• صارفین کی تعداد :
  • 4064
  • 2/21/2016
  • تاريخ :

نئی نسل کی ذہنی تربیت

نوجوان

بچہ جب جوانی اور نو جوانی کے راستہ میں قدم رکھتا ہے اس میں عاقلانہ تجزیہ و تحلیل اور سمجھنے و برداشت کرنے کی سوچ اور فکر پیدا ہوتی ہے وہ بھی اس طرح کے پھر اپنے بزرگوں کی کسی بات کو بھی دلیل کے بغیر قبول نہیں کرتا ،ماں اپنے بچوں کی سر نوشت اور مستقبل کے متعلق بہت زیادہ پریشان ہیں ،کہ کہیں انکا بچہ منحرف اور کجروی کا شکار نہ ہو جاے ٴ بعض ماں باپ جوانوں کے سوالوں کے بارے میں ان کی شخصیت کا احترام ملحوظ رکھتے ہوے ٴ منطقی اور عاقلانہ برتاو ٴ کرنے کے بجاے ٴ کبھی کبھی برا سلوک کرتے ہیں اور انکو خاموش کر دیتے ہیں ،بڑوں کی طرف سے اس طرح کا سلوک جو عام طور پر شفقت اور ہمدردی کی بناء پر ہوتا ہے جوانوں کے لئے اپنی معرفت اور تلاش کی راہ میں مزید مشکلات کا باعث ہو جاتا ہے وہ احساس کرتا ہے کہ والدین اس کو سمجھ نہیں سکتے یہ صورت حال جوانوں اور ان کے گھرانوں کے لئے مثبت رفتار اور برتاو ٴ کے لئے مضر ہے ․

حالانکہ علم ”روان شناسی “ میں ثابت ہو گیا ہے کہ تشویش رکھنا ،جستجو کرنے کی حس اور رفتار و کردار عقلوں اور نظریات میں غورو فکر کرنا بھی رشد و نمو کی تبدیلیوں میں سے ہی ہے جو نو جوانوں کی معرفت اور عقائد میں فطری طور پر وجود میں آتی ہے اور یہ بات والد ین یا ساتھ میں رہنے والے دیگر لوگوںکی پریشانیوں کا باعث نہیں ہونی چاہئے ،تاکہ تاکہ جوانوں کی ہویت (کہ وہ کیا ہیں )فکر اور عقائد ،تشکیل پانے کے لئے زمینہ فراہم ہو سکے اس لئے کہ یہ دور نہایت حساس ،ہیجان انگیز ،عجیب اور خوشنما ،جسمانی، فکری، باطنی و روحانی تبدیلیوں کا دور ہے اور وہ بھی گذشتہ اور مزید نئے تجربوں کے ساتھ ، بہ موقع دوسروں سے جدا ہونے کا مرحلہ نیز مستقل مزاجی اور اپنی ہویت اور حقیقت کی تلاش کا مرحلہ ہے ․
لہٰذا ان لوگوں کے لئے جو اپنے آپ کو پانا (یعنی اپنی حقیقت تک پہچنا )چاہتے ہیں اور اپنے عقائد کو تقلیدی حالت سے اصلی عقیدوں میں تبدیل کرنے کے خواہش مند ہیں ․
زندگی کے مہم مسائل میں شک کرنا وسوسہ ہونا ،تنقید کرنا کوئی عجیب بات نہیں ہے بلکہ رشد و نمو کے دوران معمولی و عادی تبدیلی ہے۔ ( جاری ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

نوجوان نسل قوم کي پہچان

نوجوان کي اصلاح معاشرے کے ليۓ ضروري