• صارفین کی تعداد :
  • 1933
  • 12/9/2009
  • تاريخ :

خربوزے ۔ احمد ندیم قاسمی کا شہرہ آفاق افسانہ  ( حصّہ دوّم )

کھیت

 ان کھیتوں سے نکل کر بہت دور چلا جاؤں گ ا۔ وہ جہاں اڑتی ہوئی کونجیں چڑیا نظر آ رہی ہیں، جہاں ریلیں اور لاریاں چلتی ہیں۔ بس وہاں۔۔۔۔ نہ کسی سے کچھ مانگوں گا نہ کسی کی چوری کروں گا، دن کو چلتے چلتے تھک جاؤں گا تو شیشموں تلے لیٹ رہوں گا، رات کو تھکوں گا تو نرم گھاس پر سو جاؤں گا ماں کہا کرتی ہے، کہ ہم سب کو  رزق دینے والا اللہ ہے، بس اس سے مانگوں گا وہی میرا پیٹ بھر دے گا، وہی خربوزے بھی لا دے گا اور خربوزوں کا خیال آتے ہی وہ رک گیا ۔ بھیگی ہوئی آنکھوں کو  ہتھیلیوں سے اٹھا کر اس نے ہاتھ بند کئے اور آسمان کی طرف دیکھ کر بولا۔

اے میر ے اچھے خدا !میں تجھے یاد کرتاہوں۔ پرسوں مولوی جی سے میں نماز کا سبق بھی لیا تھا اور مجھے کلمہ بھی آتا ہے اور میں بہت اچھا ہوں۔  تو میرے سامنے خربوزے رکھ جا، لے ۔۔۔۔۔

اور اس نے وہیں  کھڑے کھڑے آنکھیں بند کر لیں ۔ اسے قدموں کی چاپ سنائی دی ۔ اس کے لبوں کے گوشے کانپنے لگے ۔ نتھنے پھڑک گئے اور وہ مسکرانے لگا ۔ اسے محسوس ہوا کہ اللہ میاں اس کے لئے خربوزوں کی گٹھڑی باندھے    آ رہے ہیں۔ قدموں کی چاپ نہایت تیزی سے قریب آ رہی تھی ۔اس کے ذہن پر اللہ میاں کا پاکیزہ ہیولٰی ابھرا۔ سفید لباس سفید بال نورانی چہرہ، ایک سفید کپٹرے میں پیلے پیلے خربوزوں کا ایک انبار باندھے وہ اس کے قریب آئے اور پھر ۔۔۔ اور پھر تڑاخ کی آواز آئی۔ اس کے پاؤں اکھڑ گئے۔ اور وہ دھب سے نکیلے  پتھروں پر گر گیا ۔ اس پر سکتہ چھا گی ا۔ پلٹ کر دیکھا تو اللہ میاں کی جگہ سفید لباس پہنے سفید ریش بخشو کھڑا ہانپ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں شعلے اگل رہی تھیں اور پریشانی میں وہ اپنی ڈاڑھی کو بار بار کھجلاتا تھا۔ گرج کر بولا۔۔۔۔ شیطان کہیں کا، مجھے دیکھ کر آنکھیں بند کر کے یوں چپ چاپ کھڑا ہو گیا جیسے کچھ خبر ہی نہ ہو۔  یوں کھیت میں گھسا آ رہا تھا جیسے اپنے باپ کی ریاست میں اینڈتا پھر رہا ہے۔  شیطان کہیں کا، مجھے د یکھ کر آنکھیں بند کر کے یوں چپ چاپ کھڑا ہو گیا جیسے کچھ خبر ہی نہ ہو۔ یوں کھیت میں گھسا آ رہا تھا جیسے اپنے باپ کی ریاست میں اینڈ تا پھر رہا ۔ شیطان کہیں کا ۔

ننھا ، جو خدا اور بخشو کے اس  ہولناک تصادم گھبرا سا گیا تھا رونی صورت بنا کر بولا ۔

’’ میں تو خربوزوں کی ۔۔۔۔ ‘‘

اور بخشو اس کی بات کاٹ کر کہنے لگا ۔ ’’ اور میں کب کہتا ہوں کہ تو یہاں نماز پڑھنے گھر آیا ہے ۔ خربوزوں کی تلاش ہی تو تجھے یہاں کھینچ لائی ۔ پچھلے چند روز سے میں سوچ رہا تھا کہ وہ کون ہے جس نے میرے کھیت کا پوربی گوشہ تباہ کر ڈالا ہے۔ اب معلوم ہوا کہ یہ حضرت ہیں۔ ‘‘

اور وہ روتا ہوا بولا ۔ ’’ میں تو آج ہی ۔۔۔‘‘

’’ اور کل ۔۔۔ اور پرسوں؟ ‘‘ بخشو نے اپنا سر دائیں اور پھر بائیں کاندھے پر جھکا کر کہا ۔ ’’ کل پرسوں میں تجھے نہیں دیکھا اس لئے ۔۔۔۔ اٹھ بھاگ یہاں سے ۔ اگر آج کے بعد تو پھر ادھر آیا تو نگل جاؤں گا تجھے۔  بڑا آیا خربوزوں کا رسیا ۔ اتنا شوق ہے تو ماں سے دو پیسے لے خرید لے جا خربوزے ۔‘‘

ننھا اٹھا، اٹھتے ہوئے اس کی نظریں سامنے سارے کھیت میں گھوم گئیں۔ اور بے شمار پیلے پیلے دھبے اس کے سامنے تیرتے ہوئے کھو گئے۔ سر جھکائے وہ پلٹا اور بہت دور جا کر ایک ننھی سی بیری کے تنے کا سہارا  لے کر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا۔ اس دنیا  میں نہ تو اس کا کوئی باپ ہے اور نہ ماں ۔۔۔ اور نہ خدا ۔۔۔ اس کی آنکھیں چھلک پڑیں اور وہ سسکیاں بھرتا ہوا وہیں سو گیا۔


متعلقہ تحریریں:

کپاس کا پهول (حصّہ چهارم)

کرفيو آرڈر (تیسرا حصہ)

مٹی کا بھوجھ

کفن