• صارفین کی تعداد :
  • 11187
  • 1/31/2010
  • تاريخ :

مکتوب نمبر 9

معاویہ کے نام :

امیرالمؤمنین علیہ السلام

 ہماری قوم (قریش) نے ہمارے نبی کو قتل کرنے اور ہماری جڑ اکھاڑ پھینکنے کا ارادہ کیا اور ہمارے لیے غم و ابدوہ کے سرو سامان کئے, اور برے برتاؤ ہمارے ساتھ روا رکھے. ہمیں آرام و را حت سے روک دیا اور مستقل طور پر خوف و دہشت سے دو چار کر دیا اور ایک سنگلاخ و ناہموار پہاڑ میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا اور ہمارے لیے جنگ کی آگ بڑکا دی مگر اللہ نے ہماری ہمت باندھی کہ ہم پیغمبر کے دین کی حفاظت کریں اور ان کے دامن حرمت پر آنچ نہ آنے دیں. ہمارے مومن ان سختیوں کی وجہ سے ثواب کے امید وار تھے. اور ہمارے کافر قرابت کی بناء  پر حمایت ضروری سمجھتے تھے. او ر قریش میں جو لو گ ایمان لائے تھے وہ ہم پر آنے والی مصیبتوں سے کوسوں دور تھے اس عہد و پیمان کی وجہ سے کہ جو ان کی حفاظت سے کرتا تھا یا اس قبیلے کی وجہ سے کہ اب کی حفاظت کو اٹھ کھڑا ہو تا تھا لہٰذا وہ قتل سے محفوظ تھے اور رسالت مآب کا یہ طریقہ تھا کہ جب جنگ کے شعلے بھڑ کتے تھے اور لوگو ں کے قدم پیچھے ہٹنے لگتے تھے تو  پیغمبر اپنے اہل بیت کو آگے بڑھا دیتے تھے اور یوں انہیں سینہ سپر بنا کر اصحاب کو نیزہ و شمشیر کی مار سے بچا لیتے تھے. چنانچہ عبیدہ ابن حارث بدر میں, حمزہ احد میں اور جعفر جنگ موتہ میں شہید ہو گئے ایک او ر شخص نے بھی کہ اگر میں چاہوں تو اس کا نام لے سکتا ہو ں. انہیں لو گوں کی طرح شہید ہو نا چاہا. لیکن ان کی عمریں جلد پوری ہو گئیں اور اس کی موت پیچھے جا پڑی. اس زمانہ (کج رفتار) پر حیرت ہوتی ہے کہ میرے ساتھ ایسوں کا نام لیا جاتا ہے. جنہوں نے میدان سعی میں میری سی تیز گامی کبھی نہیں دکھائی اور نہ ان کے لیے میرے ایسے دیرینہ اسلامی خدمات ہیں ایسے خدمات کہ جن کی کوئی مثال پیش نہیں کرسکتا. مگر یہ کہ کو ئی مدعی ایسی چیز کا دعویٰ کربیٹھے کہ جسے میں نہیں جانتا ہو ں اور میں نہیں سمجھتا کہ اللہ اسے جانتا ہوگا (یعنی کچھ ہو تو وہ جانے) بہر حال اللہ تعالیٰ کا شکر ہے .

 اے معاویہ ! تمہارا یہ مطابعہ جو ہے کہ میں عثمان کے قاتلوں کو تمہارے حوالے کر دوں تو میں نے اس کے ہر پہلو پر غور و فکر کیا اوراس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ انہیں تمہارے یا تمہارے علاوہ کسی اور کے حوالے کرنا میرے اختیار سے باہر ہے, اور میری جا ن کی قسم ! اگر تم اپنی گمراہی اور انتشار پسندی سے باز نہ آئے تو بہت جلد ہی انہیں پہچان لو گے وہ خود تمہیں ڈھونڈتے ہوئے آئیں گے اور تمہیں جنگلوں, دریاؤں, پہاڑوں اور میدانوں میں ان کے ڈھونڈنے کی زحمت نہ دیں گے. مگر یہ ایک ایسا مطلوب ہوگا, جس کا حصول تمہارے لیے ناگواری کا باعث ہو گا اور وہ آنے والے ایسے ہوں گے جن کی ملاقات تمہیں خوش نہ کر سکے گی .سلام اس پر جو سلام کے لائق ہو .


متعلقہ تحریریں:

  مکتوب نمبر 5

مکتوب نمبر 4

مکتوب نمبر۳

مکتوب نمبر 2

مکتوب  نمبر 1