متعلقه تحریریں
  • انقلاب اسلامی ایران کے پر دشوار مراحل میں امام خمینی (رح) کا قائدانہ کردار
    انقلاب اسلامی ایران کے پر دشوار مراحل...
    بیس جمادی الثانی 1320 ہجری قمری مطابق 24ستمبر 1902 عیسوی کو ایران کے صوبہ مرکزی کے شہرخمین میں بنت رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طیب وطاہر نسل کے خاندان میں آپ ہی کے یوم ولادت با سعادت پر روح اللہ الموسوی الخمینی کی پیدائش ہوئي
  • انقلاب اسلامی کے حوالے سے  آذر کے مہنے میں  رونما ہونے والے  اہم واقعات
    انقلاب اسلامی کے حوالے سے آذر کے...
    3 آذر سنہ 1353 ہجری شمسی کو ایران کی سابق شاہی حکومت کی خفیہ پولیس ساواک کے ایجنٹوں نے تہران کی مسجد جاوید کو حکومت مخالف سرگرمیوں کی بنا پر بند کردیا
  • اسلامی انقلاب کی کامیابی
    اسلامی انقلاب کی کامیابی
    عشرۂ فجر کے پہلے دن یعنی 11 فروری سن 1979 مطابق 12 بہمن 1357 ھ ش کو بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) کئي سال جلا وطنی کے بعد ایران واپس آئے...
  • صارفین کی تعداد :
  • 4101
  • 1/27/2009
  • تاريخ :

دی ماہ میں ہونے والی انقلابی سرگرمیاں

انقلاب اسلامی ایران

9 دی ماہ 1357 ہجری شمسی(29-12-1978) کو ایران کے مسلمان عوام کی تحریک کو کچلنے میں جنرل ازہاری کی فوجی حکومت کی ناکامی کے بعد شاہ نے شاپور بختیار کو وزیر اعظم مقرر کردیا ۔ شاہ ایران اور امریکہ کو امید تھی کہ شاپور بختیار قوم پرستانہ نعروں اور نام نہاد اصلاح پسند پالیسیوں کے ذریعے ایرانی عوام کو انقلاب جاری رکھنے سے روک لے گا لیکن ایرانی عوام نے جو امریکہ اور شاہ کی حکومت کی نیرنگیوں سے آگاہ تھے ۔ شاپور بختیار کی مخالفت شروع کردی اور اسے ملکی اور غیر ملکی طاقتوں کا ایجنٹ قرار دیا بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنے ایک بیان میں بختیار کی حکومت کو ناجائز قرار دیتے ہوئے عوام کو اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دی ۔

انقلاب ایران

سولہ دی 1356 ہجری شمسی (5-1-1979) کو اسلامی انقلاب سے ایک سال قبل تہران کے ایک کثیر الاشاعت اخبار میں بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) کی شان میں ایک توہین آمیز مضمون کی اشاعت کے بعد پورے ایران میں عوامی احتجاج شروع ہوگیا اور اسلامی انقلاب کامیابی کے راستے پر چل نکلا ۔ شاہ کی حکومت جو عوام میں امام خمینی (رح) کے احترام اور اثر و رسوخ سے باخبر تھی ۔ یہ خیال کررہی تھی کہ وہ امام خمینی (رح) کی شان میں گستاخی کرکے ایرانی عوام میں ان کی مقبولیت کم کردے گی اسی مقصد کے تحت ایک سرکاری اخبار میں امام خمینی (رح) کے خلاف ایک مضمون شائع کیا جس میں ان کی شان میں گستاخی اور توہین کی گئی تھی ۔ اس مضمون نے چنگاری کا کام کیا اور انقلاب کی آگ مزيد بھڑکادی اور آخر کار 22 بہمن 1357 ہجری شمسی کو ایرانی عوام نے شاہ کی پٹھو حکومت کا تختہ الٹ دیا ۔

انقلاب ایران

 19 دیماہ 1356 ہجری شمسی (8-1-1978)کو 1342 ہجری شمسی میں تحریک 15 خرداد کے بعد حکومت شاہ کے خلاف قم میں پہلی مرتبہ ایران کے غیور عوام نے وسیع پیمانے پر مظاہرے کئے ۔یوں 14 سال کے بعد ایرانی عوام نے ایک بار پھر اپنے انقلابی جوش و جذبے کا ثبوت دیا ۔ یہ عظیم احتجاجی ریلی تہران کے ایک اخبار میں بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) کی شان میں گستاخی کرنے کے جواب میں نکالی گئی ۔ اس روز علماء اور عوام قم کی ایک بڑی مسجد میں جمع ہوئے اور کھلم کھلا حکومت شاہ کی برطرفی کا مطالبہ کیا ۔شاہ کے کارندوں نے مظاہرین پر حملہ کرکے بہت سے افراد کو شہید کردیا ۔ اس غم انگیز واقعے کے بعد بہت سے علماء کو شہر بدر کردیا گیا یوں 19 دیماہ 1356 ہجری شمسی کا دن ایران کی اسلامی تحریک کے نقطہ عروج کا دن تھا ۔ بالآخر بہمن 1357 ہجری شمسی(11-2-1979) میں اسلامی انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہوگیا ۔ 

انقلاب ایران

   22 دی سنہ 1357 ہجری شمسی(11-1-1979) کو ایران کے اسلامی انقلاب کے حسّاس ترین دور میں جب حکومت امریکہ پہلوی حکومت کو بچانے کے لئے ہاتھ پیر مار رہی تھی بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) نے اسلامی انقلاب کی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے انقلابی کونسل کی تشکیل کا فرمان صادر کیا ۔ اس کونسل کا اہم ترین فریضہ شاہ کی حکومت کے خلاف عوام کی تحریکوں میں ہم آہنگی لانا اور اسلامی انقلاب کے اہداف کو آگے بڑھانا تھا ۔ حضرت امام خمینی (رح) نے اس سلسلے میں ایک فرمان جاری کرکے فرمایا : مسلمان ایرانی عوام کا مطالبہ صرف یہی نہیں ہے کہ شاہ چلا جائے اور شاہی نظام حکومت ختم ہوجائے بلکہ اسلامی جمہوریہ کی تشکیل تک جو قوم کی آزادی و خود مختاری اور سماجی عدل و انصاف کی ضامن ہے ایرانی قوم کی جد وجہد جاری رہے گی ۔ صرف ایک ایسی عادل اسلامی حکومت کی تشکیل کے ذریعے ہی جس کو عوام کی حمایت حاصل ہو اور جس میں پوری قوم کی نمائندگی ہو ، زراعت ، اقتصاد اور ثقافت کے شعبوں میں شاہی حکومت کے غلط اقدامات کی تلافی اور کمزور اور محنت کش طبقوں کے مفاد میں ایران کی تعمیر نو کی جا سکتی ہے ۔ واضح رہے کہ شاہی حکومت کے زوال کے بعد انقلابی کونسل نے قانون سازی کا فریضہ انجام دیا ۔ 

انقلاب ایران

 23 دی 1357 ہجری شمسی (12-1-1979 )کو ایران کے کئی شہروں میں جلوس نکالے گئے اور مظاہرے ہوئے جن کے بعد شاہی حکومت کے کارندوں اور ایرانی عوام کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں ۔ان جھڑپوں میں کئی افراد شہید اور زخمی ہوئے مگر ان جلوسوں کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ یہ جلوس اور مظاہرے ایرانی کمپنیوں اور کارخانوں سے غیر ملکی کارندوں کے نکالے جانے پر منتج ہوئے ۔ اس کے علاوہ اس دن کئی لاکھ یونیورسٹی طلباء اور عوام نے تہران یونیورسٹی کے احاطے میں عظیم الشان اجتماع کرکے شاہی حکومت کی مخالفت کا اعلان اور حضرت امام خمینی (رح) کی پیرس سے ایران واپسی کے مطالبے پر تاکید کی ۔یونیورسٹی میں یہ عظیم الشان اجتماع اور مظاہرے ایسے حالات میں انجام پائے جب شاہی حکومت کے کارندوں نے تہران یونیورسٹی کو اپنے محاصرے میں لے رکھا تھا ۔ اسی دوران امام خمینی (رح) نے ایک پیغام جاری کرکے عوام کو شاہی حکومت کے ایجنٹوں کی سازشوں سے آگاہ کیا۔

انقلاب ایران

    24 دی ماہ 1357 ہجری شمسی(13-1-1979) کو شاہ ایران نے کہ جس میں اسلامی انقلاب کی پر تلاطم امواج کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں تھی ۔ اپنے چند سیاسی آلہ کاروں کو شاہی کونسل کی تشکیل پر مامور کیا تاکہ اپنے خیال میں بڑھتے ہوئے عوامی احتجاج کو کم کرسکے اپنے اس اقدام کے ذریعے شاہ ایران کی مجاہد قوم کو فرسودہ شاہی نظام کو باقی رکھنے پر قائل کرنا چاہتا تھا ۔ لیکن ایران کی آگاہ و بیدار قوم نے شاہی حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) کی حمایت کا اعلان کیا ۔دریں اثنا فوج کی بھی ایک کثیر تعداد شاہ کے مخالفین میں شامل ہوگئی ۔ لوگوں کی طرف سے اسلامی حکومت کی تشکیل کے مطالبے کا جواب دیتے ہوئے امام خمینی (رح) چند دنوں بعد نئی انقلابی حکومت تشکیل دینے کا اعلان کیا ۔ یہ خبر پھیلنے کے بعد شاہی کونسل کے سربراہ جلال الدین تہرانی امام خمینی (رح) کے ساتھ ملاقات کرنے کے لئے فرانس گیا اور ان سے ملاقات کی اجازت مانگي ۔ امام خمینی (رح) نے جلال الدین تہرانی سے ملاقات کے لئے دو شرطیں رکھیں ۔ ایک یہ کہ جلال الدین تہرانی شاہی کونسل کی صدارت سے استعفیٰ دے دے اور دوسری یہ کہ وہ شاہی کونسل کے غیر قانونی ہونے کا اعلان کرے ۔جلال الدین تہرانی نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور اس طرح شاہی کونسل عملا" تحلیل ہوگئی ۔  

انقلاب ایران

 25دی 1357 ہجری شمسی (14-1-1979)کو ایران کے عوام اور شاہ کے فوجیوں کے درمیان وسیع پیمانے پر جھڑپیں ہوئیں ۔ ان جھڑپون کے بعد بہت سے فوجی ، جو یہ سمجھ چکے تھے کہ عوام کی جد و جہد بر حق ہے ، عوام سے مل گئے ۔ عوامی تحریکوں میں فوجیوں کا شامل ہونا مسلح افواج کے افکار و خیالات میں بنیادی تبدیلی کی علامت تھا ۔ اس سلسلے میں اسلامی انقلاب کے رہبر کبیر حضرت امام خمینی (رح) نے متعدد پیغامات جاری کرکے فوجیوں کو عوام میں شامل ہونے کی دعوت دی اور ان سے کہا کہ اسلام اور اس کے احکام کے دفاع اور تحفظ کے لئے مسلمان ہم وطنوں کے ساتھ مل کر وطن کو غیروں کے تسلط سے رہائی دلائیں ۔

 

 26 دی 1357 ہجری شمسی(15-1-1979) کو مسلمان ایرانی عوام کی تحریک میں شدت آنے کے بعد شاہ ایران محمد رضا پہلوی نے علاج کے بہانے ایران سے راہ فرار اختیار کی ۔ اس نے ایسے عالم میں ایران سے فرار کیا جبکہ ایران کے تمام عوام شاہی نظام کے خاتمے اور اسلامی حکومت کے قیام کا مطالبہ کررہے تھے ۔ شاہ کے فرار سے ایرانی عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور اس کو انہوں نے اپنی اہم کامیابی قرار دیا ۔اس سے چند روز قبل حضرت امام خمینی (رح) نے جو پیرس میں تھے اپنے ایک پیغام میں فرمایا تھا ۔ سلطنت سے کنارہ کشی کے بغیر شاہ کے فرار سے صورتحال میں تبدیلی نہیں آئے گی ۔پہلوی حکومت کا مکمل طور پر خاتمہ ضروری ہے ۔امام خمینی (رح) کے اس پیغام کے بعد عظیم الشان جلوس نکالا گيا ۔شاہ کے فرار کے بعد عوام خوشی کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور اسلامی انقلاب کی مکمل کامیابی تک اپنے درمیان مکمل اتحاد و یک جہتی کا اعلان کیا ۔

انقلاب ایران

 29 دی سنہ 1357 ہجری شمسی (18-1-1979)کو ایران کی غیور قوم نے شاہی حکومت کے آخری مہرے شاہ پور بختیار کی حکومت کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ مظاہرین شاہی حکومت کی برطرفی ، سلطنت کے غیر قانونی ہونے کا اعلان کرنے اور ایران میں اسلامی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کررہے تھے ۔ اسی روز حضرت امام خمینی (رح) نے پیرس میں ملت ایران کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ " میں بہت جلد آپ سے آملوں گا تا کہ آپ کی خدمت میں رہوں اور آپ کی شجاعت و بہادری کے سہارے مشکلات کو حل کرسکوں اور آپ کے ہم آواز اور ہم قدم ہوتے ہوئے ایران کی آزادی و خودمختاری کے لئے کوشش کرسکوں ۔

 

 30 دی سنہ 1357 ہجری شمسی (19-1-1979)کو امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی ایران واپسی کی خبر وسیع پیمانے پر شائع ہوئی ۔ اس خبر کے منظر عام پر آتے ہی ایرانی عوام کے جوش و خروش میں بے پناہ اضافہ ہوگیا اور ان کے استقبال کی تیاریاں زور و شور سے شروع ہوگئیں ۔ دوسری جانب امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے ایران واپسی کے فیصلے کے اعلان سے شاہ کی حکومت کے کارندوں میں سخت اضطراب پیدا ہوگیا ۔ ان میں سے بہت سے استعفیٰ دینے اور ایران سے فرار ہونے پر مجبور ہوگئے ۔ شاہ کی حکومت سے وابستہ بعض فوجیوں نے بھی نہتے عوام پر حملہ کرکے پہلوی حکومت کو بچانے کی آخری کوشش کی لیکن کارآمد ثابت نہ ہوئی بلکہ کامیابی کے حصول کے لئے ایرانی عوام کے ارادے مزید پختہ ہوگئے ۔

                    تہران اردو ریڈیو سرویس