متعلقه تحریریں
  • ایشیا کی مساجد (2)
    ایشیا کی مساجد (2)
    بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر نے 16 ویں صدی میں ریاست اترپردیش کے شہر ایودھیا میں تعمیر کرائی۔ یہ مسجد رام کوٹ پہاڑی پر تعمیر کی گئی۔ بابری مسجد بھارتی ریاست اتر پردیش کی بڑی مسجد میں سے ایک تھی۔
  • ایشیا کی مساجد(1)
    ایشیا کی مساجد(1)
    بی بی خانم مسجد ازبکستان کی مشہور تاریخی مسجد ہے جو 14 ویں صدی کے عظیم فاتح امیر تیمور نے اپنی اہلیہ سے موسوم کی تھی۔تیمور نے 1399ء میں ہندوستان کی فتح کے بعد اپنے نئے دارالحکومت سمرقند میں ایک عظیم مسجد کی تعمیر کا منصوبہ بنایا۔
  • مسجد کی تزئین و آرائش
    مسجد کی تزئین و آرائش
    مسلمان اپنی اللہ سے محبت کو مساجد کی تزئین سے نمایاں کرتے ہیں۔ صدیوں سے مساجد قرآنی آیات اور دیگر نقاشی کا شاہکار بنتی رہی ہیں۔ چونکہ اسلام زندہ اشیاء کی تصاویر بنانے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا اس لیے مساجد کی آرائش کے دیگر طریقے اختیار کیے گئے
  • صارفین کی تعداد :
  • 3961
  • 8/18/2008
  • تاريخ :

ایشیا کی مساجد(3)

شیخ لطف اللہ مسجد

ایران کی مساجد

شیخ لطف اللہ مسجد

شیخ لطف اللہ مسجد ایران کے صفوی دور کی عظیم تعمیرات میں سے ایک ہے جو اصفہان کے معروف میدان نقش جہاں کے مشرقی جانب واقع ہے۔

یہ مسجد 1615ء میں صفوی خاندان کے شاہ عباس اول کے حکم پر تعمیر کی گئی۔

اس مسجد کے معمار محمد رضا ابن استاد حسین بنا اصفہانی تھے۔ مسجد کی تعمیر کا کام 1618ء میں مکمل ہوا۔

مسجد گوہر شاد

مسجد گوہر شاد کا ایک دلکش منظر

 

 

گوہر شاد مسجد کا اندرونی حصہ ایرانی کاریگروں کے فن کا منہ بولتا ثبوت ہے

گوہر شاد مسجد ایران کے صوبہ خراسان کے شہر مشہد کی ایک معروف مسلم عبادت گاہ ہے۔ یہ مسجد تیموری سلطنت کے دوسرے فرمانروا شاہ رخ تیموری کی اہلیہ گوہر شاد کے حکم پر 1418ء میں تعمیر کی گئی اور اسے اس وقت کے معروف ماہر تعمیر غوام الدین شیرازی نے تعمیر کیا جو تیموری عہد کی کئی عظیم الشان تعمیرات کے معمار بھی ہیں۔ صفوی اور قاچار دور میں اس مسجد میں تزئین و آرائش کا کام بھی کیا گیا۔ مسجد میں 4 ایوان اور 50 ضرب 55 میٹر کا ایک وسیع صحن اور متعدد شبستان بھی ہیں۔ مسجد کا گنبد 1911ء میں روسی افواج کی گولہ باری سے شدید متاثر ہوا۔ یہ مسجد 15 ویں صدی کی ایرانی تعمیرات کا اولین اور اب تک محفوظ شاہکار ہے۔ اس کے داخلی راستے میں سمرقندی انداز کی محراب در محراب ہیں جبکہ بلند مینار بھی اس کی شان و شوکت کو مزید بڑھاتے ہیں۔

 

سلطانی مسجد

سلطانی مسجد

 

سلطانی مسجد ایران کے صوبہ لورستان کے شہر بروجرد کی ایک عظیم مسجد ہے۔ یہ عظیم الشان مسجد قاچار دور حکومت میں ایک قدیم مسجد کے کھنڈرات کی جگہ تعمیر کی گئی۔ قدیم مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 10 ویں صدی عیسوی میں تعمیر ہوئی۔ اس مسجد کی تعمیر کا حکم قاچار حکمران فتح علی شاہ قاچار نے دیا تھا اور ان کی نسبت سے اسے سلطانی مسجد کہا جاتا ہے۔

سلطانی مسجد

مسجد کے مغربی داخلی دروازے پر ایک پتھر پر 1248ھ (1832ء) سن درج ہے جبکہ خیابان جعفری کی جانب کھلنے والے لکڑی کے دروازے پر 1291ھ (1874ء) کندہ ہے۔ یہ لکڑی کا دروازہ کاریگری کی اعلٰی مثال ہے۔ مسجد کا صحن 61 ضرب 47 میٹر کا ہے جنوبی ایوان کی محراب کی بلندی تقریباً 17 میٹر ہے۔ پہلوی دور میں سلطانی مسجد "مسجد شاہ" کے نام سے جانی جاتی تھی اور آج اسے مسجد امام خمینی کہا جاتا ہے۔ مارچ 2006ء میں آنے والے زلزلے سے مسجد کو شدید نقصان پہنچا۔

قارئین کی تازہ ترین آراء
شناخت نہیں ہو ئی
مسجد الطاف کی تفیلات ارسال کریں
تبیان کا جواب : ہم کوشش کریں گے ۔ آپ کا بہت شکریہ
منگل 2 دسمبر 2008