• صارفین کی تعداد :
  • 3531
  • 2/7/2014
  • تاريخ :

تکفيري عناصر کي حققيت ( حصّہ دوّم )

تکفیری عناصر کی حققیت

تکفيريوں کي کھلم کھلا دہشت گردي اور انسانيت سے دور برتاۆ جيسے بچوں اور عورتوں کا قتل عام ، ذہنوں ميں يہ سوال پيدا کرتا ہے کہ کس طرح سے ايک انسان ، شقاوت کے اس درجے پر پہنچتا ہے ؟ وہ عوامل اور وجوہات جو تکفيريوں کے وجود ميں آنے کا باعث بنتي ہيں وہ کيا ہيں ؟ ايران کي مذاہب اسلامي يونيورسٹي کے چانسلر ڈاکٹر احمد مبلغي ، چند بنيادي عوامل کو تکفيري جذبے کے وجود ميں آنے کا عامل قرار ديتے ہيں - ان کي نظر ميں جہل ، تعصب اور فکر افتادہ معاشرے ميں زندگي گذارنا ، تکفيريوں کے وجود ميں آنے کا اہم ترين عامل ہيں - اسلامي محقق ڈاکٹر مبلغي کي نظر ميں تکفيري عناصر ، پروردگار کے ساتھ جو سرچشمۂ رحمت و لطافت اور تمام خوبيوں کا مالک و خالق ہے ، انفرادي اور گہرے رابطے سے دور ہيں -ديندار ہونے اور پروردگار کے ساتھ گہرا رابطہ رکھنے سے انسان  وسيع القلب اور فراخ دل ہوتا ہے - وہي انسان بہت زيادہ صابر ہے کہ جس کے افکار ،اس کے احساسات و جذبات پر غالب نہ آئيں - متقي اور پرہيزگار انسان وسيع القلب ہوتا ہے - وہ دوسروں کے ساتھ الفت و محبت کے ساتھ پيش آتا ہے اور پروردگار کے ساتھ ، جو سرچشمۂ رحمت ہے ، عشق و محبت سے  سرشار رابطے کا حامل ہے - دين اسلام کے رہنماۆں کے پندآموز بيانات وکلمات ميں کہا گيا ہے  کہ کيا دين ، محبت کے علاوہ اور کچھ ہے ؟ ہاں دين اسلام کي حقيقي تعليم ، خالق و مخلوق کے درميان ايک خاص محبت پيدا کرتي ہے اوراس وقت بندہ ، خدا کي محبت کا محور و مرکز قرار پاتا ہے اور اس محبت کو خوشبو کي مانند دوسروں تک پہنچاتا ہے اور سب کو خداوند عالم کي رحمت کي بشارت ديتا ہے - اب اگر خدا کے ساتھ رابطہ محض دکھاوے کا اور سطحي ہو تو اس کے مذہبي اعمال ، فرد ميں باطني تبديلي کا باعث نہيں بنتے ہيں اور وہ فرد معنويت سے خالي اور انساني و رحماني حسن و جمال کے جلووں اور معنويت سے عاري رہتا ہے اور پھر وہ تکفير جيسے خطرناک راستے کو اختيار کر ليتا ہے -تکفيري انسان ، اسلامي جذبے کے بر خلاف ، انسانون کو آرام و آسائش پہنچانے اور عوام کي خدمت کے بجائے انہيں قتل کرتا ہے - ڈاکٹر مبلغي مزيد کہتے ہيں " آج ہميں ضرورت ہے کہ خدا کے ساتھ انسانوں کے رابطے کي کيفيت اور نوعيت ميں ايک بنيادي تبديلي لانے کے لئے منصوبہ بندي کريں - ( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

بربَھاري كا واقعہ

وھابيت كے باني