• صارفین کی تعداد :
  • 2212
  • 1/14/2009
  • تاريخ :

غزہ کے دردناک المیے پر رہبر انقلاب اسلامی کا پیغام

ayatollah khamenei

بسم اللہ الرحمن الرحیم

انا للہ وانا الیہ راجعون

غزہ میں صیہونیوں کے ہولناک جرائم اورسیکڑوں خواتین بچوں اورمردوں کے قتل عام نےایک بارپھر صیہونی بھیڑیوں کے خونخوارچہرے کوحالیہ برسوں میں ہونے والے ظلم وستم کے پردے کے پیچھے سے نمایاں کردیا ہے اورامت اسلامیہ کی سرزمینوں کے قلب میں اس کافرحربی کے وجود کے خطرے سے  غفلت میں مبتلا اورحقائق سے لاپروا  لوگوں کوجھنجھوڑ دیا ہے ۔ اس ہولناک حادثے کی مصیبت دنیا کے ہرگوشے میں بسنےوالے ہرمسلمان بلکہ ہرباضمیروباشرف انسان کے لئے انتہائی سخت اورناقابل تحمل ہے ۔ لیکن اس سے بڑی ستم ظریفی بعض عرب اورمسلمان ہونے کا دعوی کرنے والی حکومتوں کی (صیہونیوں کے لئے )حوصلہ افزا خاموشی ہے ۔ اس مصیبت سے بڑی اورکون سی مصیبت ہوسکتی ہے کہ مسلمان ممالک نے جنھیں غاصب کافر اورحربی  صیہونی حکومت کے مقابلے میں غزہ کے مظلوم عوام کا دفاع کرنا چاہئے تھا ایسا رویہ اپنایا ہے کہ جرائم پیشہ صیہونی حکام پوری گستاخی کے ساتھ انھیں اپنے اس المناک وہولناک اقدامات کا حامی قرار دے رہے ہیں اوریہ کہہ رہے ہيں  کہ یہ حکومتیں ان کے اس طرح کے مظالم کے حق میں ہيں ؟ ان ممالک کےسربراہان رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضورکیا جواب دیں گے ؟ (یہ سربراہان مملکت ) اپنی قوموں اورعوام کو جویقینی طورپر( غزہ کے) اس المیہ پر عزاداروسوگوارہيں کیا جو اب دیں گے  ؟یقینی طورپرآج مصراوراردن اورديگرتمام اسلامی ممالک کےعوام کے دل فلسطینیوں کے اس قتل عام سے جو ایک طویل غذائی اورادویاتی  محاصرے کے بعد انجام پایا ہے خون ہيں ۔ بش کی جرائم پیشہ انتظامیہ نے اپنے شرمناک دوراقتدارکے آخری دنوں میں اس ہولناک جرائم میں خود کو شریک کرکے امریکی حکومت کو پہلے سے بھی زیادہ روسیاہ کردیا ہے اورجنگی مجرم کے طورپر اپنے جرائم کے ریکارڈ میں اورزیادہ اضافہ کیا ہے ۔

 

   یورپی حکومتوں نے اس طرح کے جرائم پر اپنی آنکھیں بند کرکے اورشاید اس ہولناک واقعہ ميں صیہونیوں کا ساتھ دے کرایک بارپھر انسانی حقوق کی حامی ہونے کے اپنے دعووں  کے جھوٹے ہونے کوثابت کردیا ہے ۔ اوراس طرح انھوں نےخود کو اسلام اورمسلمانوں کےخلاف  دشمن کے محاذ پرکھڑاکردیا ہے ۔ اس وقت عرب علماء مذہبی رہنماؤں اورمصر کے جامعۃ الازہرکے عہدیداروں سے میرا سوال یہ ہے کہ کیا اب وقت نہیں آ گیا ہے کہ اسلام اورمسلمانوں کےلئے خطرے کا احساس کریں ؟ کیا اب اس کا وقت نہيں آ گیا ہے کہ نہی ازمنکراورظالم وجابر حاکم کے سامنے کلمہ حق کہيں اوراس پرعمل کریں ؟ کیا غزہ اورفلسطین میں جوکچھ ہو رہا ہے اس سے بھی زیادہ مسلمانوں کی سرکوبی کے لئے کفارحربی اورامت کے منافقین ہماہنگ ہوں( اوراس سے بھی بھیانک جرائم رونما ہوں ) تب آپ لوگ اپنے فریضے اورذمہ داریوں کا احساس کریں گے ؟ عالم اسلام بالخصوص عرب دنیا کے روشن خیال طبقوں اورذرا‏ئع  ابلاغ سے میراسوال یہ ہے کہ آپ لوگ کب تک اپنی روشن خیالی اور صحافتی ذمہ داریوں سے غفلت برتتے رہيں گے ؟کیا مغرب کی رسوا وذلیل انسانی حقوق کی تنظیمیں اوراقوام متحدہ کی نام نہاد سلامتی کونسل اس سے بھی زیادہ رسوا ہوسکتی ہيں ؟ سبھی فلسطینی مجاہدین اورعالم اسلام کے تمام مومنین پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جیسے بھی ممکن ہو وہ غزہ کے نہتے بچوں خواتین اورمردوں کا دفاع کریں اورجوبھی اس جائزاورمقدس دفاع میں مارا جائے گا وہ شہید ہے ۔اوراس کویہ امید رکھنی چاہئے کہ وہ بدرواحد کے شہداء کے ساتھ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضورمحشور ہوگا ۔

 

اسلامی کانفرنس تنظیم کوچاہئے کہ وہ اس حساس صورت حال میں اپنی تاریخی ذمہ داری پرعمل کرے اوراسے چاہئے کہ وہ ہر طرح کی دفاعی پوزیشن اور معذرت خواہانہ رویہ ترک کرکے صیہونی حکومت کے سامنے ایک مضبوط اورمتحد محاذ تشکیل دے ۔ مسلم حکومتوں کے ذریعہ صیہونی حکومت کوسزا ملنی چاہئے ۔ اس غاصب صہیونی حکومت کے عہدیداروں پر اس ہولناک جرم اوراسی طرح غزہ کے طویل محاصرے کی پاداش میں ایک ایک کرکے مقدمہ چلایا جانا چاہئے اورانھیں سزا دی جانی چاہئے ۔مسلمان قومیں اپنےپختہ  عزم کے ذریعہ ان مطالبات کوعملی جامہ پہنا سکتی ہیں ۔اوراس انتہائی سخت اورحساس صورت حال میں سیاستدانوں، علماء اورروشن خیال لوگوں کی ذمہ داریاں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ سنگین ہیں ۔میں غزہ کے المیہ کی مناسبت سے پیر کے دن عام سوگ کا اعلان کرتا ہوں اورملک کے حکام کواس غم انگیزحادثہ کے تعلق سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی دعوت دیتا ہوں ۔

وسیعلم الذین ظلمواايّ منقلب ینقلبون

سید علی خامنہ ای آٹھ دی تیرہ سوستاسی

انتیس ذی الحجۃ الحرام چودہ سوانتیس ہجری قمری  

 


متعلقہ تحریریں:

 غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت میں تبیان کے صارفین کا بیان

 اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی