• صارفین کی تعداد :
  • 3166
  • 12/12/2009
  • تاريخ :

مولد امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب (ع)

حضرت علی علیہ السلام

یہ وہی محترم و پاک و پاکیزہ اور با عظمت گھر ہے جس میں مولائے متقیان حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام پیدا ہوئے ۔ تمام علماء و مؤرخین اہل سنت وشیعہ نے بااتفاق لکھا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام خانہ کعبہ میںپیدا ہوئے ۔حاکم نیشاپوری جو اہل سنت کے بزرگ علما میں شمار ہوتے ہیں اپنی کتاب مستدرک ،ج۳،ص۴۸۳ پر اس حدیث کو باسندو متواتر لکھا ہے :

لکھتے ہیں :

” وَقَد تَوَاتِرَتِ الاَخبٰارُ اَنَّ فَاطِمَۃَ بِنتِ اَسَد (ع) وَلَدَت اَمِیرَ المُومِنِینَ عَلِی ابنُ اَبِی طَالِبٍ کَرَّمَ اللّٰہُ وَجہَہُ فِی جَو فِ الکَعبَۃ “

”امیر المومنین علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ ،فاطمہ ابنت اسدکے بطن مبارک سے خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے “

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب ” ازالۃ الخفائ“ صفحہ ۲۵۱ پر اس حدیث کو اور واضح طور پر تحریرکیا ہے کہ احضرت علی علیہ السلام سے پہلے اور نہ ان کے بعد کسی کو یہ شرف نصیب نہیں ہوا چنانچہ لکھتے ہیں:

” تواتر الاخبار ان فاطمۃ بنت اسد ولدت امیر المومنین علیاً فی جوف الکعبۃ فانہ ولد فی یوم الجمعۃ ثالث عشر من شہر رجب بعد عام الفیل بثلاثین سنۃ فی الکعبۃ و لم یولد فیھا احد سواہ قبلہ ولا بعدہ“

متواتر روایت سے ثابت ہے کہ امیر المومنین علی (ع) روز جمعہ تیرہ رجب تیس عام الفیل کو وسط کعبہ میں فاطمہ بنت اسد کے بطن سے پیدا ہوئے اور آپ کے علاوہ نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد کوئی خانہ کعبہ میں پیدا ہوا“

حافظ گنجی شافعی اپنی کتاب ” کفایۃالطالب“ صفحہ ۲۶۰پرحاکم سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”امیرالمومنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کے اندر شب جمعہ ۱۳رجب ، ۳۰ عام الفیل کو پیدا ہوئے۔ ان کے علاوہ کوئی بھی بیت اللہ میں نہیں پیدا ہوا ۔  نہ اس سے پہلے اورنہ اس کے بعد ۔ یہ منزلت و شرف فقط حضرت علی علیہ السلام کو حاصل ہے” ۔

” لم یولد قبلہ و لا بعدہ مولود فی بیت الحرام “

حضرت علی (ع) سے پہلے اور نہ آپ(ع) کے بعد کوئی خانہ کعبہ میں پیدا نہیں ہو۔

علامہ امینی اپنی کتاب ” الغدیر“ جلد ۶ صفحہ ۲۱ کے بعد حضرت علی ابن ابی طالب کی ولادت کے واقعہ کو کہ خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے ،اہل سنت کی ۲۰ سے زیادہ کتابوں سے ذکر کیا ہے اور شیعوں کی پچاس سے زیادہ کتابوں سے نقل کیا ہے ۔

بہر حال اصل واقعہ کو تھوڑا بہت اختلاف کے ساتھ اہل سنت علماءو مؤرخین نے یوں لکھا ہے: جب فاطمہ بنت اسد پر وضع حمل کے آثار ظاہر ہوئے تو انھوں نے جناب ابو طالب (ع) سے بتایا۔ جناب ابو طالب (ع) ان کا ہاتھ پکڑ کر بیت الحرام میں لائے اور خانہ کعبہ کے اندر لے گئے اور کہ:

” اجلسی علیٰ اسم اللّٰہ “ خدا کا نام لے کر یہیں بیٹھ جائو

اس کے بعد ایک بہت ہی خوبصورت بچہ پیدا ہوا جس کا نام جناب ابو طالب (ع) نے ” علی“ رکھا ۔ اس حدیث کو ابن مغازلی نے اپنی کتاب مناقب اور ابن صباغ نے” فصول المھمہ “میں نقل کیا ہے۔ اور بہت سے لوگوں نے ان سے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔

اسی سے ملتا جلتا واقعہ بعض مورخین و علماءشیعہ نے بھی لکھا ہے ۔ لیکن علماءشیعہ رضوان اللہ علیہم نے کچھ اس طرح لکھا ہے :

جس وقت جناب فاطمہ بنت اسد پر وضع حمل کے آثار ظاہر ہوئے تو وہ خود خانہ کعبہ کے قریب تشریف لے گئیں اور خدا وند عالم سے دعا کی کہ خدا یا میری اس مشکل کو آسان کردے ۔ ابھی دعا میں مشغول ہی تھیں کہ خانہ کعبہ کی دیوار پھٹی اور فاطمہ بنت اسد اندر داخل ہوگئیں اوروہیں پر حضرت علی علیہ السلا م کی ولادت ہوئی۔

بریدہ بن قعنب سے روایت ہے :

بریدہ کہتے ہیں کہ میں عباس اور بنی ہاشم کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد الحرام میں خانہ کعبہ کی طرف رخ کئے بیٹھا تھا کہ اچانک فاطمہ(ع) بنت اسد آئیں اور طواف خانہ کعبہ میں مشغول ہو گئیں، اثنائے طواف میں ان پرآثار وضع حمل ظاہر ہوئے تو خانہ کعبہ کے قریب آکر فرمایا:

”رب انی مومنۃ بک و بما جاءمن عندک من رسل و کتب ،انی مصدقۃ بکلام جدی ابراھیم الخلیل ، و انہ بنی البیت العتیق ، فبحق الذی بنیٰ ھٰذا البیت ، و بحق المولود الذی فی بطنی لما یسرت علی ّ ولادتی“

خداوندا میں تجھ پر اور تیرے تمام پیغمبروں پر اور تیری کتاب پر ایمان رکھتی ہوں جو تیری طرف آئی ہے ۔اور اپنے جد جناب ابراہیم خلیل کی تصدیق کرتی ہوں اور یہ کہ انھوں نے اس خانہ کعبہ کو بنایا ، خدایا اس شخص کا واسطہ جس نے اس گھر کی بنیاد رکھی، اور اس بچے کا واسطہ جو میرے بطن میں ہے اس کی ولادت میرے لئے آسان کر ۔

بریدہ بن قعنب کہتے ہیں:

ہم لوگوں نے دیکھا کہ اچانک خانہ کعبہ کی پشت کی دیوار شق ہوئی اور فاطمہ بنت اسد کعبہ کے اندر داخل ہوکر نظروں سے اوجھل ہو گئیں ۔ پھر دیوارکعبہ آپس میں مل گئی ۔ہم لوگوں نے بڑی کوشش کی کہ خانہ کعبہ کا تالا کھول کر اندرداخل ہوں لیکن تالا نہ کھلا ۔ تالے کے نہ کھلنے سے ہم لوگوں پر یہ بات ظاہر ہوگئی کہ یہ خدا وند عالم کا معجزہ ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں ۔جناب فاطمہ  بنت اسد چوتھے روز حضرت علی علیہ السلام کو ہاتھوں پر لیئے ہوئے برآمد ہوئیں ۔

روایت میں ہے کہ: فاطمہ بنت  اسد فرماتی ہیں کہ علی (ع) کی ولادت کے بعد جب میں خانہ کعبہ سے باہر آنے لگی تو ہاتف غیبی نے ندا دی

” یا فاطمۃ سمیہ علیا فھو علی واللّٰہ العلی الاعلیٰ یقول : انی شققت اسمہ من اسمی و ادبتہ بادبی ، و وقفتہ علی غامض علمی۔۔۔۔“

اے فاطمہ  اس بچہ کا نام علی (ع) رکھو اس لئے کہ یہ علی و بلند ہے اور خداعلی اعلیٰ ہے : میں نے اس بچہ کا نام اپنے نام سے جدا کیا ہے اور اپنے ادب سے اس کو مو ¿دب کیا ہے ۔اور اسے اپنے علم کی باریکیون سے آگاہ کیا ہے ۔ (1)

 

حوالہ جات :

1۔ زندگانی امیر المومنین (ع) ،ص۷۲،مصنف سید ہاشم رسولی محلاتی ( ناشردفتر فرہنگ اسلامی قم)

 

تحریر :  مولانا صفدر حسین یعقوبی 

              مہدی مشن ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

واقعہ غدیر کی لافانیت کے مزید دلائل

"" غدیر خم "" تاریخ اسلام کا ایک اہم واقعہ