• صارفین کی تعداد :
  • 5214
  • 8/26/2009
  • تاريخ :

طب اسلامی اپنے عہد سے ہزار سال آگے (حصّہ دوّم)

طب اسلامی

جب پورا یورپ خصوصی طور پر لندن اور پیرس دھول اور کیچڑوں کا ڈھیر تھا تب بغداد، قاہرہ اور کارڈوبا کے اسپتالوں میں عورتوں اور مردوں کے لئے علیحدہ انتظام تھا۔ بخار کے مریضوں کو ایسے کمروں میں رکھا جاتا جہاں جھرنوں اور فواروں سے ٹکرا کر سرد ہوا آتی ۔ پاگلوں اور ذہنی و نفسیاتی امراض کے لئے شعبے جدا تھے۔ مریضوں کو سکون کی خاطر کہانیاں سنائی جاتی اور ہلکی موسیقی سے سکون فراہم کیا جاتا۔ مریضوں کو اسپتال سے رخصت کے وقت رائج 5اشرفیاں دی جاتی ۔ عورت نرس اور مرد تیمار دار مریضوں کی دیکھ ریکھ کے لئے ہوتے ۔ ان اسپتالوں میں لائبریری، کیمیا گری، دواسازی، تحقیق و تفتیش کے کام بھی کئے جاتے۔ اسی زمانہ میں دیہی علاقوں میں علاج کے لئے اور معذور لوگوں کے علاج کے لئے سواری گاڑیوں پر متحرک اسپتالوں کا نظام تھا۔ دواسازی کے اعلی معیار کے تحقیق کے لئے(ڈرگ کنٹرول)تفتیش کار (انسپیکٹر)مقرر کئے گئے تھے۔

دواسازی (عطار) کرنے والوں کو حکومت کی طرف سے لائسنس دیا جاتا تھا۔ طب کی تعلیم میں بھی مسلمانوں نے بیکٹیریالاجی، میڈیسن، اینتھیسیا سرجری، فارمیسی، روپ تھامولوجی، سائیکوتھیراپی، سائیکو سوماٹک جیسے امراض کی نہ صرف شناخت کی بلکہ ان کا علاج بھی کیا اور ان شعبوں کو ترقی کے بام عروج پر پہنچا دیا۔

   اسلامی حکومت حضور کے وصال کے صرف 80 سال کے بعد مغرب میں اٹلاسٹک روشن سے مشرق میں چین تک پھیل چکا تھا۔اسپین میں اس نے 700سال تک حکومت کی ۔ منگلولوں کے بربری قبضہ کے بعد بغداد کو (1258) میں جلا کر تمام کارناموں کو ختم کردیا گیا ۔ اس طرح اسپین کی تہذیبی وراثت کو ڈھا کر ختم کردیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود بھی اسلامی حکومتوں نے 1000ہزار سال تک دنیا کے نہایت ترقی یافتہ اور مہذب ممالک کی حیثیت سے حکومت کی ۔اسی زمانہ میں یونانی طب حکمت و دیگر کتابوں کو یونانی سے عربی میں ترجمہ کیا گیا اور 10ویں صدی میں یہ کام دمشق، قاہرہ اور بغداد میں بڑے پیمانہ پر کیا گیا اور اس طرح بغداد سائنسی علمی تحقیقی شہر کے حیثیت سے سارے دنیا میں نمایاں ہوکر ابھرا۔اسلامی ادویہ و طریقہ علاج اسلامی تہذیب کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جو مسلم سائنسدانوں کا عظیم کارنامہ ہے اور آج بھی پورا یورپ ان کے علم سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ کیمپ بل نے بہت اچھی بات کہی ”یورپین میڈیکل سسٹم بنیادی طور پر عربی ہے ۔ عرب سائنسداں یورپین کے بہت قبل ذہین ترین لوگ رہے ہیں“۔

636AD میں فارس کے شہر میں جندی شاپور میں مسلمانوں نے بڑ ی بڑی یونیورسٹی قائم کی تھی ۔جس میں اسپتال بھی شامل تھے۔بعد کے تمام اسلامی طبی کالج اسی بنیاد پر قائم کئے گئے ۔یہاں میڈیکل تعلیم نہایت اعلی درجہ کی اور سلسلہ وار تھی۔

 یہاں لیکچر اور تعلیم عملی طورپر ساتھ ساتھ دی جاتی ۔علی ابن العباس (494AD) کی یہ بات طالب علموں کے لئے آج بھی مشعل راہ ہے ۔انہوں نے میڈیکل طلبا سے کہا کہ انہیں مستقل طور پر اسپتال اور مریض گھروں میں جانا چاہئے ۔ مریضوں کا خاص خیال رکھیں ۔ان کی کیفیت اور حالات کا جائزہ لیتے رہیں ۔ مریضوں سے ان کے حالات دریافت کریں اور کیفیتوں کا علم حاصل کریں اور مقابلاتی جائزہ لیں کہ انہوں نے کیا سمجھا تھا اور حالات کیا ہیں۔ رازی(841-926) نے طلبا سے کہا کہ مریضوں کے کیفیت اور مرض جو انہوں نے پایا اس کے مابین فرق کا اندازہ لگائیں۔اس زمانہ میں رازی ۔ ابن سینا(890-1037) اور ابن زہر(116AD) اسپتال کے نہ صرف ڈائریکٹرس تھے بلکہ میڈیکل کالج کے ڈین کے فرائض بھی انجام دے رہے تھے۔مریضوں کی معالجاتی رپورٹ لکھی جاتی اور طلبا کو عملی تعلیم دی جاتی، اس کے لئے رجسٹر مین ٹین کیا جاتا۔اس زمانہ میں صرف جندی میں بنیا دی سائنس کی تعلیم کے کئی جدا ادارے تھے۔

بغداد میں لنگور کے جسم کی تشریح کے ذریعہ علم الابدان کی تعلیم دی جارہی تھی۔

علقمی کے تجرباتی کتابوں کا مطالعہ جڑی بوٹیوں ان کے خواص کے لئے اور دواسازی کے لئے لازمی تھا۔ بہت سارے اسپتالوں میں جڑی بوٹیوں کے لئے پودے اگانے کا انتظام تھا۔اس سے طلبا کو شناخت کرانا اور مریضوں کے لئے دوا تیار کرنا مقصود تھا۔اس ابتدائی تعلیم کے بعد میڈیکل کے طلبا کو تجربوں کے لئے اسپتالوں میں لے جایا جاتا تھا۔یہ طلبا ایک نوجوان طبیب کے ساتھ ایک جماعت کی شکل میں اسپتال کے ابتدائی اصول و ضوابط سیکھتے اور کتابوں و لائبریری لیکچر اور دستاویزوں سے فیض حاصل کرتے ۔اس ابتدائی مرحلہ میں زیادہ تر تعلیم دواسازی ،اس کا متبادل اور ٹوکسی کولوجی کے متعلق کی جاتی تھی۔

تحریر : اصغر انصاری


متعلقہ تحریریں:

مسلمان اور سائنس

مذہب اور سائنس میں تعلق

اسلا م اور سائنس میں عدم مغایرت