• صارفین کی تعداد :
  • 3307
  • 5/23/2015
  • تاريخ :

پاکستان کے مذہبی گروہوں کے اختلافات  ( حصّہ دوّم )

قیام پاکستان

اہل حديث (وہابيت)
اہل سنت كا دوسرا فرقہ اہل حديث ہے۔اس كي آبادي باقي فرقوں سے كم ہے مگر عقايد كے حوالے سے باقي فرقوں سے سخت تر ہے۔ يہ فرقہ اعتقادات و نظريات كے حوالے سے وہابيت سے ملتا جلتا ہے۔ يہاں تك كہ ان كو وہابي بھي كہا جاتا ہے۔ اس فرقے كے پيروكار اپنے ديني احكامات سعودي مفتيوں سے ليتے ہيں اور انہي كي تعليمات كي پيروي كرتے ہيں۔
ايك بہت دلچسپ نكتہ جو ان فرقوں كے ديني مدارس كي تعداد كے حوالے سے پايا جاتا ہے وہ يہ كہ ان كے ديني مدارس كي تعدادان كي آبادي كے برعكس ہے۔ اس وقت دنيا ميں ديوبندي مدارس ۶۵ فيصد ، جبكہ بريلوي مدارس ۲۵ فيصد، اہل حديث مدارس ۷ فيصداور تمام شيعي مدارس ۴ فيصد كام كر رہے ہيں۔
بريلوي
اہل سنت كا تيسرا فرقہ بريلوي ہے جو كہ ۱۹ ويں صدي ميں ہندوستان ميں وجود ميں آيا۔ يہ فرقہ انگريز اور وہابيت كے خلاف ہے اور جب انگريز ہندوستان كي سرزمين پر آئے اور تسلط قائم كيا، پہلا گروہ جو يہ چاہتا تھا كہ مسلمان قيام كريں اور انگريز شكست كھائيں يہي مكتب بريلوي تھا۔ اس فرقے كا ايك رہبر جسكا نام احمد رضا خان بريلوي تھا۔ اسي كے نام پر اس فرقہ كا نام ركھا گيا۔ يہ فرقہ اعتقادي حوالے سے مكتب تسنن اور تصوف سے ملتا ہے۔ ليكن انكا زيادہ جھكاو تصوف كي طرف ہے۔ مكتب بريلوي حدسے زيادہ شيخ عبدالخالق كي رائے و نظريات كو ترجيح ديتے ہيں۔ اور خود احمد رضا خان بريلوي اپني كتابوں ميں شيخ عبدالحق سے متاثر ہے۔ يہ فرقہ نظريات و اصول كے حوالے سےابن تيميہ اور محمد ابن عبدالوہاب نيز شاہ اسماعيل دہلوي كا مخالف ہے اور ان كو غلط سمجھتا ہے۔
احمد رضا خان بريلوي ابن تيميہ كو (ضالّ و مضلّ) يعني گمراہ اور باعث گمراہي اور اسماعيل دہلوي كو (طاغيۃ النجديۃ) يعني سركش نجد اور اس كي كتاب كو كفريات سمجھتا ہے۔
فرقہ بريلوي اپنے آپ ہي كو حقيقي اہل سنت سمجھتا ہے بريلوي دوسرے فرقوں كي نسبت عقيدتي حوالے سے اتنا سخت نہيں ہيں۔ اس فرقے كے پيروكار مزارات پر بھي جاتے ہيں اور اہل تشيع كو كافر بھي نہيں كہتے۔ احكام ديني كے حوالے سے ان چار اماموں امام ابوحنيفہ ، امام حنبل ، امام شافع اور امام مالك ميں سے ايك امام كے پيروكار ہيں۔
بريلوي ديني مدارس پاكستان و ہندوستان ميں زيادہ ہيں۔ از جملہ دارالعلوم اشرفيہ مباركپور ہندوستان (تأسيس ۱۹۰۸ء) جامعہ حبيبيہ )تأسيس ۱۹۴۰ء) اور دارالعلوم غريب نواز (تأسيس ۱۹۶۵ء) يہ دونوں اللہ آباد ميں ہيں۔جامعہ نعيميہ مراد آباد ميں ہے اور جامعہ رضويہ منظرالاسلام كہ جو كہ بريلي ميں ہے ان دونوں كي بنياد احمد رضا خان بريلوي نے ركھي۔ ۱۹۷۲ ءميں پاكستان ميں بريلوي مدارس كي تعداد تقريباً ۱۲۴ تھي۔ ان كے مشہور تحقيقي مراكز اس وقت كراچي ، لاہور، مباركپور، مانچسٹراور استنبول ميں كام كررہے ہيں۔ ان آخري سالوں ميں بالخصوص ۱۹۸۰ كي دہائي كے بعد ۲۰ويں صدي ميں پاكستان و ہندوستان ميں زيادہ تر فكري و مذہبي واقعات ظاہر ہوئے ۔ انقلاب اسلامي ايران ايك طرف اور دوسري طرف افغانستان پر روسي حملہ بھي ان گروہوں اور فرقوں كي پيدائش كا سبب بنے۔ديو بندي اور اہل حديث كے ديني مدارس نے بريلويوں كو اس بات كي طرف متوجہ كيا كہ وہ بھي اپنے مذہب كي ترويج كيلئےديني مدارس اور يونيورسٹياں بنائيں۔

 

بشکریہ الوقت
 

متعلقہ تحریریں:

قيام پاکستان کے کا خواب اور حقيقت

نظرياتي  لحاظ سے  تاريخ قيام پاکستان