• صارفین کی تعداد :
  • 4424
  • 9/5/2009
  • تاريخ :

""شوہر داري"" يعنى شوہر كى نگہداشت اور ديكھ بھال

شوھر داری

بيوى بننا كوئي معمولى اور آسان كام نہيں كہ جسے ہر نادان اور ناہل لڑكى بخوبى بنھا سكے ۔ بلكہ اس كے لئے سمجھدارى ، ذوق و سليقہ اور ايك خاص دانشمندى و ہوشيارى كى ضرورت ہوتى ہے ۔ جو عورت اپنى شوہر كے دل پر حكومت كرنا چاہتى ہے اسے چاہئے كہ اس كى خوشى و مرضى كے اسباب فراہم كرنے اس كے اخلاق و كردار اور طرز سلوك پر توجہ دے اور اسے اچھے كاموں كى ترغيب دلائے ، اور برے كاموں سے روكے ۔ اس كى صحت و سلامتى اور اس كے كھانے پينے كا خيال ركھے اور اسے ايك باعزت ، محبوب اور مہربان شوہر بنانے كى كوشش كرے تاكہ وہ اس كے خاندان كا بہترين سرپرست اور اس كے بچوّں كا بہتريں باپ اور مربى ثابت ہو ۔ خداوند عالم نے عورت كو ايك غير معمولى قدر و صلاحيت عطا فرمائي ہے ۔ خاندان كى سعادت و خوش بختى اس كے ہاتھ ميں ہوتى ہے اور خاندان كى بدبختى بھى اس كے ہاتھ ميں ہوتى ہے ۔

عورت چاہے تو اپنے گھر كو جنت كا نمونہ بنا سكتى ہے اور چاہے تو اسے جہنّم ميں بھى تبديل كرسكتى ہے وہ اپنے شوہر كو ترقى كى بلنديوں پر بھى پہونچا سكتى ہے ۔ اور تنزلى كى طرف بھى لے جا سكتى ہے ۔ عورت اگر ""شوہر داري"" كے فن سے بخوبى واقف ہو اور خدا نے اس كے لئے جو فرائض مقرر فرمائے ہيں انھيں پورا كرے تو ايك عام مرد كو بلكہ ايك نہايت معمولى اور نااہل مرد كو ايك لائق اور باصلاحيت شوہر ميں تبديل كر سكتى ہے ۔

ايك دانشور لكھتا ہے : عورت ايك عجيب و غريب طاقت كى مالك ہوتى ہے وہ قضا و قدر كى مانند ہے ۔ وہ جو چاہے وہى بن سكتى ہے ۔ (1)

اسمايلز كہتا ہے : اگر كسى فقير اور بے مايہ شخص كے گھر ميں خوش اخلاق اور متقى و نيك عورت موجود ہو تو وہ اس گھر كو آسائش و فضيلت اور خوش نصيبى كى جگہ بنا ديتى ہے ۔
 
نيپولين كہتا ہے :"" اگر كسى قوم كى ترقى و تمدن كا اندازہ لگانا ہوتو اس قوم كى خواتين كو ديكھو ""۔
 
بالزاك كہتا ہے : نيك و پاكدامن عورت كے بغير، گھر ايك قبرستان كى مانند ہے ۔

اسلام ميں بيوى كے فرائض كو اس قدر اہميت د ى گئي ہے كہ اس كو خدا كى راہ ميں جہاد سے تعبير كيا گيا ہے ۔ حضرت على (ع) فرماتے ہيں : عورت كا جہاد يہى ہے كہ وہ بحيثيت بوى كے اپنے فرائض كو بخوبى انجام دے ۔ (2)

اس بات كو مد نظر ركھتے ہوئے كہ اسلام كى عظمت و ترقى كے لئے ۔ اسلامى ممالك كا دفاع كرنے اور سماج ميں عدل و انصاف قائم كرنے كے لئے خدا كى راہ ميں جہاد ، ايك بہت بڑى عبادت شمار كيا جاتا ہے يہ بات بخوبى واضح ہوجاتى ہے كہ عورت كے لئے شوہر كى ديكھ بھال كرنا اور اپنے فرائض كو انجام دينا كتنا اہم كام ہے ۔

حوالہ جات :

1-كتاب"" در آغوش خوش بختي"" ص 142

2- بحار الانوارج 103 ص 254

 

نام كتاب  ازدواجى زندگے كے اصول يا خاندان كا اخلاق
مصنّف حجة الاسلام و المسلمين ابراہيم اميني
ترجمہ   محترمہ عندليب زہرا كامون پوري
كتابت  سيد قلبى حسين رضوى كشميري
ناشر  سازمان تبليغات اسلامى روابط بين الملل
تہيہ و تنظيم   شعبہ اردو۔ سازمان تبليغات اسلامي
تاريخ   جمادى الثانى سنہ 1410 ھ


متعلقہ تحریریں:

خواتین امام خمینی (رہ) کی نگاہ میں

کیا مرد اور عورت کے درمیان عقل کے لحاظ سے کوئی فرق ہے؟