• صارفین کی تعداد :
  • 11079
  • 10/26/2009
  • تاريخ :

مکتوب نمبر7 

( معاویہ ابن سفیان کے نام )

امام علی علیہ السلام

 اما بعد ۔ میرے پاس تیری بے جوڑ نصیحتوں کا مجموعہ اور تیرا خوبصورت سجایا بنایا  ہوا خط میرے پاس آیا جسے اپنی گمراہی کی بنا پر تم نے لکھا اور اس پر تیری بے عقلی نے امضاء کیا ہے ۔ یہ ایک ایسے شخص کا خط ہے کہ جسے نہ روشنی نصیب ہے کہ اسے سیدھی راہ دکھائے اورنہ کوئی رہبر ہے کہ اسے صحیح راستے پر ڈالے۔ جسے نفسانی خواہشوں نے پکارا تو وہ لبیک کہہ کر اٹھا اورگمراہی نے اس کی رہبری کی تو وہ اس کے پیچھے ہو لیا اور یا وہ گوئی کرتے ہوئے اول فول بکنے لگا اور بے راہ ہوتے ہوئےبھٹک گیا۔

 

اس مکتوب کا ایک حصہ یہ ہے:

کیونکہ یہ بعیت ایک ہی دفعہ ہوتی ہےنہ پھر اس میں نظر ثانی کی گنجائش ہوتی ہے اورنہ پھرسے چناو ہو سکتا ہے اس سے منحرف ہونے والا نظام اسلامی پر معترض قرار پاتا ہے اورغور وتامل سے کام لینے والا منافق سمجھا جاتا ہے۔

 


متعلقہ تحریریں:

مکتوب  نمبر 1

مکتوب نمبر 2

مکتوب نمبر۳