• صارفین کی تعداد :
  • 1347
  • 9/20/2017
  • تاريخ :

مہدوی حکومت سےلوگوں کےارتباط کی کیفیت

مہدوی حکومت سے لوگوں کے ارتباط کی کیفیت

 

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق اسلامک سائنسز اینڈکلچرل ریسرچ سنٹرکےعلمی بورڈ کے رکن حجۃ الاسلام والمسلمین خدا مراد سلیمیان نے اپنی کتاب(حضرت مہدی علیہ السلام کے عالمی انقلاب میں لوگوں کا کردار) میں لکھا ہے:

امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت میں لوگوں کا کرداران کی عالمی حکومت کے لیے راہ ہموارکرنا ہے۔ مہدوی حکومت سے لوگوں کے ارتباط کی کیفیتہے بلکہ مرید اورمراد اورمحبوب اورمحب کا رابطہ ہوگا۔ایک دین ایسا آئےگا کہ لوگ اتنی پیاس محسوس کریں گے کہ پھروہ اپنے پورے وجود کے ساتھ امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کو سمجھیں گے اوراسے انسان کے اعلٰی اہداف تک پہنچنے کا واحد ذریعہ سمجھیں گے اوراس سے والہانہ محبت کریں گے۔ اس قسم کے نظام میں امام کی حکومت اورلوگوں کے درمیان فقط حکومت اورملت کا رابط نہیں ہے بلکہ مرید اورمراد اورمحبوب اورمحب کا رابطہ ہوگا۔

شیخ طوسی نےامام باقرعلیہ السلام سےایک روایت نقل کی ہے کہ جس میں آپ نےحضرت امام مہدی علیہ السلام کے کوفہ میں داخل ہونے اورپھرلوگوں سےخطاب کے بارے میں فرمایا ہے: امام زمانہ علیہ السلام کے اشتیاق کی وجہ سے لوگ اس قدرگریہ کریں گے کہ امام مہدی علیہ السلام کی باتیں سنائی نہیں دی جائیں گی اورلوگ سمجھ نہیں پائیں گےکہ وہ کیا فرما رہے ہیں۔

وہ انسان کہ جس نےسعادت تک پہنچنےکے لیے ہرراستے کو آزمایا تھا اوربندگلی میں پہنچ چکا تھا، اب وہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا اس قدراشتیاق اورشوق رکھتا ہے اورپھروہ اپنے پورے وجود کے ساتھ ان کی رکاب میں جان کی قربانی دینےکے لیےتیار ہوجائےگا۔

اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ لوگ اورحکمران ایک دوسرے جدا نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے کے حامی ہیں اورحکمران اورلوگ ایک دوسرے پرحقوق رکھتے ہیں کہ روایات میں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:

الف ۔ لوگوں کے امام پرحقوق

 اللہ تعالیٰ کی مخلوقات کےعنوان سے لوگوں کی کچھ انفرادی اورسماجی ضروریات ہیں کہ جن میں سے بعض ضروریات معاشرے کے قائد اوررہبر کے ذمہ ہیں کہ جنہیں معاشرے کے امام اوررہبر پرلوگوں کے حقوق کےعنوان سے یاد کیا جاتا ہےکہ جن میں سے بعض مدرجہ ذیل ہے:

۱۔ بھلائی چاہنا

 اسلامی تعلیمات میں حکومت کی بنیاد معاشرے کے لوگوں کےلیے بھلائی چاہنےپرقائم ہے۔ البتہ امام مہدی علیہ السلام کے توسط سےعدل کی عالمی حکومت کا قیام اس موضو ع کی بہت زیادہ تاکید کرتی ہے۔ کیونکہ اس حکومت کی بنیاد زمین پرعدل وانصاف کے قیام پراستوار ہے اوراس سے بالاتراوربھلائی کیا ہوسکتی ہے۔

۲۔ رفاہ اورسہولت

حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کی ایک نمایاں خصوصیت تمام لوگوں کے لیےرفاہ اورسہولیات کو فراہم کرنا ہے۔ البتہ ایسی رفاہ نہیں کہ جو لوگوں کی خدا سے دوری کا سبب بنے۔امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: إِذَا قَامَ الْقَائِمُ حَكَمَ بِالْعَدْلِ وَ ارْتَفَعَ فِي أَيَّامِهِ الْجَوْرُ وَ أَمِنَتْ بِهِ السُّبُلُ وَ أَخْرَجَتِ الْأَرْضُ بَرَكَاتِهَا وَ رَدَّ كُلَّ حَقٍّ إِلَى أَهْلِه) جب ہمارے قائم قیام  کریں گے توعدل وانصاف کی بنا پرفیصلے کریں گے اوران کے دورمیں ظلم وستم کا خاتمہ ہوجائےگا اوران کے بابرکت وجود سے راستےمحفوظ ہوں گے اورزمین اپنی برکات اگل دے گی اورہرکسی کو اس کا حق واپس لٹایا جائے گا۔ ‏

۳۔ تعلیم  کا عام ہونا

بے شک انسان کی انفرادی اورسماجی زندگی کے مختلف میدانوں میں تعلیم کا اہم کردارہے ۔ امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کی ایک اہم ترین خصوصیت تمام انسانوں کے درمیان علم ودانش کا فروغ ہے۔ امام صادق علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:

 الْعِلْمُ سَبْعَةٌ وَ عِشْرُونَ جُزْءاً فَجَمِيعُ مَا جَاءَتْ بِهِ الرُّسُلُ جُزْءَانِ فَلَمْ يَعْرِفِ النَّاسُ حَتَّي الْيَوْمِ غَيْرَ الْجُزْءَيْنِ فَإِذَا قَامَ الْقَائِمُ أَخْرَجَ الْخَمْسَةَ وَ الْعِشْرِينَ جُزْءاً فَبَثَّهَا فِي النَّاسِ وَ ضَمَّ إِلَيْهَا الْجُزْءَيْنِ حَتَّي يَبُثَّهَا سَبْعَةً وَ عِشْرِينَ جُزْءاً)۔

علم کے ٧٢جزاء ہیں اورانبیاء جوکچھ لائےہیں وہ فقط دو جزء تھے اورلوگ آج تک ان دو اجزاء کےعلاوہ کوئی اورچیز نہیں جانتے ہیں۔ جب قائم قیام کریں گےتوعلم کے دیگر۲۵اجزاء سے بھی استفادہ کریں گے اورلوگوں کے درمیان نشرکریں گے اوران اجزاء کوبھی ان کے ساتھ ملادیں گے اوراس طرح ٧٢اجزاء کامل ہوجائیں گے۔

۴۔ عقلمندی کا فروغ

 انسانی کمال تک پہنچنے کا ایک راستہ انسانی معاشروں کی عقلانی ترقی ہےکہ امام مہدی علیہ السلام الہی حجت کے عنوان سے اس راہ میں اپنی تمام ممکنہ صلاحیتوں اوراپنے وسائل کو بروئے کارلائیں گے۔

امام باقرعلیہ السلام فرماتے ہیں: إِذَا قَامَ قَائِمُنَا وَضَعَ اللَّهُ يَدَهُ عَلَي رُءُوسِ الْعِبَادِ فَجَمَعَ بِهَا عُقُولَهُمْ وَ كَمَلَتْ بِهِ أَحْلَامُهُمْ)

۵۔ ترقی اورتربیت

انبیائےالہی کا ایک اہم ہدف انسانوں کی الہی تربیت کرنا ہے۔ اللہ کے آخری ذخیرے کےعنوان سے حضرت امام مہدی علیہ السلام بھی انسانوں کی تربیت کے لیے اپنی تمام توانائیوں اورصلاحیتوں سے استفادہ کریں گےتاکہ زمین پرانسانوں کی زندگیوں کےآخری سالوں میں انبیائے الہی کا یہ ہدف بھی پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔