• صارفین کی تعداد :
  • 3568
  • 11/9/2009
  • تاريخ :

ازدوا ج پيغمبر (ص) ا كرم اور مفہوم اہلبيت (ع) ( حصّہ دوّم )

محمّد رسول الله

ازدوا ج پيغمبر (ص) ا كرم اور مفہوم اہلبيت (ع)

6 _ ابوہريرہ نے جناب ام سلمہ سے روايت كى ہے كہ جناب فاطمہ (ع) رسول اكرم(ص) كے پاس ايك پتيلى لے كر آئيں جس ميں عصيدہ (حلوہ) تھا اور اسے ايك سينى ميں ركھے ہوئے تھيں، اور اسے رسول اكرم(ص) كے سامنے ركھديا_

تو آپ نے فرمايا كہ تمھارے ابن عم اور دونوں فرزندكہاں ہيں ؟ عرض كى  گھر ميں ہيں فرمايا سب كو بلاؤ تو فاطمہ (ع) نے گھر آكر على (ع) سے كہا كہ آپ كو اور آپ كے دونوں فرزندوں كو پيغمبر اكرم(ص) نے طلب فرماياہے_

جس كے بعد ام سلمہ فرماتى ہيں كہ حضور نے جيسے ہى سب كو آتے ديكھا بستر سے چادر اٹھاكر پھيلادى اور اس پر سب كو بٹھاكر اطراف سے پكڑ كر اوڑھاديا اور داہنے ہاتھ سے طرف پروردگار اشارہ كيا مالك يہ ميرے اہلبيت (ع) ہيں لہذا ان سے رجس كو دور ركھنا اور انھيں مكمل طور پر پاك و پاكيزہ ركھنا -

( تفسير طبرى 22 ص 7)_

7_ حكيم بن سعد كہتے ہيں كہ ميں نے جناب ام سلمہ كے سامنے على (ع) كا ذكر كيا تو انھوں نے فرمايا كہ آيت تطہيرانھيں كے بارے ميں نازل ہوئي ہے، واقعہ يہ ہے كہ رسول اكرم(ص) ميرے گھر تشريف لائے اور فرمايا كہ كسى كو اندر آنے كى اجازت نہ دينا ، اتنے ميں فاطمہ (ع) آگئيں تو ميں انھيں روك نہ سكي، پھر حسن (ع) آگئے تو انھيں بھى نانا اور ماں كے پاس جانے سے روك نہ سكي، پھر حسين (ع) آگئے تو انھيں بھى منع نہ كرسكى اور جب سب ايك فرش پر بيٹھ گئے تو حضور نے اپنى چادر سب كے سر پر ڈال دہى اور كہا خدايا يہ ميرے اہلبيت (ع) ہيں، ان سے رجس كو دور ركھنا اور انھيں مكمل طور پر پاكيزہ ركھنا جس كے بعد يہ آيت نازل ہوئي اور ميں نے عرض كى كہ يا رسول (ص) اللہ اور ميں ؟ تو حضور نے ہاں نہيں كى اور فرمايا كہ تمہارا انجام خير ہے-

( تفسير طبرى 22 ص 8)_

8 _ شہر بن حوشب جناب ام سلمہ سے نقل كرتے ہيں كہ رسول اكرم(ص) نے على (ع) ، حسن (ع) ، حسين (ع) اور فاطمہ (ع) پر چادر اوڑھادى اور فرمايا كہ خدايا يہ ميرے اہلبيت (ع) اور خواص ہيں لہذا ان سے رجس كو دور ركھنا اور انھيں پاك و پاكيزہ ركھنا _  جس پر ميں نے عرض كى كہ كيا ميں بھى انھيں ميں سے ہوں ؟ تو فرمايا كہ تمھارا انجام خير ہے ( مسند احمد بن حنبل 10 ص 197 / 26659 ، سنن ترمذى 5 ص 699 /3871 ، مسند ابويعلى 6 ص290 / 6985 ، تاريخ دمشق حالات امام حسين (ع) 62 / ص88 تاريخ دمشق حالات امام حسن (ع) 65 ص 118 )_

واضح رہے كہ ترمذى ميں انا منہم كے بجائے انا معہم؟ ہے اور آخرى تين مدارك ميں خاصتى كے بجائے حامتى ہے_

9 _ شہر بن حوشب ام سلمہ سے راوى ہيں كہ فاطمہ (ع) بنت رسول (ص) پيغمبر اكرم كے پاس حسن (ع) و حسين (ع) كو لے كر آئيں تو آپ كے ہاتھ ميں حسن (ع) كے واسطے ايك برمہ (پتھر كى بانڈي) تھا جسے سامنے لاكر ركھ ديا تو حضور (ص) نے دريافت كيا كہ ابوالحسن (ع) كہاں ہيں، فاطمہ (ع) نے عرض كى كہ گھر ميں ہيں تو آپ نے انھيں بھى طلب كرليا اور پانچوں حضرات بيٹھ كر كھانے لگے_

جناب ام سلمہ كہتى ہيں كہ حضور نے آج مجھے شريك نہيں كيا جبكہ ہميشہ شريك طعام فرمايا كرتے تھے ، اس كے بعد جب كھانے سے فارغ ہوئے تو حضور نے سب كو ايك كپڑے ميں جمع كرليا اور دعا كى كہ خدايا ان كے دشمن سے دشمنى كرنا اور ان كے دوست سے دوستى فرمانا_

 (مسند ابويعلى 6 ص 264 / 6915 ، مجمع الزوائد 9 ص 262 / 14971 )

10 _ شہر بن حوشب نے جناب ام سلمہ سے نقل كيا ہے كہ رسول اكرم(ص) نے فاطمہ (ع) سے فرمايا كہ اپنے شوہر اور فرزندوں كو بلاؤ اور جب سب آگئے تو ان پر ايك فدك كے علاقہ كى چادر اوڑھا دى اور سر پر ہاتھ ركھ كر فرمايا خدايا يہ سب آل محمد(ص) ہيں لہذا اپنى رحمت و بركات كو محمد(ص) و آل محمد(ص) كے حق  ميں قرار دينا كہ تو قابل حمد اور مستحق مجد ہے_

اس كے بعد ميں نے چادر كو اٹھاكر داخل ہونا چاہا تو آپ نے ميرے ہاتھ سے كھينچ لى اور فرمايا كہ تمہارا انجام بخير ہے_ ( مسند احمد بن حنبل 10 ص 228 / 26808_ المعجم الكبير 3 ص 53 / 2664 _ 23 ص 336 / 779 ، تاريخ دمشق حالات امام حسين (ع) 64 ص 93، حالات امام حسن (ع) 65 ، ص 116 67 ،ص 120 ، مسند ابويعلى 6 ص 248 / 6876 _

https://www.maaref-foundation.com