• صارفین کی تعداد :
  • 12153
  • 2/1/2010
  • تاريخ :

مکتوب نمبر 10 

معاویہ کی طرف

امیرالمؤمنین علیہ السلام

 تم اس وقت کیا کرو گے جب دنیا کے یہ لباس جن میں لپٹے ہوئے ہو تم سے اتر جائیں گے . یہ دنیا جو اپنی سج دھج کی جھلک دکھاتی اور اپنے خط و کیف سے ور غلاتی ہے. جس نے تمہیں پکار ا تو تم نے لبیک کہی اس نے تمہیں کھینچا تو تم اس کے پیچھے ہو لیے اوراس نے تمہیں حکم دیا تو تم نے اس کی پیروی کی. وہ وقت دور نہیں کہ بتانے والا تمہیں ان چیزوں سے آگاہ کرے کہ جن سے کو ئی سپر تمہیں بچا نہ سکے گی .

  لہٰذا اس دعویٰ سے باز آجاؤ . حساب و کتا ب کا سر و سامان کرو اور آنے والی موت کے لیے دامن گردان کر تیار ہو جاؤ, اور گمراہوں کی باتوں پر کان نہ دھرو. اگر تم ایسا نہ کیا تو پھر میں تمہاری عقلوں پر (جھنجھوڑ کر ) تمہیں متنبہ کروں گا, تم عیش و عشرت میں پڑے ہو , شیطان نے تم میں پانی گرفت مضبوط کر لی ہے. وہ تمہارے بارے میں اپنی آرزوئیں پوری کر چکا ہے اور تمہارے اندر روح کی طرح سرایت کر گیا اورخون کی طرح (رگ و پے میں ) دوڑرہا ہے .

 اے معاویہ! بھلا تم لوگ (امیہ کی اولاد ) کب رعیت پر حکمرانی کی صلاحیت رکھتے تھے, اور کب امت کے امور کے والی و سر پرست تھے بغیر کسی پیش قدمی اور بغیر کسی بلند عزت و منزلت کے ہم دیرینہ بدبختیوں کے گھر کر لینے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں میں اس چیز پر تمہیں متنبہ کئے دیتا ہوں کہ تم ہمیشہ آرزوؤں کے فریب پر فریب کھاتے ہو اور تمہارا ظاہر باطن سے جدا رہتا ہے.

 تم نے مجھے جنگ کے لیے للکارا ہے تو ایسا کرو کہ لوگو ں کو ایک طرف کردو اور خود (میرے مقابلے میں) باہر نکل آؤ. دونوں فریق کو کشت و خون سے معا ف کرو تاکہ پتہ چل جائے کہ کس کے دل پر زنگ کی تہیں چڑھی ہوئیں اور آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے .میں (کوئی اور نہیں) وہی ابو الحسن ہوں کہ جس نے تمہارے نانا بیعت شکنی کرنے والی ہے۔


 متعلقہ تحریریں:

مکتوب نمبر6  

مکتوب نمبر 5  

مکتوب نمبر 4