• صارفین کی تعداد :
  • 2938
  • 12/13/2009
  • تاريخ :

حضرت ابراہيم ،حضرت اسماعيل اور حضرت اسحاق (عليہم السلام) (حصّہ پنجم)

بسم الله الرحمن الرحیم

حضرت ابراہيم ،حضرت اسماعيل اور حضرت اسحاق (عليہم السلام)

حضرت ابراہيم ،حضرت اسماعيل اور حضرت اسحاق (عليہم السلام) ( حصّہ دوّم )

حضرت ابراہيم ،حضرت اسماعيل اور حضرت اسحاق (عليہم السلام) ( حصّہ سوّم )

حضرت ابراہيم ،حضرت اسماعيل اور حضرت اسحاق (عليہم السلام) ( حصّہ چهارم )

اے ابراہيم تم پر پتھر برسائوں گا

حضرت ابراہيم عليہ السلام كى ان كے چچا كى ہدايت كے سلسلے ميں منطقى باتيں جو خاص لطف و محبت كى آميزش ركھتى تھيں گزر چكى ہيں اب آزر كے جوابات بيان كرنے كى نوبت ہے تاكہ ان دونوں كا آپس ميں موازنہ كرنے سے حقيقت اور واقعيت ظاہر ہوجائے _ قرآن كہتا ہے كہ نہ صرف ابراہيم كى دل سوزياں اور ان كا مدلل بيان آزر كے دل پر اثر انداز نہ ہو سكا بلكہ وہ ان باتوں كو سنكر سخت بر ہم ہوا، اور اس نے كہا :

''اے ابراہيم (ع) كيا تو ميرے خدائوں سے روگردان ہے، اگر تو اس كام سے باز نہيں آئے گا تو ميں ضرور ضرور تجھے سنگسار كروں گا، اور تو اب مجھ سے دور ہو جا ميں پھر تجھے نہ ديكھوں''_ (1)

قابل توجہ بات يہ ہے كہ اولا ً آزر يہ تك كہنے كے لئے تيار نہيں تھا كہ بتوں كے انكار، يا مخالفت اور ان كے بارے ميں بدگوئي كا ذكر زبان پر لائے، بلكہ بس اتنا كہا: كيا تو بتوں سے روگردان ہے ؟ تاكہ كہيں ايسا نہ ہو بتوں كے حق ميں جسارت ہوجائے ثانيا ً ابراہيم (ع) كو تہديد كرتے وقت اسے سنگسار كرنے كى تہديد كى وہ بھى اس تاكيد كے ساتھ كہ جو ''لام'' اور '' نون '' تاكيد ثقيلہ سے جو ''لارجمنك'' ميں وارد ہے، اور ہم جانتے ہيں كہ سنگسار كرنا قتل كرنے كى ايك بدترين قسم ہے ثالثاً اس مشروط تہديد اور دھمكى پر ہى قناعت نہيں كى بلكہ اس حالت ميں جناب ابراہيم كو ايك ناقابل برداشت وجود شمار كرتے ہوئے ان سے كہا كہ تو ہميشہ كے لئے ميرى نظروں سے دور ہوجا_

يہ تعبير بہت ہى توہين آميز ہے، جسے سخت مزاج افراد اپنے مخالفين كے لئے استعمال كرتے ہيں، اور فارسى زبان ميں اس كى جگہ ''گورت را گم كن'' كہتے ہيں، يعنى نہ صرف اپنے آپ كو مجھ سے ہميشہ كے لئے چھپالے بلكہ كسى ايسى جگہ چلے جائو كہ ميں تمہارى قبر تك كو بھى نہ ديكھوں ليكن ان تمام باتوں كے باوجود حضرت ابراہيم نے تمام پيغمبروں اور آسمانى رہبروں كى مانند اپنے اعصاب پر كنڑول ركھا، اور تندى اور تيزى اور شديد خشونت و سختى كے مقابلے ميں انتہائي بزرگوارى كے ساتھ كہا:'' سلام ہو تجھ پر''_ (2)

ممكن ہے كہ يہ ايسا سلام الوداعى اور خداحافظى كا سلام ہو، كيونكہ اس كے چند جملوں كے كہنے كے بعد حضرت ابراہيم عليہ السلام نے آزر كو چھوڑديا يہ بھى ممكن ہے كہ يہ ايسا سلام ہو كہ جو دعوى اور بحث كو ترك كرنے كے لئے كہا جاتا ہے جيسا كہ سورہ قصص ميں ہے :

''اب جبكہ تم ہمارى بات قبول نہيں كرتے ہو، ہمارے اعمال ہمارے لئے ہيں اور تمہارے اعمال تمہارے ليے، تم پر سلام ہے ہم جاہلوں كے ہوا خواہ نہيں ہيں''_ (3)

اس كے بعد مزيد كہا :'' ميں عنقريب تيرے لئے اپنے پروردگار سے بخشش كى درخواست كروں گا، كيونكہ وہ ميرے لئے رحيم و لطيف اور مہربان ہے''_ (4)

حقيقت ميں حضرت ابراہيم (ع) نے آزر كى خشونت و سختى اور تہديد و دھمكى كے مقابلے ميں اسى جيسا جواب دينے كى بجائے اس كے برخلاف جواب ديا اور اس كے لئے پروردگار سے استغفار كرنے اور اس كے ليے بخشش كى دعا كرنے كا وعدہ كيا _

اس كے بعد يہ فرمايا كہ :''ميں تم سے (تجھ سے اور اس بت پرست قوم سے )كنارہ كشى كرتا ہوں اور اسى طرح ان سے بھى كہ جنہيں تم خدا كے علاوہ پكارتے ہو، يعنى بتوں سے بھى (كنارہ كشى كرتاہوں)'' اور ميں تو صرف اپنے پروردگار كو پكارتا ہوں اور مجھے اميد ہے كہ ميرى دعا ميرے پروردگار كى بارگاہ ميں قبول ہوئے بغير نہيں رہے گا ''_ (5)

حوالہ جات :

(1)سورہ مريم ايت 46

(2) سورہ مريم آيت 47

(3)سورہ قصص ايت 55

(4)سورہ مريم آيت 47

(5) سورہ مريم آيت 48

قصص القرآن

منتخب از تفسير نمونه

تاليف : حضرت آيت الله العظمي مکارم شيرازي

مترجم : حجة الاسلام و المسلمين سيد صفدر حسين نجفى مرحوم

تنظيم فارسى: حجة الاسلام و المسلمين سير حسين حسينى

ترتيب و تنظيم اردو: اقبال حيدر حيدري

پبليشر: انصاريان پبليكيشنز - قم