• صارفین کی تعداد :
  • 2741
  • 12/31/2013
  • تاريخ :

تقويٰ ايک مضبوط حصار

تقویٰ ایک مضبوط حصار

جوانوں کے نام امام علي  کي وصيتيں (حصّہ اوّل)

جوانوں کے لئے تقويٰ کي اہميت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے 'جب ہم دورِ جواني کے احساسات 'رجحانات اور تمايلات کو اپنے سامنے رکھيں-

ايک ايسا جوان جو سرکش غرائز'تند و تيز احساسات کي زد پر ہو اورايک ايسے مرحلے سے گزر رہا ہو جس ميں اسکے اندر نفساني خواہشات ' جنسي غريزے اور موہوم خيالات سر اٹھاتے ہيں' تو ايسے جوان کے لئے تقويٰ ايک ايسے مضبوط اور مستحکم قلعے اور حصار کي مانند ہے جو اسے دشمن کے حملوں اور اسکي تباہ کاريوں سے محفوظ رکھتا ہے اور ايک ايسي ڈھال کي مثل ہے جو اسے شياطين کے زہريلے تيروں سے بچاتي ہے -امام علي  فرماتے ہيں : اعلَمُو اعبِاد اï·²ِ اَنَّ التَّقوي دارُ حِصن عَزيزٍ (اے بندگان خدا ! ياد رکھو کہ تقويٰ ايک مضبوط اور مستحکم قلعہ ہے- نہج البلاغہ ـ مکتوب 15ظ )

استاد شہيد مرتضيٰ مطہري فرماتے ہيں کہ : يہ تصور کرنا غلط ہوگا کہ تقويٰ بھي نماز ' روزے کي مانند دينداري کے لوازم ميں سے ہے - تقويٰ تو (دراصل) انسانيت کا لازمہ ہے- آدمي اگر يہ چاہتا ہے کہ وہ حيوانوں کي سي جنگلي زندگي گزارنے کي بجائے ايک انساني زندگي بسر کرے تو لامحالہ اسے چاہئے کہ تقويٰ کي راہ اختيار کرے- (سخن ـ ص26)

ايامِ جواني ميں انسان' ہر لمحے خود کوايک دوسرے سے يکسر مخالف سمتوں ميں جانے والے راستوں کے رو برو پاتا ہے' ان ميں سے ہر راستہ اسے اپني طرف کھينچ رہا ہوتا ہے - ايک طرف اسکا ضمير اور خدائي الٰہام اسے خوبيوں اور اچھائيوں کي طرف دعوت ديتے ہيں'تو دوسري طرف نفساني خواہشات ' نفس امارہ اور شيطاني وسوسے اسے اپني طرف بلاتے ہيں- عقل اور خواہشات' خيراور شر' پاکيزگي اور غلا ظت کے درميان جاري اس محاذ آرائي اور کھينچ تان کا شکار وہي جوان سرخرو ہو سکتا ہے جس کے پاس ايمان اور تقويٰ کے ہتھيارہوں اور جس نے ابتدائے شباب ہي سے خود سازي اور جہاد بالنفس کا اہتمام کيا ہو-

حضرت يوسف  اسي تقويٰ اور مضبوط قوت ارادي کے بل بوتے پر خدا کے سخت امتحان سے کامياب و کامران گزرے اور عزت و سرفرازي کي بلنديوں پر فائز ہوئے - قرآن مجيد نفس کے خلاف حضرت يوسف  کي کاميابي کا سبب دو اہم اور بنيادي اصولوں يعني ''تقوي'' اور ''صبرو تحمل'' کو قرار ديتا ہے' اور فرماتا ہے : ِنَّہُ مَن يَتَّق وَيَصبِرْ فَنَّ اï·² َ لاْ يُضِيعُ اءَجْرَ الْمُحسِنِينَ  (جو کوئي بھي تقويٰ اور صبراختيار کرتا ہے (تو)خداوندِ عالم نيکوکاروں کے اجر کو ضائع نہيں کرتا- سورئہ يوسف 12 ـ آيت 9ظ ) ( جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

امير المومنين عليہ السلام فرماتے ہيں: شادى كرو كہ يہ رسول خدا (ص) كى سنت ہے

نوجوانوں کي فکري تشويش