• صارفین کی تعداد :
  • 4931
  • 11/24/2009
  • تاريخ :

صفوان بن یحییٰ

بسم الله الرحمن الرحیم

صفوان ‘ یحییٰ کے بیٹے‘ آپ کی کنیت ابو محمد بجلی کوفی ہے۔ آپ قیمتی ترین کپڑا سابری کے نام سے فروخت کرتے تھے اسی لئے آپ کو سابری بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کے والد امام صادق  کے اصحاب میں سے تھے۔ آپ خود امام کاظم‘ امام رضا ‘ امام نقی  کے ساتھیوں اور راویوں اور امام رضا  کے وکیل تھے آپ 210ئھ میں فوت ہوئے۔

   امام تقی علیہ السلام کو آپ سے خاص محبت تھی ۔ امام نے آپ کی وفات پر اپنی طرف سے کفن اور حنوط بھیجا اور امام کاظم  کے بیٹے اسماعیل  کو حکم دیا کہ آپ کی نماز جنازہ پڑھائے اورایک روایت کے مطابق صفوان سے اپنی رضایت کو بیان کیا۔

  صفوان تجارت میں عبداللہ بن جندب اور علی بن نعمان کے شریک تھے۔ ایک دن انہوں نے بیت اللہ الحرام میں عہد کیا کہ جو کوئی پہلے فوت ہوا جو زندہ رہے وہ دوسرے کے لئے نماز‘ روز‘ زکوٰة دے گا۔ وہ دونوں پہلے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ صفوان دن میں 150رکعت نماز پڑھتے سال میں تین مہینے روزے رکھتے۔ ہر سال تین مرتبہ زکوٰة دیتے۔ جو مستحب کام بھی بجا لاتے ان دونوں کے لئے بھی انجام دیتے۔

    صفوان اصحاب اجماع میں سے ہیں شیعہ علماء بالاتفاق آپ کی روایات کے صحیح ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ نجاشی آپ کو ثقہ‘ عین ثقہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ شیخ طوسی صفوان کو علماء حدیث کے نزدیک موثق ترین افراد میں سے سمجھتے ہیں۔ آپ اپنے زمانے کے عبادت گزار ترین افراد میں سے تھے۔

    صفوان نے  30 کتابیں تصنیف کیں اور آپ کا نام سلسلہ سند میں 1100 سے زیادہ مرتبہ آیا ہے۔ صفوان نے ابن ابی عمیر‘ ابن بکیر ‘حماد بن عثمان‘ عبداللہ بن سنان اور دوسروں سے روایت کو سنا ہے اور احمد بن محمد بن ابی البزنطی‘ محمد بن خالد البرقی‘ فضل بن شاذان نیشاپوری وغیرہ نے آپ کی حدیث کو نقل کیا ہے۔

 اسلام ان اردو ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

محمد بن ابی عمیر

محمد بن مسلم