• صارفین کی تعداد :
  • 1724
  • 1/14/2009
  • تاريخ :

مفت خور مفتی اور غزہ کا المیہ

gaza

ایک ایسے وقت جب ساری دنیا غزہ کے نہتے اور معصوم شہریوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کررہی ہے اور صیہونی حکومت کے غیر انسانی اقدامات کے خلاف حتی یورپی ملکوں میں بھی بڑے بڑے مظاہرے کئے جا رہے ہیں ، سعودی عرب کے مفتی نے اپنے ایک بیان میں غزہ کی حمایت میں کئے جانے والے مظاہروں کو حرام قرار دیا ہے ۔ اگرچہ سعودی مفتی کے اس فتوے کی کوئی شرعی اور قانونی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی دنیا ان کے فتوے درخور اعتنا سمجھتی ہے لیکن عالم اسلام کے ایک بڑے مرکز کی حیثیت سے سعودی عرب کا یہ کردار بڑا ہی عجیب اور مضحکہ خیز دکھائی دیتا ہے ۔

اس سے قبل بھی سعودی مفتی ایسے کئی فتوے جاری کرچکے ہیں جس سے نہ صرف ان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے بلکہ دشمنان اسلام کے مقابلے میں عالم اسلام کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے حقیقت امر یہ ہے کہ سعودی مفتی کی جانب سے غزہ کے مظلوم اور نہتے شہریوں کی حمایت میں کئے جانے والے مظاہروں کو حرام قرار دیئے جانے کی بنیادی وجہ یہ ہے عرب حکام برسوں پہلے ہی ملت فلسطین کا سودا مٹھی بھر صیہونیوں سے کرچکے ہیں اور اس کا اظہار خود کئی مرتبہ صیہونی حکام بھی اپنے بیانات میں کرچکے ہیں اور غزہ پر تازہ جارحیت کے حوالے سے بھی انہوں نے کہا ہے کہ اس حملے میں انہیں عرب حکام کی حمایت حاصل ہے اور یہ کہ یہ حملہ انہی کے کہنے پر کیا گیا ہے ۔ اس طرح کے بیانات حزب اللہ کے ساتھ 33 روزہ جنگ کے موقع پر بھی صیہونی حکام کی جانب سے سامنے آئے تھے اور اس وقت بھی کئی عرب ملکوں کے چہروں سے نقاب الٹ گئی تھی تا ہم اس وقت حزب اللہ نے صیہونیوں کو ناکوں چنے چبواکر عرب اور اسلامی دنیا میں جو مقام حاصل کیا تھا اس کے پیش نظر عرب ملکوں کے حکام نے اپنے بیانات بدلے تھے ۔ آج بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے اگر صیہونیوں کو حماس کے خلاف اپنی اس جارحیت میں شکست ہوجاتی ہے تو عرب ملکوں کے حکام کوایک بار پھر ہزیمت اٹھائی پڑے گی ۔

 

بہرحال آج یہ بات سب پر عیاں ہوگئی ہے کہ ملت فلسطین اس غیر مساوی جنگ میں بالکل تنہا ہے اور عرب حمیت اور غیرت کا نعرہ لگانے والے عرب سربراہوں سے مدد اور حمایت کی توقع بالکل بے جا ہے ۔ چنانچہ سعودی عرب کے مفتی کے فتوے اور حکومت مصر کے کردار اور دیگر عرب ملکوں کی معنی خیز خاموشی کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قدس کی غاصب صیہونی حکومت اور یہ حکومتیں سب ایک ہی تھالی کے چٹّے بٹّے ہیں جنہوں نے فلسطینیوں کی نسل کشی اور فلسطین کے نام سے مملکت کے خاتمے کا اپنے زعم باطل میں فیصلہ کرلیا ہے تاہم اس درمیان قوموں کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور آج نہیں تو کل غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ ساتھ غدار حکمران اور من گھڑت فتوے دینے والے مفتی تاریخ کے کہٹرے میں کھڑے ہو کر اپنے غیرانسانی اقدامات اور خیانتوں کا جواب دیں گے ۔ انشاء اللہ 

                                      اردو ریڈیو تہران


متعلقہ تحریریں:

 غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت میں تبیان کے صارفین کا بیان

اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی