• صارفین کی تعداد :
  • 2934
  • 1/1/2014
  • تاريخ :

تقويتِ ارادہ              

تقویتِ ارادہ

جوانوں کے نام امام علي  کي وصيتيں (حصّہ اوّل)

تقويٰ ايک مضبوط حصار(حصّہ دوّم)

بہت سے جوان' جو اپنے عزم و ارادے کي کمزوري اور اپنے اندر قوتِ فيصلہ کے فقدان کي شکايت کرتے ہيں اور ان کے علاج کي فکر ميں ہوتے ہيں' وہ کہتے ہيں کہ : ہم نے مذموم اور ناپسنديدہ عادات سے چھٹکارے کے لئے بارہا عزم کيا ہے' ليکن بہت کم کاميابي حاصل کر پائے ہيں-

امام علي  ''تقويٰ'' کو قوت ارادي کي تقويت اور اپنے نفس پر غلبے کا ايک ذريعہ قرار ديتے ہيں ' تقويٰ ہي گناہ اور ناپسنديدہ عادات سے چھٹکارے کے سلسلے ميں نماياں اور موثر کردار رکھتا ہے- آپ  فرماتے ہيں: ياد رکھو کہ گناہ اور لغزشيں ان سر کش اور بے لگام گھوڑوں کي مانند ہيں' جن پر گناہگاروں کو سوارکر ديا گيا ہو اور ان کي لگام کو ڈھيلا چھوڑ ديا گيا ہو اور وہ اپنے سوار کو لے کر جہنم ميں کود پڑيں -جبکہ ''تقويٰ''ان رام کي ہوئي سواريوں کي مانند ہے جن پر ان کے مالکوں کو سوار کيا گيا ہو اور ان کي لگام ان کے ہاتھوں ميں دے دي گئي ہو 'اور وہ اپنے سواروں کو اطمينان اور سکون کے ساتھ جنت ميں پہنچا ديں - (نہج البلاغہ ـ خطبہ 16)

يہ بات پيش نظر رکھني چاہئے کہ يہ کام ناممکن نہيں ہے- اس وادي ميں قدم رکھنے والے افراد کو خداوند عالم کي الطاف ِخفيہ حاصل ہوتي ہيں' جيسا کہ قرآن کريم فرماتا ہے : وَالَّذِينَ جَا ھدُو اْ فِينَا لَنَھْدِ يَنَّھُمْ سُبُلَنَا ( جو لو گ ہماري راہ ميں جہاد کرتے ہيں ہم انہيں ضرور اپنے راستے کي ہدايت کريں گے-سورئہ عنکبوت 29 ـ آيت 69)

2 ـ جواني ميں حاصل مواقع

بے شک کاميابي و کامراني کے متعدد اسباب ووجوہات ميں سے ہے ايک سبب اور وجہ سازگار اور موافق حالات اور مواقع سے ٹھيک ٹھيک فائدہ اٹھانا ہے-جواني کا شمار ايسے ہي مناسب موقعوں ميں ہوتا ہے-

روحاني صلاحيت اور جسماني قوت' وہ قيمتي سرمايہ ہے جسے خداوند عالم جوان کے اختيار ميں ديتا ہے- يہي وجہ ہے کہ پيشوايانِ دين نے ہميشہ جواني کے موقع سے استفادے کي تاکيد کي ہے- اس بارے ميں امام علي  نے فرمايا ہے : بادِ رِالفُرصَةَ قَبلَ اَن تکُونَ غُصَّةَ

( فرصت سے فائدہ اٹھائو قبل اسکے کہ اس کے ہاتھ سے نکل جانے پر رنج و اندوہ کا سامنا کرنا پڑے-نہج البلاغہ ـ مکتوب 31)

آپ  ہي نے آيہء شريفہ :لاَتَنَسَ نَصِيبَکَ مِنَ الدُّنْيَا (دنيا ميں اپنے حصے کو فراموش نہ کرو-سورہء قصص28-آيت77)کي تفسير ميں فرمايا : لاَ تَنسَ صِحتَّکَ وَ قُوَّتک وَفَراغکَ و شَبابَک وَ نَشاطَکَ اَن تَطلُبَ بِھا الاخرَةَ (اپني صحت' طاقت' فراغت ' جواني اور نشاط و بشاشت کے دنوں ميں غفلت نہ برتو(بلکہ)ان ايام سے آخرت کيلئے فائدہ اٹھائو- بحار الانوار-ج68-ص177)

وہ لوگ جو جواني کي نعمت سے صحيح اورکافي استفادہ نہيں کرتے' ان کے بارے ميں امام  فرماتے ہيں : ان لوگوں نے جسماني سلامتي کے دنوں ميں کوئي سرمايہ فراہم نہيں کيا اور زندگي کے ابتدائي زمانے ميں کوئي عبرت حاصل نہ کي -کيا جواني کي تروتازہ عمريں رکھنے والے بڑھاپے ميں کمر جھک جانے کا انتظار کر رہے ہيں؟-(نہج البلاغہ ـخطبہ 81) (جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

نئي زندگي اور احتياط

جوانوں کو گمراہي سے کيسے بچائيں؟