• صارفین کی تعداد :
  • 3070
  • 12/5/2009
  • تاريخ :

علی (ع) تنہا مولود کعبہ

امام علي(ع)

مقدمہ

خانہ کعبہ ایک قدیم ترین عبادت گاہ ہے اس کی بنیاد حضرت آدم (ع) نے ڈالی تھی اور اس کی دیواریں حضرت ابراہیم (ع) اور حضرت اسماعیل (ع) نے بلند کیں۔ اگرچہ یہ گھر بالکل سادہ ہے نقش و نگار اور زینت و آرائش سے خالی ہے فقط چونے مٹی اور پتھروں کی ایک سیدھی سادی عمارت ہے ، مگر اس کا ایک ایک پتھر برکت و سعادت کا سرچشمہ اور عزت و حرمت کا مرکز و محور ہے ۔ (۱)

خدا وند عالم فرماتا ہے :

” جَعَلَ اللّٰہُ الکعبۃ البیت الحرام“ (۲)

” اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کو محترم گھر قرار دیا ہے “

خانہ کعبہ کی عزت و حرمت دائمی اور ابدی ہے ایسا نہیں ہے کہ پہلے اس کی عزت و حرمت تھی اب نہیں ہے ۔ بلکہ جس وقت اس کی بنیاد رکھی گئی اسی وقت سے اسے بلند اور با عظمت و غیر معمولی مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے اور آج بھی اس کی مرکزیت و اہمیت اسی طرح قائم و دائم ہے ۔

خدا کے حکم سے حضرت ابراہیم (ع) نے حجاز کے ایک ویران علاقہ میں خانہ کعبہ کی تعمیر شروع کی حضرت اسماعیل (ع) بھی اس کام میں شریک ہو گئے ۔ اس طرح باپ بیٹوں نے مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کو مکمل کرکے اسے پائے تکمیل تک پہنچایا۔ یہ حسن نیت و پرخلوص عمل کا نتیجہ تھا کہ خانہ کعبہ کو تمام جزیرة عرب میں مرکزی عبادتگاہ کی حیثیت حاصل ہو گئی ہر گوشہ و کنار سے لوگ کھنچ کر آنے لگے۔

” اِنَّ اَوَّلَ بَیتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّۃَ مُبَارَکاً وَ ھُدیً لِلعٰالَمِینَ“ (۳)

”پہلا گھر جو لوگوں کے لئے بنایا گیا وہ بکہ میں ہے جو بابرکت اور سارے عالم کے لئے ذریعہ ہدایت ہے “

 

حوالہ جات :

۱۔ سیرہ امیر المومنین ، ج۱۱۴۔ تالیف علامہ مفتی جعفر حسین صاحب ( ناشر امامیہ کتب خانہ لاہور)

۲۔ سورہ مائدہ ۹۷

۳۔ سورہ آل عمران ۹۶

تحریر :  مولانا صفدر حسین یعقوبی  

   مہدی مشن ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

"" غدیر خم "" تاریخ اسلام کا ایک اہم واقعہ

غدیر کا واقعہ لافانی و جاودانی ھے