• صارفین کی تعداد :
  • 3068
  • 1/24/2010
  • تاريخ :

آیت اللہ علی صافی ـ حیات تا وصال

حضرت آیت اللہ شیخ علی صافی گلپائگانی

حضرت آیت اللہ علی صافی گلپائگانی 99 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ رہبر معظم سمیت دیگر شخصیات کے تعزیتی پیغامات.

ابنا  کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیت‏اللہ علی صافی گلپایگانی، جو آیت‏اللہ محمد تقی بہجت (رح) کی وفات کے بعد ان کے جانشین سمجھے جاتے تھے اور آیت اللہ بہجت کے مقلدین نے بھی ان کی طرف رجوع کیا تھا 99 سال کی عمر میں صوبۂ اصفہان کے شہر "گلپائگان" میں دار فانی کو وداع کہہ گئے.

آیت اللہ شیخ علی گلپائگانی، قم میں مقیم حضرت آیت اللہ العظمی شیخ لطف اللہ صافی گلپائگانی کے بڑے بھائی تھے اور عرصۂ دراز سے علیل اور ہسپتال میں داخل تھے.

حضرت آیت اللہ شیخ علی صافی گلپائگانی کی مختصر سوانح حیات:

  در سال 1332 ہجری قمری (1912 یا 1913) کو گلپائگان میں پیدا ہوئے. انھوں نے 18 سال کی عمر تک اپنے والد اور اپنے دانشور ماموں مرحوم «مرحوم حجت الاسلام والمسلمین آخوند ملا ابوالقاسم قطب (رہ)» کے ہاں زانوئے تلمذ تہہ کیا اور پھر قم المقدسہ میں «آیت اللہ آقا میرزا محمد ہمدانی» کے حضور سطح کے دروس پایہ تکمیل تک پہنچائے اور اس کے بعد اپنے دور کے بزرگ اور نامور علماء و مجتہدین ـ جیسے «آیت اللہ حجت کوہ‏ کمرہ‏ای» اور «آیت اللہ سید حسین بروجردی» ۔ کے ہاں دروس خارج کے مراحل مکمل کئے.

آیت اللہ صافی گلپائگانی نہایت نڈر اور شجاع عالم دین تھے جن کے خطابات و تقاریر نہایت بلیغ تھیں اور چونکہ آپ علم و عمل و اخلاص کا مجموعہ تھے لہذا آپ کی تقاریر نہایت مؤثر ہوا کرتی تھیں. آپ نے رضاخانی گھثن کے دور میں شجاعت و پامردی کے جوہر دکھائے اور آزادی اور عدل و انصاف اور سماجی نظم و ضبط، احیائے حق اور باطل کی سرکوبی کے سلسلے میں پہلوی خاندان کی آمریت و استبداد کے خلاف زبردست جد و جہد کی اور اس کے استعماری آقاؤں کو رسوا کیا اور اس راہ میں آپ نے بے شمار مسائل و مشکلات کا سامنا کیا. اور کئی بار جلاوطن ہوئے.

مرحوم آیت اللہ شیخ علی صافی گلپائگانی جلیل القدر عالم دین تھے چنانچہ آپ نے متعدد کتابین لکھیں جن میں آپ کی درج ذیل کاوشیں سر فہرست تھیں:

العروة الوثقی کی استدلالی شرح منتخب الاحکام
رسالہ عملیہ (توضیح المسائل فارسی زبان میں) مناسک حج
وصال کی انتظار میں راز دل (ایک ہزار صفحات پر مشتمل فارسی دیوان اشعار)
المحجة فی تقریرات الحجة (مرحوم آیت اللہ حجت کوہ کمرہ ای کے دروس کی تقریرات) تاریخ تحول فقہ شیعہ
الدلالۃ الى من لہ الولایۃ اصول الفقہ
آیت اللہ بروجردى کے دروس کی تقریرات ---

 

زہد اور گمنامی

نکتہ وروں نے ہم کو سکھایا خاص بنو اور عام رہو
محفل محفل صحبت رکھو دُنیا میں گمنام رہو

 

   حضرت آیت اللہ علی صافی علمی اور فقہی لحاظ سے بہت اونچے مقام پر فائز تھے اور تقریبا تمام معاصر علماء کو ان کی علمی و فقہی عظمت کا اعتراف تھا اور پھر مرحوم حضرت آیت اللہ العظمی محمد تقی بہجت جیسی عظیم شخصیت نے ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے مقلدین کو ان کی طرف رجوع کرنے کی وصیت کی تھی مگر آپ عجیب گمنامی میں زندگی بسر کرتے رہے اور زہد و تقوی اور شہرت سے دوری پر کاربند رہے.

تعزیتی پیغامات:

آپ کے بھائی آیت اللہ العظمی حاج شیخ لطف اللہ صافی کا تعزیتی پیغام:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

انا للہ و انا اليہ راجعون

   بزرگ شخصیت، عالیقدر فقیہ اور ولائی مرجع تقلیدحضرت آيت اللہ العظمي آقاي حاج شيخ علي صافي لقاء اللہ کی طرف سفر کرگئے، جنہوں نے تقریبا ایک صدی کے عرصے تک اسلام کی خدمت کی اور کلمۂ دین کی ترقی کے لئے جد و جہد کرتے ہوئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر کار بند رہے، مختصر یہ کہ وہ حضرت بقيۃ اللہ مولانا المہدي ارواح العالمين لہ الفدا کے مخلص نوکر تھے اور اسی عنوان سے انھوں نے اپنے فرائض سرانجام دیئے.

اس نیک سیرت عالم دین نے رضاخانی آمریت کے زمانے سے اپنے علمی سفر کا آغاز کیا اور سطوح عالیہ تک اپنے آبائی شہر گلپائگان میں تعلیم حاصل کی اور 1349 ہجری کو انھوں نے قم کی جانب ہجرت کی اور بزرگ علماء اور اساتذہ کے دروس میں حاضر ہوئے جو فقہ کی نامور شخصیات ہیں جیسے بزرگ مراجع تقلید مرحوم آيت اللہ العظمي حجت اور مرحوم آيت اللہ العظمي آقاي حاج سيد محمد تقي خوانساري سے فیض حاصل کیا اور جب آیت اللہ العظمی سید حسین بروجردی قم تشریف لائے تو انھوں نے ان کے فقہ اور اصول کے دروس میں شرکت کی اور استفتاء کے اجلاسوں میں باقاعدہ شرکت کیا کرتے تھے اور آیت اللہ العظمی بروجردی ان کی آراء کو خاص توجہ دیا کرتے تھے اور درس و بحث کی محفل میں مشہور و معروف اور جانے پہچانے تھے۔

آپ نے متعدد کتابیں لکھیں جیسے: شرح عروة الوثقي اور اساتذہ کے دروس کی تقریرات ان کی اہم علمی کاوشیں ہیں، باذوق ادیب تھے اور مختلف فضائل سے لیس تھے اور خاص طور پر قرآن مجید کے مفسر تھے اور ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو ایسے فقیہ کے لئے ضروری ہیں اور انھوں نے اپنی حیات شریفہ کے آخری ایام تک محراب و منبر سے مسلمانوں کی ہدایت و راہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا اور رضاخان کے اسلام مخالف اقدامات کے خلاف ان کا موقف نہایت شفاف اور مستحکم تھا.

شجاعت، لہجے کی صراحت اور غیر اللہ سے بے‌باکي اور بےخوفی اور زہد و قناعت ث دنیاوی چمک دمک سے بے ‌اعتنايي اور دین کے امور میں استقامت ان کی خاص صفات ہیں اور اس دانا فقیہ کی تاريخ زندگي پوری، درس و عبرت ہے. انھوں نے تمام امور میں خدا کو خلق خدا پر ترجیح دی اور کسی کی رضا کو خدا کی رضا پر مقدم نہ رکھا اور کبھی بھی کلمۂ حق کے اظہار میں ہچکچاہٹ اور خوف و ہراس کا شکار نہیں ہوئے حتی کہ وہ بزرگوں کو بھی وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے اور وہ بھی ان کی نصیحتوں اور یادآوریوں کو غنیمت سمجھتے تھے.

بے شک ایسی شخصیت کا فقدان فقاہت، مرجعیت اور علمی حوزات کے لئے ایک ثلمہ اور دراڑ ہے. ہم اس عظیم نقصان کی مناسبت سے حضرت ولي عصر ارواح العالمين لہ الفدا، حوزات علمیہ، علمائے اعلام اور آيات عظام دامت برکاتہم اور مرحوم کے علمی گھرانے کو تعزیت و تسلیت عرض کرتے ہیں۔

زاد اللہ في علوّ درجاتہ و حشرہ مع ساداتہ الطيبين محمد و آلہ الطاہرين صلوات اللہ عليہم اجمعين.

لطف اللہ صافی

18 محرم الحرام 1431

جن شخصیات اور اداروں نے تعزیتی پیغام جاری کئے ہیں ان میں مندرجہ ذیل شخصیات قابل ذکر ہیں:

- حوزہ علمیہ قم کی انجمن اساتذہ، "شورائے عالی" اور "اور حوزہ ہائے علمیہ کے انتظامی مرکز" نے مشترکہ تعزیتی پیغام جاری کیا:

آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی آيت اللہ بہجت کا دفتر
آيت اللہ العظمی حسین نوري ہمداني حوزہ علمیہ اصفہان کے سربراہ آيت اللہ حسين مظاہري
آیت اللہ علوي گرگاني جامعة المصطفي العالميہ
شیراز کی علماء سوسائٹی کاشان کے امام جمعہ اور رہبر معظم کے نمائندے آيت اللہ نمازي
صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر محمود احمدی نژاد اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر علی لاریجانی
مجلس خبرگان اور مجمع تشخیص کے سربراہ آيت اللہ ہاشمي رفسنجاني امام خمینی کے پوتے حجت الاسلام سید حسن خمینی
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی سپریم کونسل کے رکن حجت الاسلام و المسلمین ہادوی تہرانی بیت مرحوم آيت اللہ شيخ مرتضي انصاري
وزیرارشاد سيد محمد حسيني ---

 

یاد رہے کہ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی سپریم کونسل کے رکن اور اراک کے امام جمعہ حجت الاسلام و المسلمین دُرّی  نجف‏آبادی نے قم میں آیت‏اللہ لطف‏اللہ صافی کے گھر میں حاضر ہو کر تسلیت کا اظہار کیا.

رهبر معظم انقلاب حضرت آیت الله العظمی سید علی خامنه ای مدظله العالی نی مرحوم آیت الله حاج شیخ علی صافی گلپائگانی (رح) کی وفات پر تعزیتی پیغام جاری کیا هی:

پیغام کا متن:

رہبر معظم انقلاب اسلامی کا آیت اللہ آقائ حاج آقا علی صافی کی رحلت پر تعزیتی پیغام  مرحوم آيت‌اللہ علي صافي گلپائگانی کی ایک عارفانہ غزل:

 

در مقام عشقبازي چون ز من كس پيش نيست
عاشقي مانند من دلخسته و دلريش نيست
عشق من عشق مجازي نيست چون عشق مجاز
لايق مرد خداي عاقبت انديش نيست
معتقد هستم كه مي‌بايد كنم تكميل عشق
كيش من عشق است و كيشي بهتر از اين كيش نيست

مي‌دهم جان را به راه دوست با منّت و ليك

معذرت خواهان كه اندر دست جاني بيش نيست

گفت دي صاحبدلي چون مي‌كند عشق نگار

گفتمش بر حال من بين حاجت تفتيش نيست

تا شدم عاشق دلم شد منزل سلطان عشق

گرچه منزلگاه شاهان كلبه درويش نيست

چون علي در دام عشقش اوفتاد از خود گذشت

آري آري عاشق آن باشد كه بند خويش نيست

 

ابنا ڈاٹ  آئی آڑ