• صارفین کی تعداد :
  • 2917
  • 1/11/2010
  • تاريخ :

شاہ چراغ، سیدنا امامزادہ میراحمد بن امام موسیٰ کاظم (امامزاده احمد)

شاه چراغ

سیدنا میراحمد بزرگی، زہد وعبادت، نفوذشریعت، حق گوئی، بے باکی، اطاعت ایزدی، خوارق عادات، کرامات اور شان و عظمت کے باعث بڑے رعب وجلال کے مالک تھے ۔ آپ انتہائی خوشخط اور نفیس رقم تھے ۔ کلام مجید کے ایک ہزار نسخے اپنے مبارک ہاتھوں سے تحریر فرمائے ۔ کلام پاک کی کتابت سے ملنے والی رقم کے عوض ایک ہزار غلام خرید کر راہ خدا میں آزاد فرمادیئے ۔ آپ کے فضائل و محاسن اور بزرگی احاطۂ تحریر و تقریرمیں نہیں آسکتی ۔ سیدنا امام موسیٰ کاظم کی شہادت کے بعد لوگ آپ ہی کو امام وقت ماننے لگے ۔ مسجد میں لے جا کر امر امامت میں بیعت شروع کر دی ۔ تمام لوگوں سے بیعت لے کر آپ منبر پر تشریف لے گئے اور انتہائی فصاحت و بلاغت سے فرمایا :

’’اے لوگو! اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ ابھی آپ تمام لوگوں نے میری بیعت کی ہے اور آپ میری بیعت میں ہیں اور میں خود اپنے بھائی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی بیعت میں ہوں ۔ آپ آگاہ رہیں کہ میرے ابا حضرت امام موسیٰ کاظم کے بعد میرے بھائی حضرت علی بن موسیٰ رضا خلیفہ برحق اور ولی خدا ہیں ۔ مجھ پر اور آپ سب پر خدا اور رسول اکرم (ص) کی طرف سے یہ امر واجب اور فرض ہے کہ ہم سب ان کی اطاعت و فرمانبرداری کریں، جو حکم بھی ان کی طر ف سے جاری ہو‘‘۔ اس اعلان کے بعد سیدنا امام علی رضا (ع)  کے کچھ فضائل و مناقب بیان فرمائے ۔

سیدنا میر احمد کے اس اعلان اور حکم پر حاضرین نے سر تسلیم خم کرتے گردنیں جھکا دیں ۔ اس کام سے فارغ ہو کر تمام لوگ حضرت سید احمد کی زیر قیادت امام علی رضا (ع)  کے درِ اقدس پہ حاضر ہوئے۔ سیدنا میر احمد نے ہاتھ بڑھا کر بیعت کی اور تمام لوگوں نے آپ کی متابعت میں بیعت کی ۔ امام علی رضا (ع)  نے آپ کے حق میں دست دعا بلند فرمائے :

’’خدایا! جس طرح انہوں نے میرے حق کی حفاظت کی ہے تو بھی ان کے حق کی حفاظت فرما ‘‘۔ پھر فرمایا: ’’دنیا و آخرت میں اس سے بڑا کوئی عمل مقام نہ ہو گا کہ آپ نے حق کو حفاظت سے رکھا اور باطل کی آمیزش نہ ہونے پائی ۔ نہ دنیا کے فریب میں آئے اور نہ سرداری کی پرواہ کی اور حق کو حقدار کے سپرد کر کے حق امانت ادا کیا ۔ اس عمل سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ لوگ گمراہی سے بچا لئے اور مخلوق خدا کو صراط مستقیم پہ چلنے کی ہدایت فرمائی ‘‘۔

                                                                                                                                                                جاری ہے۔

علمی اخبار ڈاٹ کام