• صارفین کی تعداد :
  • 3522
  • 12/14/2009
  • تاريخ :

کب ڈرا سکتا ہے غم کا عارضی منظر مجھے ( حصّہ سوّم )

کره ارض

کب ڈرا سکتا ہے غم کا عارضی منظر مجھے

کب ڈرا سکتا ہے غم کا عارضی منظر مجھے ( حصّہ دوّم )

وطن عزیز پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے افرادی قوت بے مثال ہے ہمارا مذہبی، تہذیبی، ثقافت اور سماجی ورثہ باکمال ہے ۔ ہمارے جغرافیائی محل و قوع کی اہمیت کو تمام بڑی طاقتیں تسلیم کرتی ہیں۔ اگر اس کے باوجود خدانخواستہ ہماری ترقی اور استحکام متاثر ہوتے ہیں ، اس کے اسباب بالائی سطور میں بیان کئے گئے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ اب وقت بدل رہا ہے نیا دور کروٹ لے رہا ہے اقوام عالم میں ایک نئی بیداری اور پرانے استحصالی نظام سے بیزاری جنم لے رہی ہے اس کرہٴ ارض پر آباد ساڑھے چھ ارب انسان ہر صبح اپنی زندگی کو بہتر بنانے، اس دنیا کو ایک نئے ڈھنگ سے سنوارنے اور اپنے ادھورے خوابوں کو اپنی نئی نسل کا ورثہ بنا کر ان کی تعبیر تلاش کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں انسانی جدوجہد کا یہ ارتقائی عمل صدیوں سے جاری ہے اور جاری رہے گا۔ نیا دور تمام انسانوں کی نئی مسرتوں سے ہمکنار کرے گا۔

بقول علامہ اقبال

 

کب ڈرا سکتا ہے غم کا عارضی منظر مجھے
ہے بھروسہ اپنی ملت کے مقدر پر مجھے

 

تحریر : ظفر محی الدین ( روزنامہ جنگ )