• صارفین کی تعداد :
  • 3358
  • 6/25/2008
  • تاريخ :

خواجو پل

خواجو پل

''خواجو پل''  یا '' شاھی پل''   ایران کے مرکزی شہر اصفہان کے تاریخی پلوں میں سے ایک ہے ۔ اس پل کو شاه عباس دوّم  کے حکم پر 1060ھ ق میں دور تیموری کے ویران پل پر جدید طرز پر بنایا گیا ۔ اس پل کا شمار زمانہ صفویہ کے خوبصورت  پلوں میں ہوتا  ہے ۔

اس پل کو شاه عباس دوّم صفوی کے حکم پر 1060 ھجری میں بنایا گیا ۔ اس پل کی لمبائی 133 میٹر اور چوڑائی 12 میٹر ہے۔ اس  پل کو '' بابا  رکن الدّين''  ،  ''شیراز''  اور  ''حسن آباد''  کے نام بھی دیۓ گۓ ۔  بابا ركن الدّين کا نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ پل باباركن الدين المعروف عارف  کےڈیرے کے راستے میں واقع تھا۔ حسن آباد کا نام اس لیۓ رکھا گیا کیونکہ اس کی بنیاد حسن بيك تركمان کے زمانےمیں رکھی گئ اور شیراز اس لیے کہا گیا کہ اس زمانے میں شیراز کے مسافر اس پل سے گزرتے تھے اور آخرکار  ''خواجو پل''  کا نام اس لیے دیا گیا کہ یہ محلہ خواجو میں واقع ہے ۔

خواجو پل

خواجو پل کو اپنی معماری اور ٹائلوں پر کیے گیے کام کی آرائش کی وجہ سے دریا کے دوسرے پلوں پر برتری حاصل ہے ۔ دور صفوی میں اس پل کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین پلّوں میں سے ہوتا تھا۔ اصل میں یہ پل  ایک قسم کا بند بھی ھے ۔  اس طرح کہ اس پل کے دروازے  بند کرنے سے مغربی ضلعے میں ایک دریا بنتا ھے پل کے مشرقي اور مغربي ضلعوں پر ہر ایک کے درمیان ایک عمارت بنائی گئ ہے جو کہ نقاشی سے مزیّن چند کمروں پر مشتمل ہے ۔ اس عمارت کو '' بيگلربيگي''  کہا جاتا ہےجو اس زمانے میں بزرگوں اور امراء کے لیے مختص تھی اور جب مصنوعي دريا  بنایا جاتا تھا ، وہ تیراکی اور کشتی رانی کے مقابلے دیکھتے تھے۔