• صارفین کی تعداد :
  • 3014
  • 4/13/2010
  • تاريخ :

خداشناسی (دوسرا سبق)

بسم الله الرحمن الرحیم

پانی میں مچھلی کا دم کیوں نہیں گھٹتا

ایک دن احمد بچوں کے ساتھ گھر میں کھیل رہا تھا ۔ اس کی ماں نے کہا بیٹا احمد! ہوشیار ! حوض کے نزدیک نہ جانا ڈرتی ہوں کہ تم حوض میں نہ گرپڑو کیا تم نے ہمساۓ کے لڑکے حسن کو نہیں دیکھا تھا کہ وہ حوض میں گر کر مر گیا تھا ؟

احمد نے کہا ! اماں جان ! ہم اگر حوض میں گر جائیں تو مر جاتے ہیں ۔ اور مچھلیاں پانی کے نیچے دجتے ہوۓ کیوں نہیں مرجاتیں؟ دیکھۓ وہ پانی میں کتنا اچھا تیر رہی ہیں؟ اس کی ماں نے جواب دیا انسان کے لۓ سانس لینا ضروری ہے تاکہ وہ زندہ رہ سکے ۔ اسی لۓ ہم پانی کے نیچے زندہ نہیں رہ سکتے لیکن مچھلی کے اندر ایک ایسی چیز ہے کہ جس کے ذریعہ پانی میں سانس لے سکتی ہے اور جو تھوڑی بہت ہوا پانی کے اندر موجود ہے اس سے استفادہ کرتی رہتی ہے ۔ اسی لۓ وہ پانی کے اندر زندہ رہ سکتی ۔

کون مچھلی کے لۓ فکر کر رہا تھا

احمد نے ماں سے پوچھا : اماں جان ! کون مچھلی کے لۓ ایسی فکر کر رہا تھا ۔ مچھلی از خود تو نہیں جانتی تھی کہ کہاں اسے زندہ رہنا چاہۓ ؟ اور کون سی چیز اس کے لۓ ضروری ہے ۔

اس کی ماں نے جواب دیا : بیٹا خداۓ علیم اور مہربان مچھلی کے لۓ فکر کررہا تھا ۔ اللہ تعالی جانتا تھا کہ اس خوبصورت جانور کو پانی کے اندر زندگی گزارنا ہے ۔ اس لۓ اس نے مچھلی کے اندر ایسا وسیلہ رکھ دیا کہ جس کے ذریعہ سے وہ سانس لے سکے مچھلی پانی میں آبی پھیپھڑوں کے ذریعے سانس لیتی ہے۔

سوالات:

احمد کی ماں کو کس چیز کا خوف تھا ؟

ہمساۓ کے لڑکے کا کیا نام تھا ؟

کیا وہ تیرنا جانتا تھا ؟

کیا انسان پانی میں زندہ رہ سکتا ہے ؟

پانی میں مچھلی کیوں نہیں مرتی ؟

کون سی ذات مچھلی کے فکر میں رہتی ہے ؟

کسی نے مچھلی کو پیدا کیا ؟


متعلقہ تحریریں:

توحید پر دلیلیں

خدا کی معرفت اور پہچان