متعلقه تحریریں
  • فلسطین کی تاریخ اور اس پر تسلط حاصل کرنے کے طریقہ کار
    فلسطین کی تاریخ اور اس پر تسلط حاصل...
    مسئلہ فلسطین فلسطین کی تاریخ اور اس پر تسلط حاصل کرنے کے طریقہ کار کا اصل ماجرا کیا ہے؟ اس مسئلہ کی حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں اثر و رسوخ رکھنے والے یہودیوں کے ایک گروہ کو یہ سوجھی کہ یہودیوں کےلئے ایک الگ ملک کا وجود ضروری ہے
  • بنی اسرائیل اور اسرائیل کی تاریخ
    بنی اسرائیل اور اسرائیل کی تاریخ
    حضرت ابراھیم علیہ السلام کے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور چھوٹے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام تھے
  • ریاست اسرائیل کی حقیقت
    ریاست اسرائیل کی حقیقت
    آسٹروی یہودی تھیوڈور ہرستل یا تیفادار ہرستل جو بڈاپسٹ میں پیدا ہوا اور ویانا میں تعلیم پائی سیاسی صیہونیت کا بانی ہے
  • صارفین کی تعداد :
  • 1653
  • 1/14/2009
  • تاريخ :

مفت خور مفتی اور غزہ کا المیہ

gaza

ایک ایسے وقت جب ساری دنیا غزہ کے نہتے اور معصوم شہریوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کررہی ہے اور صیہونی حکومت کے غیر انسانی اقدامات کے خلاف حتی یورپی ملکوں میں بھی بڑے بڑے مظاہرے کئے جا رہے ہیں ، سعودی عرب کے مفتی نے اپنے ایک بیان میں غزہ کی حمایت میں کئے جانے والے مظاہروں کو حرام قرار دیا ہے ۔ اگرچہ سعودی مفتی کے اس فتوے کی کوئی شرعی اور قانونی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی دنیا ان کے فتوے درخور اعتنا سمجھتی ہے لیکن عالم اسلام کے ایک بڑے مرکز کی حیثیت سے سعودی عرب کا یہ کردار بڑا ہی عجیب اور مضحکہ خیز دکھائی دیتا ہے ۔

اس سے قبل بھی سعودی مفتی ایسے کئی فتوے جاری کرچکے ہیں جس سے نہ صرف ان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے بلکہ دشمنان اسلام کے مقابلے میں عالم اسلام کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے حقیقت امر یہ ہے کہ سعودی مفتی کی جانب سے غزہ کے مظلوم اور نہتے شہریوں کی حمایت میں کئے جانے والے مظاہروں کو حرام قرار دیئے جانے کی بنیادی وجہ یہ ہے عرب حکام برسوں پہلے ہی ملت فلسطین کا سودا مٹھی بھر صیہونیوں سے کرچکے ہیں اور اس کا اظہار خود کئی مرتبہ صیہونی حکام بھی اپنے بیانات میں کرچکے ہیں اور غزہ پر تازہ جارحیت کے حوالے سے بھی انہوں نے کہا ہے کہ اس حملے میں انہیں عرب حکام کی حمایت حاصل ہے اور یہ کہ یہ حملہ انہی کے کہنے پر کیا گیا ہے ۔ اس طرح کے بیانات حزب اللہ کے ساتھ 33 روزہ جنگ کے موقع پر بھی صیہونی حکام کی جانب سے سامنے آئے تھے اور اس وقت بھی کئی عرب ملکوں کے چہروں سے نقاب الٹ گئی تھی تا ہم اس وقت حزب اللہ نے صیہونیوں کو ناکوں چنے چبواکر عرب اور اسلامی دنیا میں جو مقام حاصل کیا تھا اس کے پیش نظر عرب ملکوں کے حکام نے اپنے بیانات بدلے تھے ۔ آج بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے اگر صیہونیوں کو حماس کے خلاف اپنی اس جارحیت میں شکست ہوجاتی ہے تو عرب ملکوں کے حکام کوایک بار پھر ہزیمت اٹھائی پڑے گی ۔

 

بہرحال آج یہ بات سب پر عیاں ہوگئی ہے کہ ملت فلسطین اس غیر مساوی جنگ میں بالکل تنہا ہے اور عرب حمیت اور غیرت کا نعرہ لگانے والے عرب سربراہوں سے مدد اور حمایت کی توقع بالکل بے جا ہے ۔ چنانچہ سعودی عرب کے مفتی کے فتوے اور حکومت مصر کے کردار اور دیگر عرب ملکوں کی معنی خیز خاموشی کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قدس کی غاصب صیہونی حکومت اور یہ حکومتیں سب ایک ہی تھالی کے چٹّے بٹّے ہیں جنہوں نے فلسطینیوں کی نسل کشی اور فلسطین کے نام سے مملکت کے خاتمے کا اپنے زعم باطل میں فیصلہ کرلیا ہے تاہم اس درمیان قوموں کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور آج نہیں تو کل غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ ساتھ غدار حکمران اور من گھڑت فتوے دینے والے مفتی تاریخ کے کہٹرے میں کھڑے ہو کر اپنے غیرانسانی اقدامات اور خیانتوں کا جواب دیں گے ۔ انشاء اللہ 

                                      اردو ریڈیو تہران


متعلقہ تحریریں:

 غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت میں تبیان کے صارفین کا بیان

اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی

قارئین کی تازہ ترین آراء
آل ارسلان تاتاری آل ارسلان آل ارسلان
سعودی حکومت نے اسرائیل کے خلاف کوئی بات بھی نہیں کی اور اب یہ مفتی اس لئے بیان دے رہا ہے کہ اپنے آقاؤں کی بے غیرتی پر پردہ ڈالے۔ آقا اسکی جیب گرم کریں گے اور مفتی ڈالروں‌کے زور پرنئے فتاوا تلاش کرے گا۔
تبیان کا جواب : ہماری یہی کوشش ہے کہ امت اسلام کو درپیش مسائل اور فتنوں سے آگاہ رکھیں ۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے قارئین میں اس بات کی مناسب آگاہی پائی جاتی ہے ۔ آپ کی راۓ کا شکریہ
ھفتہ 24 جنوری 2009
Mahmad_Ilyas
اس میں مفتی کا قصور نہیں ہے بلکہ سعودی حکومت کا قصور ہے جس نے غزہ کہ لڑائی میں مجرمانہ بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسی طرح کا بیان مصر کے تاریخی الازھر دانشگاہ کے مدیر نے بھی اسلام میں جہاد کی نفی کرتے ہوئے دیا تھا اس مدیر کی مخالفت خود انگریزوں‌ نے کی تھی۔ ان لوگوں کو اس طرح کے بیان دیتے تماشہ کرنا حکومت کی کمزوری ہے ایسے لوگوں‌کو ان اہم عہدوں پر رکھ کر ان کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کی نظر میں‌ صرف حلوہ کھانا سنّت ہے۔
غزہ کے قتل عام کے تین ملک مجرم ہیں، اسرائیل، امریکہ، سعودی عرب۔
تبیان کا جواب : خدا کرے کہ امت اسلام میں بیداری پیدا ہو تاکہ متحد ہو کر اسلام دشمن عناصر کا مقابلہ کر سکیں ۔ آپ کی راۓ کا شکریہ
ھفتہ 24 جنوری 2009