• صارفین کی تعداد :
  • 4364
  • 12/12/2009
  • تاريخ :

ماں باپ كى ذمہ داري ( حصّہ سوّم )

ماں باپ

جو ماں باپ اپنى اولاد كى تعليم و تربيت كى طرف توجہ نہيں كرتے بلكہ اپنى رفتار و كردار سے انہيں منحرف بنا ديتے ہيں وہ بہت بڑے جرم كے مرتكب ہوتے ہيں ايسے ماں باپ سے پوچھنا چاہيے كہ كيا اس بے گناہ بچے نے تقاضا كيا تھا كہ تم اسے وجود بخشو كہ اب وجود ميں لانے كے بعد اسے تم نے گائے کے بچھڑے كى طرح چھوڑديا ہے ۔ اب جب كہ تم اس كے وجود كا باعث بن گئے ہو تو شرعاً اور عقلا ً تم ذمہ دار ہو كہ اس كى تعليم و تربيت كے ليے كوشش كرو ۔ لہذا تعليم و تربيت ہر ماں باپ كى عظيم ترين ذمہ داريوں ميں سے ايك ہے ۔

اس كے علاوہ ماں باپ معاشرے كے سامنے بھى جواب دہ  ہيں ۔ آج كے بچے ہى كل كے مرد اور عورت ہيں ۔ كل كا معاشرہ انہيں سے تشكيل پانا ہے ۔ آج جو سبق سيكھيں گے كل اسى پر عمل كريں گے ۔ اگر ان كى تربيت درست ہو گئي تو كل كا معاشرہ ايك كامل تر اور صالح معاشرہ ہو گا اور اگر آج كى نسل نے غلط  پروگرام كے تحت اور نادرست طور پر پرورش پائي تو ضرورى ہے كہ كل كا معاشرہ فاسدتر اور بدتر قرار پائے ۔  كل كى سياسى ، علم اور سماجى شخصيات انہيں سے وجود ميں آئيں گى ۔

آج كے بچے كل كے ماں باپ ہيں ۔ آج كے بچے كل كے مربّى قرار پائيں گے ۔ اور اگر انہوں نے اچھى تربيت پائي ہوگى تو اپنى اولاد كو بھى ويسا ہى بنا ليں گے اور اسى طرح اس كے برعكس ۔

 لہذا اگر ماں باپ چاہيں  تو آئندہ آنے والے معاشرہ كى اصلاح كرسكتے ہيں اور اسى طرح اگرچاہيں تو اسے برائيں اور تباہى سے ہمكنار كرسكتے ہيں ۔ اس طرح سے ماں باپ معاشرے کے  حوالے سے بھى ايك اہم ذمہ دارى كے حامل ہيں ۔ اگر وہ اپنے بچوں كى صحيح تعليم و تربيت كے ليے كوشش كريں تو انہوں نے گويا معاشرے كى ايك عظيم خدمت سرانجام دى ہے اور وہ اپنى زحمتوں كے صلے ميں اجر كے حقدار ہيں اور اگر وہ اس معاملے ميں غفلت اور سہل انگارى سے كام ليں تو نہ صرف اپنے بے گناہ بچوں كے بارے ميں بلكہ پورے معاشرے كے ليے خيانت كے مرتكب ہوتے ہيں اور يقينى طور پر بارگاہ الہى ميں جواب دہ ہوں گے ۔

تعليم و تربيت كے موضوع كو معمولى نہيں سمجھنا چاہيے ۔ ماں باپ اولاد كى تربيت كے لئے جو كوشش كرتے ہيں اور جو مصيبتيں اٹھاتے ہيں وہ سينكڑوں استادوں ، انجينئروں ، ڈاكٹروں اور عالموں كے كاموں پر بھارى ہيں ۔ يہ ماں باپ ہيں جو انسان كامل پروان چڑھاتے ہيں اور ايك لائق و ديندار استاد، ڈاكٹر اور انجينئر وجود ميں لاتے ہيں ۔

خاص طور پر مائيں بچوں كى تربيت كے بارے ميں زيادہ ذمہ دارى ركھتى ہيں اور تربيت كا بوجھ ان كے كندھوں پر ركھا گيا ہے ۔ بچے اپنے بچپن كا زيادہ عرصہ ماؤں كے دامن ميں ہى گزارتے ہيں ۔ اور آئندہ زندگى كے رخ كى بنياد اسى زمانہ ميں پڑتى ہے ۔ لہذا افراد كى خوشبختى اور بدبختى اور معاشرے كى ترقى اور تنزل كى كنجى ماؤں كے ہاتھ ميں ہے ۔ عورت كا مقام وكالت وزارت ، اور افسرى ميں نہيں ، يہ سب چيزيں مقام مادر سے كہيں كم تر ہيں ۔ مائيں كامل انسانوں كى پرورش كرتى ہيں اور صالح وزير، وكيل ، افسر اور استاد پروان چڑھاتى ہيں اور معاشرے كو عطا كرتى ہيں ۔

 

کتاب کا نام  آئين تربيّت
مؤلف  آيت اللہ استاد ابراہيم اميني
ترجمہ  قيصر عبّاس ، ثاقب نقوي
پیشکش  شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان

  


 متعلقہ تحریریں :

بچے کے لیے ماں کا دودھ  ایک انمول نعمت الہی

اولاد انسان کیلئے قدرت کا ایک عظیم عطیہ ہے

زچہ اور دودھ پلانے والی ماں کی خوراک