• صارفین کی تعداد :
  • 3336
  • 11/29/2009
  • تاريخ :

ہندو انتہا پسند جماعتوں کی مسلمانان ہند کے خلاف چالیں

بابری مسجد کی شہادت

سنگھ پریوار اور اس کی حامی تنظیموں نے پورے پچاس سال پوری ہندو قوم کے جذبات کو اجودھیا سے وابستہ کرنے کیلئے لگا دئے ۔ لاکھوں مسلمان اس مہم کی بھینٹ چڑھ گئے ۔اس مہم کو رفتہ رفتہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت مختلف مراحل سے گزارا گیا تاکہ ایک طرف مسلمانوں کی غیرت وحمیت اتنی نہ بڑھے کہ یہ منصوبے ناکام ہوتے نظر آئیں تو دوسری طرف پوری ہندو قوم دھیمے دھیمے اس شہر اور اس جگہ کو اپنا مقدس مرکز تسلیم کر لے اور اس کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا دینے کیلئے تیار ہو جائے ۔

اس کیلئے بی جے پی ایک طرف سیاسی طور سے فضا کو ہموار کر رہی ہے تو دوسری طرف آر ایس ایس نے فکری در اندازی کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے ۔

6 دسمبر1992کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد رام مندر کی تعمیر میں تاخیر پر اب بعض ہندو دانشور بھی انگلیاں اٹھا رہے ہیں ۔ بعض تجزیوں کے مطابق رام مندر کی تعمیر کو صرف اس لئے مؤخر کیا گیا کہ ذہن سازی کے کام میں جو کمی اور کوتاہی رہ گئی ہے وہ پوری ہو اور اس ایشو کے ذریعے بی جے پی کوہندواکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بار بار اقتدار میں آنے کا موقع ملتا رہے ۔

اس پورے ہنگامے میں نام نہاد غیر جانبدارقومی میڈیا نے بھی بہت گل کھلائے ہیں۔ مسلسل ایسے مضامین اور تجزیوں کو شائع کرنا جن سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں اور بھگواوادی لوگ سکون کی ٹھنڈی سانس لے سکیں ،اس کا خاص مشغلہ رہا ہے ۔اس کے علاوہ عدالت کے فیصلے میں غیر معمولی تاخیر میں چاہے کسی کو کتنا فائدہ نظر آئے لیکن یہ بات ضرور اہم ہے اس مسئلہ کو مکمل ایشو بنانے میں اس عدالتی تاخیر کے رول سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔

تحریر : ابو ظفر عادل اعظمی ممبئی ( عالمی اخبار ڈاٹ کام )


متعلقہ تحریریں:

یوم آزادی برصغیر مبارک باد

یوم پاکستان پر خصوصی اشاعت

تاج محل آگرہ پر خصوصی اشاعت