• صارفین کی تعداد :
  • 2969
  • 1/30/2010
  • تاريخ :

حکیم نظامی گنجوی، فارسی کا ایک بڑا شاعر (حصّہ دوّم)

شہر باکو کے مرکزی اسکوائر میں نظامی گنجوی کا مجسمہ

ان کے زھد کی وجہ سے عوام کے نزدیک ان کی اس قدرعزت و احترام تھا کہ جب بادشاہ نے انہیں محل میں آنے کی دعوت دی تو اپنے دربار سے عیش ونوش کے اسباب اٹھوادۓ اور مطربوں اورمغنیوں کو رخصت کردیا ،نظامی گنجوی زاھد خشک نہیں تھے بلکہ انہوں ہمیشہ عوام کے کام آنے کی نصیحت کی ہے ان کی نظر میں اچھا اخلاق اور پاک زندگی آخرت کے لۓ بہترین توشہ ہے

وہ کہتے ہیں :  

یہ مردم درآمیز اگر مردمی
کہ به آدمی خوگر است آدمی

                   

ان کی پاکیزہ صفات کے علاوہ وہ اپنے زمانے کے رائج علوم میں عبور رکھتے تھے شاید یہی وجھ ہے کہ انہیں حکیم کا لقب دیا گیا ہے وہ علم نجوم اور فارسی عربی اور دیگر زبانوں پر کامل عبور رکھتے تھے انہوں نے تاریخ یہود و نصاری اور پہلوی  کا مطالعہ کیاتھا ان علوم کے علاوہ انہیں طب سے سب سے زیادہ لگاو تھا شاید اسی لگاو کی وجہ سے ان کے اشعارمیں طب کی اصطلاحات اور دواوں نیز امراض کے نام دیکھنے کو ملتے ہیں ان کے اشعار کا مجموعہ پنج گنج نظامی یا خمسہ نظامی کے نام سے موجود ہے ۔

تقریب ڈاٹ آی آڑ


متعلقہ تحریریں:

عظیم مسلمان سا‏ئنسدان " ابو علی سینا "

خواجہ حافظ شیرازی

ابو ریحان البیرونی

بابا طاھر عریاں