• صارفین کی تعداد :
  • 1805
  • 4/15/2012
  • تاريخ :

اشاعت اسلام کے مرکزي ايشيا پر اثرات ( حصّہ نہم )

بسم الله الرحمن الرحيم

فرغانہ کے علاقے ميں مسلمانوں کي آبادي بيس فيصد کمي ہوگئي تھي ان ميں کتنے لوگ وبائي امراض کے پھيلنے کي وجہ سے مرے اور کتنے افرا جنگ ميں مارے گئے کسي کے لئے مشخص نہيں ہے- مرنے والوںکي صحيح اور دقيق تعداد کا توعلم نہيں ہے ليکن ان داخلي جنگوں ميں کم سے کم دس لاکھ آدمي جاں بحق ہوئے-

1919ء سے 1925ء تک حکومت کا اسلام اور مسلمانوں کے سلسلے ميں محدود اور درميانہ نظريہ تھا، سوشيالسٹي حکومت چاہتي تھي کہ مسلمانوں کو ٹھنڈا رکھا جائے کيونکہ سوشياليسٹي قانون کے سايہ ميں مسلمانوں کو ان کے مذہبي حقوق دينا روسي ترازيوں کے حقوق دينے سے زيادہ بہتر ہے اورےہ لوگ حکومت کے لئے زيادہ کارآمد ثابت ہوسکتے ہيں، لہٰذا خود لينين نے کہ جو اس طرح کي تھيوري کے مروجين ميں سے تھا اجازت دي کہ مسلمان اپني کچھ مساجد اور مدرسوں کو کہ جن کو فوج نے مسمار کرديا تھا دوبارہ بناليں ليکن يہ سازش زيادہ دن تک نہ چل سکي، جب اسٹالين اپني خاص چالاکيوں کي وجہ سے حکومت پر مسلّط ہونے ميں کامياب ہوگيا تو اسلام اور مسلمانوں کے اوپر بلاواسطہ حملوں کي تجويز پاس کي گئي، مدارس اور مساجد کومسمار کرايا جانے لگا، يا بند کرديا گيا، بہت سي تاريخي مساجد کہ جو لکڑي کي بني ہونے کي وجہ سے مشہور اور اسلامي معماري کا شاہکار تھيں، جلاديا گيا، مال اور جائداديں اور اوقاف ہڑپ کرليے گئے، دروس اور مباحث اسلامي کو ممنوع قرار دے ديا گيا- شريعت کي عدالت ختم کردي گئي، سيکڑوں اور ہزاروںں مسلمانوں کو جسماني اذيتيں پہنچائي گئيں يا ان کو قتل کرديا گيا، ، يہاں تک کہ جدّت پسند اور روشن فکروں کے رہنماؤ ں کو کہ جو کومنسٹوں کے ہمراہي اور ہمفکر تھے وہ بھي امان ميں نہ تھے، ان کو ماسکو لايا جاتا تا کہ آگ کے سپرد کيا جائے(41) 19020ء کے آخر تک 10 لاکھ سے زيادہ مسلمانوں نے افغانستان کي طرف ہجرت کي، مہاجروں کے دوسرے قافلوں نے ترکي، وسطي ايشيا يہاں تک کہ ہندوستان ميں جاکر پناہ لي-