• صارفین کی تعداد :
  • 1983
  • 9/8/2009
  • تاريخ :

خواندگی کا عالمی دن

خواندگی کا عالمی دن

پاکستان تعلیم پر قومی آمدنی کا 2.7 ایتھوپیا 6 فیصد خرچ کرتا ہے 

آج خواندگی کا عالمی دن اس تلخ حقیقت کے ساتھ منایا جا رہا ہے کہ پرائمری ایج گروپ کے ایک ارب بچے اسکولوں میں داخل نہیں ان میں سے 55 فیصد لڑکیاں ہیں۔ یونیسکو کی گلوبل مانیٹرنگ رپورٹ 2009ء کے مطابق 2015ء تک 25 ممالک اقوام متحدہ کے مقررہ یونیورسل پرائمری ایجوکیشن کے اہداف حاصل نہ کر سکیں گے۔ عالمی دن کے حوالے سے جنگ ڈیولپمنٹ رپورٹنگ سیل کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے اور اگر موجودہ شرح برقرار رہی تو 2015ء تک 134 ممالک میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد صرف 29 ملین رہ جائے گی تاہم پاکستان کے تعلیمی ماہرین میں یہ امر تشویش ناک ہے کہ اقوام متحدہ نے 2015ء تک دنیا میں Out of School Children کی تعداد کا جو اندازہ لگایا ہے اس میں نائیجریا 7.6 ملین سرفہرست جب کہ پاکستان 3.7 ملین دوسرے نمبر پر ہو گا تاہم عالمی ادارے کے مطابق اگر حکومت عزم باندھ لے اور خواندگی کی جاری سست رفتار اضافے کی شرح تیز تر کرنے کیلئے انقلابی اقدامات کرے تو اس حوالے سے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے۔

    103 ممالک میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق 89 ممالک میں پرائمری کی سطح پر داخلے میں ایک بڑی رکاوٹ قانونی، غیر قانونی فیس ہے۔ 2015ء تک 40 طالب علموں کیلئے ایک استاد کے ہدف کے حصول کیلئے ان کی تعداد میں سالانہ 20 فیصد اضافہ کرنا ہو گا دنیا میں 100خواندہ مردوں کے مقابلے میں 88 خواتین پڑھی لکھی ہیں پاکستان میں 57 ہے، پاکستان میں 100 لڑکوں کی نسبت 80 لڑکیاں پرائمری میں داخل ہیں۔ 1990-06ء کے دوران 105 میں سے 40 ممالک میں تعلیم کیلئے قومی آمدنی میں حصہ کم ہوا ہے۔ بھارت 3.3، بنگلہ دیش 2.6 اور پاکستان قومی آمدنی کا 2.7 فیصد جبکہ ایتھوپیا جیسا ملک تعلیم کیلئے 6 فیصد خرچ  کر رہا ہے ۔

                روزنامہ جنگ پاکستان