• صارفین کی تعداد :
  • 3121
  • 1/5/2010
  • تاريخ :

حکیم نظامی گنجوی، فارسی کا ایک بڑا شاعر

نظامی گنجوی کا مقبره

حکیم نظامی گنجوی چھٹی صدی ھجری میں شہر گنجہ میں پیدا ہوۓ ان کی تاریخ ولادت 520 هجری سے 525 ھجری قمری تک بتائی گئي ہے - ان کا نام الیاس اور کنیت ابو محمد اور لقب نظام الدین اور تخلص نظامی تھا ۔

  شہر گنجہ سرزمین ایران کا مشہور شہر تھا یہ شہر دریاے ارس اور دریاے کر کے درمیان واقع تھا یہ علاقہ دنیاے اسلام اور عیسائی خطے کے درمیان سرحد مانا جاتا تھا اسی وجہ سے عالم اسلام کے مجاھدین اپنی مقدس سرزمین کا دفاع کرنے کے لۓ یہاں پر جمع ہوتے تھے یہاں کے باشندوں کو ارانی کہا جاتا تھا ان کی زبان ایرانی اور لہجہ ارانی تھا ارانی لہجہ اس زمانے میں رائج آذری لہجے سے ملتا جلتا تھا ۔

  نظامی نے ساری عمر اپنے وطن گنجہ میں ہی گذاری اور اسی 80 سال کی عمر میں وفات پائی انہیں گنجہ میں ہی سپرد خاک کیا گيا ۔

شہر باکو کے مرکزی اسکوائر میں نظامی گنجوی کا مجسمہ نصب کیا گيا ہے ۔

  نظامی گنجوی نے فارسی شاعری کو عروج بخشا ہے ان کے بعد آنے والے تمام شاعروں  نے ان کا اثر قبول کیا ہے

نظامی کے بارے میں یہ بات اھمیت رکھتی ہے کہ انہوں نے اپنے زمانے کا سب سے بڑا شاعر ہونے کے باوجود کبھی بھی رسمی طریقے سے بادشاہوں اور امرا کی مدح سرائي نہیں کی اور نہ شاعری کو پیشہ بنایا اسی وجہ سے ان کے ھم عصر ان کے زھد کے معترف ہیں نظامی کو زاھد عارف اور عارف زاھد کہا جاتا ہے-

 ان کی مناعت طبع اور فناے معنوی حد اعلی تک پہنچ چکی تھی ان کے اشعار سے صاف  واضح ہے کہ ان کی نظر ذات معبود کے علاوہ سب ھیچ تھا ان کا کہنا تھا کہ جو خدا کی راہ پر گامزن ہو وہ خدا کے علاوہ کسی طاقت سے نہیں ڈرتا  انہوں نے ذات پروردگار میں فنا ہونے کو اپنا نصب العین بنا لیا تھا  قرآن و دین سے لگاو کی بناپر ہی ان کے اشعار میں قرآنی آیات اور احادیث و  روایات کثرت سے ملتی ہیں ۔

تقریب ڈاٹ آی آڑ


متعلقہ تحریریں:

مولوی جلال الدین بلخی

خواجہ حافظ شیرازی