• صارفین کی تعداد :
  • 6349
  • 8/29/2014
  • تاريخ :

اسلامي معاشرے ميں نوجوانوں کا کردار

ہمدردي

اسلام کے ابتدائي ايّام  ميں اسلامي تعليمات نے اس وقت کے نوجوانوں پر اپنے گہرے اثرات چھوڑے اور  نوجوانوں کي بہتر تربيت کي بدولت ايک بہتر اسلامي معاشرے کي بنياد رکھي گئي - جب رسول خدا ï·؛ نے شہر مکہ ميں اپني دعوت کا کھلم کھلا اعلان کيا اور آپطگ کو حکم ملا کہ لوگوں کو آشکارا طور پر اسلام قبول کرنے کي دعوت ديں توسب سے پہلے آپ طگکے گر ويدہ ہونے والے نوجوان تھے-قابل ذکر بات يہ ہے کہ نوجوانوں کا يہ گروہ مکہ کے معروف قبيلہ قريش کے اعليٰ طبقہ اور دولت مند خاندانوں کے لڑکے لڑ کياں تھيں- بيشک،با نشاط جوانوں نے ،جو پسماندہ عرب قوم کي افسوس ناک حالت سے تنگ آچکے تھے اور پتھروں اور لکڑيوں کے بتوں کي پرستش اور زمانہ جاہليت کے فرسودہ توہمات پر مبني رسم ورواج سے احساس کمتري کے شکار تھے،جب پيغمبر اسلام کي روح افزا،ولولہ انگيز اور انسا نوں کو نجات دينے والي فرياد سني ،تو دل وجان سے آپ ص کي دعوت کو قبول کيا-پيغمبر اسلام کے گرانقدر بيانات تمام طبقات کے لئے موثر تھے،ليکن جوانوں کا طبقہ دوسرے طبقات کي نسبت زيادہ دلچسپي کا اظہار کرتا تھا،کيونکہ آنحضرت طگ کے بيانات ان کے اندروني افکار کے جواب اور ان کي روحاني غذا شمار ہوتے تھے-جب آنحضرت ص کے خصوصي نمائندہ مصعب بن عمير،قرآن مجيد کي تعليم دينے اوراسلامي وديني معارف کي نشر واشاعت کے لئے مدينہ آئے توجوانوں نے بڑوں کي نسبت ان کي دعوت کو زيادہ قبول کيا اور ديني احکام کو سيکھنے کے لئے زيادہ دلچسپي کا اظہار کيا- مصعب مدينہ ميں اسعد بن زراہ کے گھر ميں سکونت پذير تھے اور دن ميں قبائل خزرج کے اجتماع ميں جاتے تھے اور انھيں دين اسلام کي دعوت ديتے تھے اوراکثر جوان ان کي دعوت کو قبول کرتے تھے -

جيسا کہ ہم نے ذکر کيا ،پيغمبر اسلام  کے گرانقدر بيانات نے جوانوں ميں ايک بڑي تبديلي پيدا کي کہ جوان ہر وقت اور ہر جگہ اپنے مذہبي عقائد وافکار کا دفاع کرتے تھے اور جاہلانہ افکار کا مقابلہ کرتے تھے-  نوجوانوں نے اسلام کو دنيا کے ہر گوشے ميں پہنچانے کے ليۓ بہت ہي اہم کردار ادا کيا - ( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

گھر کو کيسے جنت بنا‏ئيں

جواني کے بارے ميں سوال ہو گا