• صارفین کی تعداد :
  • 6112
  • 3/10/2014
  • تاريخ :

حقيقي طاقتور جوڑا

عقد اور شادی کے احکام

جب آپ لفظ "طاقتور جوڑا" سنتے ہيں تو آپ کے دماغ ميں کيا آتا ہے؟ سب سے زيادہ امکان يہ ہے کہ يہ ايک مشہور شخصيت  يا ايک معروف کھلاڑي کا  جوڑا ہے جو کہ باقاعدگي سے ايک  سپر مارکيٹ کي دلکشي ميں اضافہ کرتا ہے- يہ ايک ايسا جوڑا بھي ہو سکتا ہے  جس کا اپنا رييالٹي شو ہو اور وہ اس ميں  خاندانوں کے مسائل کو دنيا کے سامنے پيش کرتا ہو يا يہ ايک بہت امير جوڑا  بھي  ہو سکتا ہے جو باقاعدگي سے تمام دنيا کي مختلف جگہوں پر سفرکرتا ہو.

وکي پيڈيا، ايک طاقتور جوڑے کي وضاحت کچھ اس طرح سے کرتا ہے کہ ايک مقبول يا امير مالدار جوڑا جو کہ لوگوں کو سحر زدہ کر  ديتا ہے اور لوگوں کے دلوں کو ايک شديد يا اس سے بھي جنوني انداز ميں موہ ليتا ہے- طاقتور جوڑے کو  لوگ اس نظر سے  ديکھنا پسند کرتے ہيں کہ وہ لوگ کيا کرتے ہيں،کدھر جاتے ہيں ،کيا کھاتے ہيں اور سب سے زيادہ اہم کہ وہ پہنتے کيا ہيں- کچھ لوگ تو اپني زندگي کا معيار ہي اسي چيز کو بنا ليتے ہيں کہ انکو وہي کرنا ہے جو کہ انکا پسنديدہ جوڑا کرتا ہے-

اب تک  ہم  نے " طاقتور جوڑے" کي معاشرتي نقطہ نظر سے وضاحت کي ہے ، اسلام کا نقطہ نظر کيا ہے -

اسلامي روايات ميں شادي کي بھت ترغيب دلائي گئي ھے -

”‌ خدا وند عالم کي منجملہ نشانيوں ميں ايک نشاني يہ ھے کہ اس نے تم ھي سے تمھارا ھمسفر قرار ديا تاکہ تم اس کے ذريعہ سکون دل حاصل کرو اور تمھارے درميان مھر ومحبت قرار دي “

قرآن کريم کي نظر ميں شادي کوئي کثافت اور آلودگي نھيں ھے بلکہ شادي سکون دل کا ذريعہ ھے مھر و محبت کا سبب ھے شادي کي تسکين کو وہ لوگ زيادہ محسوس کر سکتے ھيں جنھوں نے تنھائي کي سختياں برداشت کي ھوں اور کنواري زندگي کے تلاطم کو محسوس کيا ھو -

پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم  نے ارشاد فرمايا :

”‌ اے جوانو ! اگر شادي کرنے کي صلاحيت رکھتے ھو تو ضرور شادي کرو کيونکہ شادي آنکہ کو نا محرموں سے زيادہ محفوظ رکھتي ھے اور پاکدامني و پرھيز گاري عطا کرتي ھے -  ( جاري ہے )

 

تحریر : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان

 


متعلقہ تحریریں:

کامياب ازدواجي زندگي کے ليۓ پانچ سنہري اصول

ازدواجي زندگي کے مسائل