• صارفین کی تعداد :
  • 3417
  • 11/24/2013
  • تاريخ :

کيا عورت، مرد کا رشتہ مانگ سکتي ہے؟ 2

کیا عورت، مرد کا رشتہ مانگ سکتی ہے؟ 2

کيا عورت، مرد کا رشتہ مانگ سکتي ہے؟ 1(حصہ اول)

يہ مسئلہ صرف نوع بشر تک ہي محدود نہيں ہے بلکہ دوسرے حيوانات بھي اسي طرح ہيں، يہ فريضہ جنس نر (مذکر) کو سونپ ديا گيا ہے کہ وہ مادہ جنس کا عاشق و شيدائي بن کر آگے بڑھے اور مادہ جنس کو بھي فرض سونپا ہے کہ اپنے حسن اور لطافت کو توجہ دے اور ظريفانہ خودداري اور استغناء کے ساتھ، متشدد جنس کا دل شکار کردے اور اس کو اپنے قلب کے حساس رستے سے  اپني مائل کردے اور وہ اپنے ارادے سے اس (جنس مادہ) کي خدمت ميں مصروف ہوجائے"-

خواستگاري اور شادي کي درخواست ـ عورت کي حيثيت و احترام کے تحفظ کے لئے ـ ايک ظريفانہ اور عاقلانہ تدبير ہے- ہم نے کہا کہ يہ ـ جو مرد نياز و طلب و خواستاري کا مظہر اور عورت مطلوبي اور جواب دينے کا مظہر ہے ـ عورت کي حيثيت و احترام کا بہترين ضامن ہے،  مرد کي جسماني طاقت کے سامنے عورت کي جسماني کمزوري کا ازالہ کرتا ہے اور ان کي مشترکہ زندگي ميں توازن کو برقرار رکھتا ہے- يہ ايک قسم کي فطري امتيازي خصوصيت ہے جو عورت کو عطا ہوئي ہے اور ايک قسم کا فطري فريضہ ہے جو مرد کے کاندھوں پر ڈال ديا گيا ہے-

جو قوانين انسان وضع کرتا ہے اور بالفاظ ديگر وہ قانوني تدابير ـ جو انسان بروئے کار لاتا ہے ـ انہيں عورت کے لئے يہ امتيازي خصوصيت اور مرد کے لئے يہ ذمہ داري، محفوظ کرليني چاہئے- خواستگاري (رشتہ مانگنے) کے آداب و فرائض کے لحاظ سے مرد اور عورت کو يکسان سمجھنا، عورت اور اس کي حيثيت و احترام کے لئے نقصان دہ ہے اور اگر اس حوالے سے مرد اور عورت کو يکسان سمجھنا ظاہري طور پر مرد کے فائدے ميں ہے ليکن حقيقت ميں مرد اور عورت دونوں کے لئے نقصان دہ ہے"- (1)

 

حوالہ جات:

(1) نظام حقوق زن در اسلام، صص 40 – 38. 

 

 

ترجمہ : فرحت حسین مہدوی


متعلقہ تحریریں:

قرآن کا خطاب مَردوں سے کيوں ہے؟ 2

"عورت مکمل طور پر شر ہے"، سے کيا مراد ہے؟