• صارفین کی تعداد :
  • 4453
  • 7/10/2008
  • تاريخ :

عارف رومی کی ایک مشہور غزل مع ترجمه

مولوی کا مقبره-قونیه-

 

بکشائے لب کہ قند فراوانم آرزوست

بنمائے رخ کہ باغ وگلستانم آرزوست

 اپنے لب کھولئے کہ میں قند فراواں کی آرزو رکھتا ہوں!اپنا مکھڑا دکھلائیے کہ میں باغ وگلستان دیکھنے کا خواہش مند ہوں!

یک دست جام بادہ ویک دست زلف یار

رقص چنیں میانہء میدانم آرزوست

 

 ایک ہاتھ میں جام شراب ہو اور ایک ہاتھ میںزلف یار پھرمیں میدان کے درمیان میں رقص کناں ہو جاوں یہی میری آرزو ہے۔

 

گفتی ز ناز بیش مرنجاں مرا،برو

 

آن گفتنت کہ بیش مرنجانم آرزوست

 

و نے بڑے ناز سے کہا کہ جا مجھے زیادہ تنگ نہ کر مجھے تیری یہی بات کہ مجھے تنگ نہ کر ،سننے کی آرزو ہے۔

 

ای عقل تو ز شوق پراگندہ گوئے شو

 

اے عشق نکتہ ہائے پریشانم آرزوست

 

 اے عقل! تو شوق سے پراگندہ گو بن جا! اور اے عشق!تجھ سے مجھے پریشان کر دینے والے نکات سننے کی آرزو ہے

 

جانم ملول گشت زفرعون و ظلم او

 

آن نور جیب موسی عمرانم آرزوست

 

  فرعون اور اس کے ظلم سے میرا دل بہت ملال انگیز ہے،مجھے موسیٰ علیہ السلام کے ید بیضا کی تمنا ہے۔

 

دی شیخ ‌با چراغ  ہمی  گشت گرد شہر

 

کز دیو و دد ملولم وانسانم آرزوست

 

 کل شیخ ہاتھ میں چراغ لئے سارے شہر میں گھومتا رہا کہ میں شطانوں اور درندوں سے دل برداشتہ ہو گیا ہوں کسی انسان کی آرزو ہے۔

 

 زیں ہمرہان سست عناصر دلم گرفت

 

شیر خدا و رستم دستانم آرزوست

 

 ان کمزرو اور سست ہمراہیوں سے دل گرفتہ ہوں میں شیر خدا اور رستم جیسی طاقت رکھنے والون کی آرزو رکھتا ہوں!

 

 

گفتم کہ یافت می نشود جستہ ایم ما

 

گفت آنکہ یافت می نشود آنم آرزوست

 

میں نے کہا ایسا انسان نہیں ملتا ہم نے بھی بہت ڈھونڈا ہے کہنے لگا:جو نہیں ملتا مجھے اسی کی آرزو

ہے۔