• صارفین کی تعداد :
  • 5836
  • 12/5/2009
  • تاريخ :

موت سی آنکھ میں اترتی ہے

پهول

موت سی آنکھ میں اترتی ہے
زندگی سانس میں سلگتی ہے
راستے کا سراغ ملنے تک
زندگی لازمن بھٹکتی ہے
دل میں ہوتا ہے زندگی کا گمان
ایک خواہش سی اب دھڑکتی ہے
رات ہوتے ہی اک تمنا ہے
جو سرہانے مرے بلکتی ہے
سائبانوں کی بات کرتے ہو
اب سمندر میں ریت جلتی ہے
تم میرے آس پاس آ جاؤ
سوچ اب دور تک بھٹکتی ہے

 

شاعر کا نام : ڈاکٹر کاشف سلطان

کتاب کا نام : محبت بانجھ رشتہ ہے

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

تمام عمر کے ساتھی سے دل بہلتا کیا

میں جس گمان میں رہتا ہوں  ایک مدّت سے

اک پگھلتی ہوئی روشنی کے تلے