زبان اوستا اور پہلوی
فارسی باستان کی جگہ بعد میں " اوستا زبان " نے لے لی اور زرتشت مذھب کی مقدس کتاب " اوستا " کی یہی زبان ہے ۔ اس زبان کا اس وقت کا مستعمل نام اور علاقہ صحیح طرح سے معلوم نہیں ہو سکا ۔
آج کل " اوستا " جس شکل میں موجود ہے وہ ساسانی دور میں مرتب کی گئی ہے ۔ اس میں زرتشت کے حالات صرف " گاتھا " میں ملتے ہیں جو کہ " اوستا " کا ابتدائی حصہ ہے اور زرتشت نے اسے اپنے نام سے موسوم کیا ہے ۔
زرتشت کا عہد 1552 تا 1452 قبل مسیح ہے ۔ عہد اشکانی میں پہلوی کے نام سے ایک نئی زبان رائج ہوئی اور پروفیسر براؤن نے Literary History of Persian میں ایک محقق اولز ہاسن ( Olshauson ) کے حوالے سے لکھا ہے کہ پہلوی زبان صوبہ " پرتو " یا " پارتھیا " کی زبان تھی اور یہیں سے اٹھ کر اشکانیوں نے یونانیوں کو مغلوب کیا ۔ لفظ " پرتو " کے متعلق اندازہ ہے کہ یہ " پرتو " یا " پرتوا " سے " پرہاد " بنا اور بعد ازاں " پہلاو" اور " پہلاوا " مشہور ہوا ۔ اسی نسبت سے وہاں کی زبان " پہلوی " کہلائی ۔ پہلوی زبان صوبہ " پرتو " یا " پارتھیا " سے نکل کر پورے ایران کی زبان بن گئی ۔ اس زبان اور موجودہ فارسی میں زیادہ فرق نہیں ہے اس لیۓ اسے " فارسی میانہ " بھی کہتے ہیں ۔
عہد اشکانی سے لے کر آخری ساسانی بادشاہ یزد گرد سوم کے قتل تک یہ کتاب بہت اہمیت کی حامل رہی اور اس میں کئی کتابیں لکھی گئیں ۔
تحریر : پروفیسر میجر (ر) نذیر احمد ظفر چیمہ
پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان
متعلقہ تحریریں:
فارسی ادب کا اجمالی جائزہ
فارسی زبان کا گھر
عارف رومی کی ایک مشہور غزل مع ترجمه
حکیم عمر خیام نیشاپوری کی رباعیات کا منظوم اردو ترجمہ