• صارفین کی تعداد :
  • 4648
  • 1/24/2010
  • تاريخ :

’’اعجاز قرآن ‘‘ پر سچے واقعات (حصہ دوّم)

القرآن الکریم

دنیا میں بہت سے افراد ایسے ہیں جنہیں قران پاک کے معجزات کا تجربہ ہوا ہے۔ ایک صاحب جنہوں نے 1947میں قیام پاکستان کے بعد بھارت سے پاکستان ہجرت کیِ۔ بتاتے ہیں کہ اکتوبر 1947 میں جب پورے پنجاب میں فسادات ہو  رہے تھے اور دہلی بھی اس کی زد میں تھا وہ گھر سے نکل کر لاہور جانے کیلئے ریلوے سٹیشن پہنچے ۔  ان کے ساتھ ایک چھوٹا سا قران مجید بھی تھا جو انہوں نے اپنے سینے سے باندھ رکھا تھا جب گاڑی امرتسر پہنچی تو ہندو اور سکھ بلوائیوں نے حملہ کر دیا اور مسلمان مسافروں کو ٹرین سے اتار کر اسٹیشن پر کھڑا کرکے ان پر رائفلیں تان لیں۔ فائر کھول دیا گیا۔ قیامت کا سماں تھا۔ چاروں طرف مسلح ہندو اور سکھ، نہتے مسلمان مرد‘ عورتوں اور بچوں پر گولیاں برسا رہے تھے۔  دفاع کا ایک ہی طریقہ تھا کہ زمین پر لیٹ جائیں ان کا کہنا ہے کہ مجھے خیال آیا کہ اگر میں زمین پر لیٹ گیا تو میرے سینے پر بندھے قران پاک کی بے حرمتی ہو گی اور خدا کے سامنے کیا منہ لے کر جائوں گا۔ خیال آتے ہی میں نے پختہ ادارہ کرلیا کہ چاہے جان جائے قران پاک کو زمین سے نہیں لگنے دوں گا یہ ارادہ کرتے ہی‘ میں ریل گاڑی کے ڈبے کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا۔ کافی دیر تک گولیاں چلتی رہیں ۔ گولیاں میرے دائیں بائیں اور اوپر سے گزرتی رہیں گاڑی کے ڈبے کے تمام شیشے بھی چکنا چور ہو گئے جب فائرنگ بند ہوئی تو میں نے دیکھا کہ میں جس جگہ ٹیک لگا کر کھڑا تھا اس کے ارد گرد کی جگہ گولیوں سے چھلنی ہو چکی تھی، گاڑی کا ڈبہ یوں لگ رہا تھا جیسے کسی ماہر نشانہ باز کے حملے کا شکار ہوا ہو ۔ حملے میں مجھے خراش تک نہ آئی ان کا کہنا تھا کہ یہ سب قران پاک کا معجزہ تھا ۔

 

نوائے وقت  ڈا ٹ پاک ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

کیا قرآن کا اعجاز صرف فصاحت و بلاغت میں منحصر ہے؟

قرآن اور انسان کی مادی ومعنوی ضرورتیں

قرآن ایک جاودان الہی معجزہ ہے

زبان قرآن کی شناخت