• صارفین کی تعداد :
  • 4273
  • 8/13/2013
  • تاريخ :

مسلمان ہند  اور  قديم ہندوستان

سب سے پہلے پاکستان

اس قسم کے پس منظر ميں مسلمان اکابرين کو ہي نہيں عام مسلمانوں کو بھي شدت سے احساس ہونے لگا کہ ہندو مسلم بھائي بھائي کے نعرے درحقيقت ظاہراً ہيں عملاً کچھ اور ہے- اس بات کا اندازہ بہت پہلے سرسيد احمد خان کو تو ہو ہي گيا تھا مگر علامہ اقبال جيسے شاعر و مفکر رہنما کو بھي جلد احساس ہوگيا، چنانچہ انھوں نے اپني اس کہي ہوئي بات کہ:

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

ہم بلبليں ہيں اس کي وہ گلستاں ہمارا

کي نفي خود ان اشعار کے ساتھ کردي کہ:

سچ کہہ دوں اے برہمن گر تو برا نہ مانے

تيرے صنم کدوں کے بت ہوگئے پرانے

پتھر کي مورتوں ميں سمجھتا ہے تو خدا ہے

خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ ديوتا ہے

وطن عزيز پاکستان کو 14 اگست 1947ء کو انگريز کي غلامي سے نجات ملي اور مسلمانان برصغير کو ايک عليحدہ مملکت نصيب ہوئي- يہ اقبال کا خواب اور قائد اعظم کي امنگ تھي - قائد اعظم اور ديگر مسلمان رہنماۆں نے علامہ محمد اقبال کے اس خواب ميں رنگ بھرنے کے ليے انتھک کوششيں کيں ، اسلاف نے بے پناہ قربانياں ديں اور اللہ نے خصوصي کرم کيا جس کے نتيجے ميں آج ہم آزاد فضاۆں ميں اپني مرضي کي زندگي پوري آزادي سے گزار رہے ہيں -

پاکستان مثل مدينہ اللہ تعاليٰ کي طرف سے مسلمانان برصغير کو عطيہ ہے جس کي جتني بھي قدر کي جائے کم ہے مدينہ النبي  مسلمانوں کے لئے آگے بڑھنے کي بنياد تھي تو موجودہ پاکستان مثل مدينہ اللہ تعاليٰ کي طرف سے اس تسلسل کو آگے بڑھانے کا ذريعہ بنے گا انشا اللہ- پاکستان کچھ آساني سے نہيں بن گيا تھا اس کے لئے مسلسل جدوجہد کي گئي تھي اللہ تعاليٰ نے حضرت قائد اعظم محمد علي جناح  کے ہاتھوں سے اس کي بنياد رکھي اور اس کو ہميشہ کے لئے اپني رحمت کے سائے ميں لے ليا يہ کوئي خوش گماني نہيں ہے بلکہ حقيقت ہے. ہندوئوں کي آبادي کے طوفان سے، متحدہ قوميت کے فريب سے، اپنوں کي مخالفت سے جمہوري طريقے اپناتے ہوئے پاکستان کي کشتي کو طوفانوں سے نکال کر کنارے پہچانا صرف اور صرف اللہ تعاليٰ کي مدد اور حضرت قائد اعظم محمد علي جناح  کي ذہانت مسلسل جدوجہد اور اخلاص کي وجہ سے ہوا. اللہ تعاليٰ نے پاکستان کا تحفہ مسلمانان برصغير کو عطا کيا اس کي حفاظت ہمارے ايمان کا حصہ ہے شاعر نے اسي سلسلے ميں کہا تھا اورکيا خوب کہا ہے:

ہم لائے ہيں طوفان سے کشتي نکال کے

اس ملک کو رکھنا ميرے بچو سنبھال کے

ہمار ے آباو اجداد نے اپنے بزرگوں کي قبروں کو چھوڑا، ہزاروں سالوں سے جن علاقوں ميں رہ رہے تھے اُن علاقوں کو چھوڑا اور پاکستان کي مہم ميں حصہ ليا. پورا ہندوستان ان نعروں سے گونج رہا تھا-’’بن کے رہے گا پاکستان‘‘…..’’لے کے رہيں گے پاکستان‘‘…..’’ پاکستان کامطلب کيا ‘‘لا الہ الا اللہ‘‘(جاري ہے )

 

متعلقہ تحریریں :

آزادي کي نعمت کا احساس

نظرياتي  لحاظ سے  تاريخ قيام پاکستان