتے ہیں.... جن کا معاشرتی جرائم میں بڑا حصہ ہے۔ سو میں ستر فیصد مجرمانہ ذہنیت کے حامل چھوٹی چھوٹی خواہشوں اور حسرتوں کے لیے کلپتے یہ معصوم بچے ہوتے ہیں جو کم عمری سے ہی چوری چکاری اور دیگر جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں.... جن کی مائیں ان کی تربیت سے یکسر لا تعلق رہتی ہیں۔ خانہ بدوش، گداگروں اور فقراء کے بچے نہ صرف ماں باپ کے پیشے اختیار کرتے ہیں بلکہ ان کی ناقص تربیت انہیں نسل در نسل ان کو آبائی پیشوں سے وابستہ رکھتی ہے۔ تعلیم کا تو خیر ایسے گھرانوں میں کوئی کردار ہوتا ہے نہ تصور.... اور تربیت بھی نایاب شے ہے۔ یہی چھوٹے چھوٹے بچے فٹ پاتھ اور خیراتی اداروں کی زینت بنتے ہیں۔ نشہ آور منشیات کے عادی ہو کر دنیا و ما فیھا سے بے خبر ہو جانے والے اکثر پھول سڑکوں کے کناروں پر مسلے پڑے رہتے ہیں۔ ان کی زندگی کا بنیادی مقصد پیٹ بھرنا ہوتا ہے.... ان کا شخصی کردار ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ وقت اتنا آگے سرک چکا ہے۔ ماں باپ انتہائی روشن خیال اور وسیع النظر ہو چکے ہیں۔ دنیا کمپیوٹر کی سکرین میں سمٹ چکی ہے۔ مگر نچلے گھرانوں کی ”ماں“ آج بھی صدیوں پہلے والی ماں ہے۔ اپنے بچوں کی ذاتی شخصیت میں اس کا حوالہ موجود ہوتا ہے لیکن کردار نہیں.... اپنی اولاد کے لیے اس کی ممتا وہی ہے، محبت وہی ہے تاہم اس کے خواب عام ماﺅں سے مختلف ہوتے ہیں۔ اس کے لیے زندگی کھانے، پینے، سونے، جاگنے اور ہاتھ پھےلا کر مانگنے کا نام ہے اور یہی عمل اور سوچ نسل در نسل اس کے بچوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ افسوس ہوتا ہے ایسی ماﺅں پر جو جانوروں کی طرح اپنے بچے پیدا کرکے ”پھینک“ دیتی ہیں جن کے نزدیک ماں کا کام صرف بچے پیدا کرنا ہے وہ اپنی تعلیم و تربیت کے خود ذمہ دار ہوتے ہیں۔ درمیانہ طبقہ جو ہمارے وطن کی ستر فیصد آبادی پر مشتمل ہے اور جس کی نسل نو کا اس ملک کی ترقی میں اہم کردار ہے۔ یہاں بھی ”ماں“ دو حصوں میں منقسم ہو چکی ہے۔ ایک طرف ماں اتنی حساس، سمجھ دار اور با شعور ہے کہ اس کی تربیت اور بہترین درس زندگی اس کے بچوں کو معزز شہری اور باہمت شخصیت کے طور پر سامنے لاتی ہے تو دوسری طرف ”ماں“ اس قدر لا پرواہ اور لا تعلق ہوگئی ہے کہ بچے کیا کرتے ہیں؟ کہاں جاتے ہیں؟ کہاں گھومتے ہیں؟.... اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ بچوں کی شخصیت کو بگاڑنے اور سنوارنے میں ماں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک پڑھی لکھی اور ایک جاہل ماں میں بہت فرق ہوتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی ممتا یا محبت میں تفرق آ جائے.... ماں جب ایک بچے کی تربیت و پرورش کرتی ہے تو وہ ایک بچے کی نہیں بلکہ ایک نسل کی تربیت کر رہی ہوتی ہے۔ آج کل کی مادیت پسند دور نے ماں کو بھی تھوڑا سا خود غرض بنا دیا ہے لیکن یہ خال خال ہے۔

بشکریہ لاہور اپ ڈیٹس


متعلقہ تحریریں :

لیڈی ہیلتھ ورکر کے مفید مشورے

حمل کے دوران مسائل کي کچھ يقيني علامتيں