• صارفین کی تعداد :
  • 2738
  • 2/13/2008
  • تاريخ :

افسانہ

افسانہ نگار

 

«افسانہ» کیا ھے ؟

 لغت کے اعتبار سے افسانہ جھوٹی کہانی کو کہتے ہیں لیکن ادبی اصطلاح میں ایک سچی اور حقیقی کہانی کو افسانہ کہا جاتا ہے جس میں کسی ایک واقع کو بنیاد بنا کر کہانی کی تشکیل کی گئی اور جس میں حقیقی  زندگی کے کسی ایک جز کو لے کر کہانی بُنی گئی ہو۔ جس میں وحدت  تاثر ہو، کہ پڑھنے کے بعد ذہن میں صرف ایک تاثر رہ جائے ۔ ناول زندگی کا کل اور افسانہ زندگی کا ایک جز پیش کرتا ہے۔ جبکہ ناول اور افسانے میں طوالت کا فرق بھی ہے۔

 

«افسانہ» کی مختصر تاریخ

جہاں تک اردو ادب کے پہلے افسانہ نگار کا تعلق ہے تو اس کے متعلق مختلف آرا ءہیں ۔ ڈاکٹر معین الدین نے سجاد حیدر یلدرم کو پہلا افسانہ نگار قرار دیا ہے۔ جبکہ بعض کے خیال میں ''پریم چند'' پہلے افسانہ نگار ہیں لیکن جدید تحقیق کے مطابق بقول ڈاکٹر مرزا حامد بیگ ”راشد الخیری “ اردو ادب کے پہلے افسانہ نگار ہیں جن کا افسانہ ”خدیجہ اور نصیر “ 1903ء کو'' مخزن'' میں شائع ہوا۔ اولیت جیسے بھی حاصل ہو لیکن سجاد حیدر یلدرم اور پریم چند اردو افسانے کے دو اہم نام اور ستون ہیں ۔ یہ دو نام ہیں بلکہ دو رحجانات  ہیں ایک ''رومانیت''  کا اور دوسرا  ''حقیقت نگاری''  کا ۔ لہٰذا بعد میں ہم دیکھتے ہیں کہ کئی ایسے نام ہیں جن کے ہاں یلدرم کا رومانی مزاج ہے اور بعض کے ہاں پریم چند کی طرح حقیقت نگاری کا رجحان غالب ہے۔ اور1947تک انہی دو رجحانات کی بازگشت اردو افسانے میں سنائی دیتی ہے۔ مثلا نیاز فتح پوری، حجاب امتیاز علی، مجنوں گورکھپوری، کے افسانوں میں رومانوی مزاج ملتا ہے۔ جبکہ باقی ترقی پسند افسانہ نگاروں کا مزاج  حقیقت نگاری سے ملتا ہے۔ لیکن ان رجحانات میں حقیقت نگاری کا رجحان غالب ہے۔

مثلا رشید جہاں، احمد علی اور محمود الظفر کے افسانوں کا مجموعہ ”انگار ے “ جو کہ موجود ہ دور کے انتشار اور ناہموار حالات سے پیدا ہونے والی بغاوت کا آئینہ دار ہے۔ خصوصا 1936ءکے بعد تو چار افسانہ نگاروں جن میں کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، سعادت حسن منٹو، اور عصمت چغتائی کے ہاں حقیقت کے زاوےے زیادہ مضبوط ہیں۔ کرشن چندر نے حقیقت میں رومان کا امتزاج پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن ان کا رومان بھی رومانیت کے ذیل میں نہیں آتا۔ اور ان کے رومان کا تعلق حقیقت سے ہے۔ کرشن کے کردار اسی حقیقی دنیا میں محبت کرتے ہیں اسی لیے انہیں اکثر جدائی کا صدمہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس جدائی کے پس منظر میں معاشی معاشرتی حالات بھی موجود ہوتے ہیں۔

راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں کا تعلق بھی حقیقت نگاری کی طرف زیادہ او ررومان کی طرف کم ہے۔ اُن کے ہاں موضوعات کا مکمل تنوع موجود ہے۔ اور انہوں  نے معاشیات، نفسیات، معاشرت، ہمارے رشتے، پھر سماج ہر حوالے سے لکھا اور حقیقت سے اُن کا گہرا رشتہ موجود ہے۔

جبکہ منٹو کا تعلق ہماری معاشرتی حقیقتوں سے گہرا ہے وہ ساری زندگی ہماری سماجی، معاشرتی منافقتوں اور غلاظتوں کی نشاندہی کرتا رہا۔ عصمت چغتائی نے بھی معاشی اور معاشرتی حالات کے تحت پیدا ہونے والی جنسی محرومیوں پر کہانیاں لکھیں۔ اور متوسط گھرانے کی زندگی پر قلم اٹھایا ۔

حیات اللہ انصاری کا افسانہ ”آخری کوشش“ اس حوالے کی شاید بہترین مثال ہے جو معاشی مسائل سے پیدا ہونے والی انسان کی بے بسی کی تصویر ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے دیہات کی عکاسی کی ہمارے داخلی اور خارجی مشکلات کی کہانیاں بھی بیان کیں۔ اور اپندرناتھ اشک اور خواجہ احمد عباس کے افسانوں کا رشتہ خلاء سے نہیں زمین سے رہا ۔ لہذا 47 ء  تک جو افسانہ سفر کرتے ہوئے پہنچا وہ ان رومان اور حقیقت دونوں رجحانات کے ساتھ آیا لیکن اس کی بنیاد زندگی اور اس کے مسائل ہی رہے ۔ افسانوں میں رومان کی فضاء بھی اس قسم کی ہے کہ اس کو سماج سے الگ نہیں کر سکتے ۔ یعنی رومان اور حقیقت ساتھ ساتھ سفر کر رہے ہیں۔

 

«افسانہ» 1947 ء  کے بعد

47 کے بعد ہمارے افسانے میں فسادات کے موضوع کو بہت تقویت ملی لیکن کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا تعلق جذباتیت اور ہنگامی سوچ سے ہوتا ہے اور انہی کی وجہ سے افسانے کا فن متاثر ہوا۔ لہٰذا اُس وقت کے ہنگامی افسانے اُس دور میں میں تو مقبول رہے لیکن آج اُن کی حیثیت محض تاریخی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس دور میں اچھے افسانے منظر عام پر نہیں آئے۔ مثال کے طور پر اچھا اور بڑا افسانہ جو تخلیق کیا گیا جو فسادات کے ساتھ چلتے ہوئے مجموعی رویوں کے ساتھ منسلک کیا گیا اور جو کل بھی زندہ تھا اور آج بھی اُس میں زندہ رہنے کی صلاحیت موجود ہے وہ افسانہ منٹو کا ”ٹوبہ ٹیک سنگھ “ ہے۔ جو فسادات کے پس منظر میں لکھا گیا اور جس میں فسادات سے پیدا ہونےوالی الجھنوں سے لوگوں کے ذہنوں پرجو اثرات پڑے، ان کے بارے میں بیان کیا گیا ۔ منٹو کا ایک اور افسانہ ”کھول دو “ میں47 کے بعد کے حالات کا ذکر ہے۔ کہ ہجرت کے بعد لوگوں کے ساتھ کیا ہوا۔ منٹو ساری زندگی انسان کو تلاش کرتا رہا اور مشرقی اور مغربی انسان کی غلاظتیں تلاش کرتا رہا۔ کہ انسان کا باطن ظاہر کی طرح صاف شفاف ہے یا نہیں۔ ہمارے اندر کی غلاظت کو وہ دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اس غلاظت کو دیکھنے کا ایک اچھا موقع آزادی کے بعد یعنی  47 کے بعد کا تھا کیونکہ آزادی کو اکثر لوگ غلط رنگ چڑھا دیتے ہیں۔

اسی حوالے سے دوسرا نام احمد ندیم قاسمی کا ہے۔ انکے افسانے ” نیا فرہاد “ میں دکھایا گیا ہے کہ لاہور میں سکھ مسلمانوں کو مار رہے ہیں او ر مسلمان ہندو اور سکھوں کو مضافاتی دیہات میں قتل کر رہے ہیں۔ اس افسانے میں عمل کی تلقین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اُن کا دوسرا افسانہ ” تسکین “ اُس ماحول پر مشتمل ہے جو کہ ”یاخدا“ میں ہے۔ ان کا تیسرا فسانہ ”پرمیشور سنگھ“ میں انسانی رویوں کو بیان کیا گیا ہے کہ افسانہ محبت اور نفرت کی اکائی پر کھڑا ہے۔ اور فسادات کو انسانی جسم اور رویوں سے منسلک کیا گیا ہے۔

انتظار حسین کا افسانہ ” بن لکھی رزمیہ ‘ ‘میں آزادی کی جدوجہد اور امنگیں موجود ہیں اور پھر بعد کے حالات کی وجہ سے ان آرزئوں، امنگوں، جذبوں کا ٹوٹنا بھی دکھایا گیا ہے۔

فسادات کے پس منظر میں لکھا ہوا افسانہ ”گڈریا“ میں اشفاق احمد نے ایک سوال اٹھایا ہے کہ اس دور میں جو کچھ ہوا اس کی وجہ کیا تھی کیا ان کی وجہ کوئی مذہبی نظریہ تھا یا کوئی نسلی مسئلہ یا انتقام کی آگ تھی۔ اس افسانے میں انسان کی اندرونی غلاظتوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان افسانوں کے علاوہ ممتاز مفتی کا افسانہ ” ثمینہ “ اور خدیجہ مستور کا ”مینو لے چلا بابلا “ اس حوالے سے قابل ِ ذکر افسانے ہیں۔